پندرہ برس گزر جانے کے بعد بھی پاکستان فوج کے سربراہ جنرل آصف نواز کی اچانک موت ان کے اہل خانہ کے مطابق ایک حل طلب معمہ ہے۔ ان کی موت آٹھ جنوری انیس سو ترانوے کو ہوئی تھی۔ مرحوم جنرل آصف نواز کے بھائی شجاع نواز نے پاکستان فوج پر لکھی اپنی تازہ کتاب ’کراس سورڈز‘ میں الزام لگایا ہے کہ آج تک فوج اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ اس بات کو ماننے کے لیئے تیار نہیں کہ فوجی سربراہ کو قتل کیا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے اس بابت تحقیقات کئی مواقع پر روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مبصرین کے خیال میں کتاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے جنرل آصف نواز کی موت پر قدرے خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔ ان کی موت کے وقت مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف وزیراعظم تھے۔ ضمیمے کی اہم بات مرحوم جنرل کی اہلیہ کو مبینہ طور پر وزیراعظم ہاؤس کے بعض ملازمین، جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے ہیں، کی جانب سے ملنے والے تحریری پیغامات ہیں جن کا کتاب میں انگریزی ترجمہ شامل کیا گیا ہے۔
ان پیغامات میں الزام لگایا گیا ہے کہ جنرل آصف نواز کو حکومتی اہلکاروں کے کہنے پر زہر دے کر مارا گیا۔ ایسے ہی ایک پیغام میں بتایا گیا ہے کہ ایک ملازم نے جنرل کی پلیٹ پر زہر کو پالش کی صورت میں لگایا۔
جنرل آصف نواز کی موت سے قبل اس وقت کے وزیراعظم کے ساتھ ان کے کئی معاملات پر اختلافات بتائے جاتے ہیں جو کہ ان کے اہل خانہ کے شک کی ایک وجہ معلوم ہوتے ہیں۔ تاہم ان الزامات کی ماضی میں تردید ہوتی رہی ہے لیکن اس تازہ کتاب کے بعد نواز شریف یا فوج کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
کتاب کے مصنف شجاع نواز انیس سو اکہتر تک سرکاری ٹی وی کے ساتھ بطور پروڈیوسر منسلک رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے نیو یارک ٹائمز، عالمی ادارہ صحت اور آئی ایم ایف میں بھی مختلف عہدوں پر کام کیا ہے۔
ان کا تعلق ایک ایسے خاندان ہے جس کے اکثر لوگ فوج میں اہم عہدوں پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔ فوجی رموز سے واقف ایسے ایک شخص کی بظاہر بے بسی اس کتاب میں کھل کر سامنے آئی ہے۔
امریکہ میں مقیم شجاع نواز نے بھائی کی موت کے بعد اپنے طور پر ان کے بالوں کا ایک امریکی ادارے نیشنل میڈیکل سروسز کے ماہر ڈاکٹر ویچ سے تجزیہ کروایا تھا جس کے مطابق مرحوم کے جسم میں سنکھیا (آرسنک) کی مقدار معمول سے کئی گناہ زیادہ تھی۔مصنف کے مطابق سرکاری و فوجی حکام کی جانب سے اس موت کی مکمل تحقیقات سے ہچکچاہٹ سے شکوک و شبہات نے جنم لیا جو آج تک موجود ہیں۔ ستمبر انیس سو ترانوے میں بالاخر ڈاکٹر ویچ سمیت غیرملکی ماہرین کی تین رکنی ٹیم نے جنرل آصف کے جسم کے تجزیے کے لیے نمونے حاصل کیے۔
لیکن ایک دلچسپ بات اس موقع پر اس وقت کے ڈی آئی جی ڈاکٹر شعیب سڈل کا اس کارروائی میں عمل دخل تھا۔ وہ ان ماہرین کے ساتھ تھے اور بعد میں انہیں سیر کے لیے مری لے گئے جس دوران انہوں نے ان ماہرین کو یقین دلایا کہ نمونے محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق جنرل آصف کی موت طبعی تھی۔
شجاع نواز کے بقول وہ آج تک یہ سمجھ نہیں پائے ہیں کہ ان کی تحقیقات اور سرکاری تحقیقات کے نتائج میں فرق کیوں آیا ہے۔ ان کے مطابق نوازشریف کے خلاف بھی کوئی براہ راست ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔
مصنف نے امریکی حکام سے درخواست کی کہ انہیں جنرل آصف کے کے متعلق پاکستانی حکام سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں لیکن انہیں آج تک مثبت جواب نہیں ملا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے اس درخواست کے دو برس بعد انہیں محض اتنا بتایا کہ وہ فیلڈ دفاتر سے معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
مصنف کا کہنا ہے کہ ’وہ توقع کرتے ہیں کہ اگر سرکاری ٹیسٹ میں کوئی مبینہ ردو بدل ہوئی ہے تو یہ بات کسی اندر کے آدمی کے سامنے آنے سے ہی عیاں ہوسکتی ہے‘۔
جب تک جنرل آصف نواز کی موت کا اسرار دور نہیں ہوتا اس وقت تک ان کی موت کو بھی لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق اور حالیہ دنوں میں بےنظیر بھٹو جیسی اہم شخصیات کے قتل کے حل طلب کیسز میں شمار کرنا چاہیے۔
پاکستان فوج کے اقتصادی مفادات پر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی متنازعہ کتاب کی تقریب رونمائی کے برعکس جو حکام نے اسلام آباد میں کہیں بھی نہ ہونے دی، شجاع نواز کی کتاب کی تقریب میں حاضر اور ریٹائرڈ فوجی افسران اور سابق وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب خان اور گوہر ایوب جیسی شخصیات کی موجودگی سے محسوس ہوتا تھا کہ اس کتاب کو شاید اسٹبلشمنٹ آشیر واد بھی حاصل ہے۔

