ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی دیسی دواؤں کیلئے رہنمائی میں ناکام

اسلام آباد: ملک میں دیسی اوریونانی دواؤں کی مینو فیکچرنگ اوراس طریقہ علاج کی رہنمائی کیلیے قائم ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کوئی مثبت کردار اداکرنے میں یکسر ناکام ہو چکی ہے جب کہ شعبہ طب کے فروغ کے لیے قائم قومی طبی کونسل محض رسمی ادارہ بن کر رہ گئی ہے۔

ذرائع نے بتایاکہ اس وقت ملک میں54 ہزارسے زائدحکیم اورطبیب دیسی طریقہ علاج کے تحت 70 فیصد آبادی کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کررہے ہیں، حکیموں اور طبیبوں کو 2012 میں قائم ہونے والی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے ماتحت کرنے سے دیسی دوا سازی کی صنعت لاوارث ہوگئی، ڈی آراے کے تحت حکمیوں کی چیکنگ کے لیے ڈرگ انسپکٹروں کی خدمات لینے کا فیصلہ کیاگیا جس پر تاحال عمل نہیں ہو سکا، اس طرح دیسی اور یونانی دواؤں کا نظام بغیر کسی اتھارٹی کے ہی چلایاجا رہا ہے۔

قومی طبی کونسل جووزارت صحت کاذیلی ادارہ ہونے کے ساتھ ساتھ دیسی دوائیں تیارکرنے اورحکیموں کی رجسٹریشن اورنئے کالجوں میںتعلیمی معیارکاذمے دارہے کے ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت خودسوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔کونسل کے ایڈمنسٹریٹر حکیم رضوان حفیظ اپنی مدت پوری ہونے کے باوجود اس عہدے پر براجمان ہیںان کی طرف سے دیسی دواؤں کے معیار کی جانچ پڑتال کے لیے تیارکیاگیا طبی فارماکوپیاابھی تک متنازع بنا ہواہے کیونکہ فارما کوپیا کا ابھی تک گزٹ نوٹیفکیشن نہیں ہوسکا۔ حکیم رضوان نے رابطے پر بتایا کہ کونسل کے انتخابات کو ہوئے 8 ماہ ہوچکے ہیں کیس عدالت میں ہے فیصلہ آنے پر نئی طبی کونسل تشکیل دے دی جائے گی۔

سیاسی بحران سے پاک چین منصوبے متاثر نہیں ہونے چاہئیں، آصف زرداری

بیجنگ: سابق صدرآصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کو چین کے شہر بیجنگ میں سندھ بزنس کانفرنس میں شرکت کی۔

چین کے اہم گروپوں اورسرمایہ کارکمپنیوں نے اس کانفرنس میںشرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدرآصف زرداری نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں معاشی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔ سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے بھی اس کانفرنس سے خطاب کیا۔ کانفرنس سے قبل سندھ حکومت اور چین کے ٹرانسپورٹ گروپوں کے درمیان تین ایم اویوز پر دستخط ہوئے۔ ایک ایم او یوکراچی میں ماس ٹرانزٹ ٹرین اور دیگر 2 ایم او یوز کراچی اور سندھ میں ٹرانسپورٹ کے حوالے سے ہیں۔

علاوہ ازیںسابق صدرکے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابرکے مطابق آصف زرداری نے بدھ کے روز بیجنگ میں چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ سے ملاقات کی،ملاقات میں پاک چین تعلقات، خطہ کی صورتحال کے ساتھ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور سابق وزیر داخلہ رحمن ملک، شیری رحمٰن بھی آصف زرداری کیساتھ تھے۔ آئی این پی کے مطابق آصف زرداری نے اس موقع پرکہا کہ پاکستان کی سیاسی صورتحال کی وجہ سے چین کے تعاون سے شروع ہونے والے ترقیاتی منصوبوں پرکام متاثر نہیں ہوناچاہیے۔

انھوں نے کہا کہ تجارتی راہداری، گوادر بندرگاہ اور بجلی کے تمام منصوبے اپنے وقت پر مکمل ہونے چاہئیں۔ ذرائع کے مطابق چینی وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں دوست ملک میں پیدا سیاسی حالات پرتشویش ہے۔ ہماری تمام فریقین سے درخواست ہے کہ بات چیت سے تمام ایشوز کو حل کیا جائے۔ چینی وزیر اعظم نے کہا کہ چین پاکستان سے اپنے تعلق اور دوستی کو خاص اہمیت دیتاہے اور اسی وجہ سے ہمیں پاکستان کے حالات پر تشویش ہے۔

انھوں نے اس امیدکا اظہار کیا کہ پاکستان کے تمام رہنما وسیع تر مفاد میں اپنے تمام ایشوزکوجلد حل کر لیںگے۔چینی وزیراعظم نے یقین دلایاکہ اس وقتی صورتحال کی وجہ سے پیپلزپارٹی کی سابق حکومت اورن لیگ کی موجودہ حکومت کے ساتھ طے پانے والے تمام ترقیاتی منصوبوں کے معاہدوں پرپوری طرح سے عملدرآمد کیاجائے گا۔ ادھر سندھ سرمایہ کاری بورڈ اور چائنا پاک اکنامکس ٹریڈ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آصف زرادری نے کہاکہ گوادرپورٹ چین کو دینا دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی لازوال مثال ہے۔

انھوں نے کہا کہ سندھ قدرتی اورمعدنی وسائل سے مالا مال ہے ۔ آصف زرداری نے کہا کہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے دوطرفہ تجارت اہم ہے۔انھوں نے کہا کہ چین کے تاجر برابری کی بنیاد پرحکومت سے ملکر تجارت کریں،ذرائع کے مطابق اس موقع پر چائنا اکنامکس کوآپریشن کے حکام نے سندھ میں سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی۔

سیاسی بحران پر وزیر اعظم نے عسکری قیادت سے حتمی رائے طلب کرلی

کراچی: تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے درمیان مذاکراتی عمل میں مکمل طور پر ڈیڈلاک آنے کے بعد حکومت نے دھرنے کومنتشر کرنے کی پالیسی پرغورشروع کردیا تاہم یہ آخری آپشن ہوگا، اس حوالے سے حکومت کی اہم شخصیات اور اعلیٰ ترین حلقوں سے مشاورت جاری ہے۔

انتہائی باخبر ذرائع کا کہناہے کہ وزیر اعظم نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے عسکری قیادت سے حتمی رائے طلب کرلی ہے کہ اس گھمبیرصورت حال پر کیسے قابو پایا جائے ،اس حوالے جلدازجلدرائے دی جائے،اہم حلقوں کی جانب سے حکومت کو آگاہ کیا گیاہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے آپشن سے فی الحال گریزکرے۔

معاملے کوحل کرنے کیلیے درمیانی راستہ تلاش کیا جارہاہے،حکومتی سطح پر کچھ تبدیلیاں ،عمران خان اور طاہرالقادری کے پاس تمام پارلیمانی جماعتوں کا وفد بھیجنے پر بھی غور کیا جارہا ہے تاہم اس کاحتمی فیصلہ جمعرات کو صورتحال دیکھ کرکیاجائے گا،اہم حلقوں نے عوامی تحریک اورتحریک انصاف کو آگاہ کردیاہے کہ پرامن رہیں اورقانون کوہاتھ میں نہ لیں اورریاستی اداروںکی طرف جانے سے گریزکریں۔