Wednesday, May 21, 2008

فوج پر نئی کتاب ’کراسڈ سورڈز‘

پندرہ برس گزر جانے کے بعد بھی پاکستان فوج کے سربراہ جنرل آصف نواز کی اچانک موت ان کے اہل خانہ کے مطابق ایک حل طلب معمہ ہے۔ ان کی موت آٹھ جنوری انیس سو ترانوے کو ہوئی تھی۔

مرحوم جنرل آصف نواز کے بھائی شجاع نواز نے پاکستان فوج پر لکھی اپنی تازہ کتاب ’کراس سورڈز‘ میں الزام لگایا ہے کہ آج تک فوج اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ اس بات کو ماننے کے لیئے تیار نہیں کہ فوجی سربراہ کو قتل کیا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے اس بابت تحقیقات کئی مواقع پر روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں اس کتاب کی رونمائی کے موقع پر بھی اس حساس موضوع پر نہ تو شجاع نواز نے کوئی بات کی اور نہ ہی کسی دوسرے نے۔ البتہ اس موت اور اس سے جڑی پراسراریت کا ذکر کتاب کے آخر میں دس صفحات میں محض ایک ضمیمے کے طور پر کیا گیا ہے۔
مبصرین کے خیال میں کتاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے جنرل آصف نواز کی موت پر قدرے خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔ ان کی موت کے وقت مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف وزیراعظم تھے۔

ضمیمے کی اہم بات مرحوم جنرل کی اہلیہ کو مبینہ طور پر وزیراعظم ہاؤس کے بعض ملازمین، جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے ہیں، کی جانب سے ملنے والے تحریری پیغامات ہیں جن کا کتاب میں انگریزی ترجمہ شامل کیا گیا ہے۔

ان پیغامات میں الزام لگایا گیا ہے کہ جنرل آصف نواز کو حکومتی اہلکاروں کے کہنے پر زہر دے کر مارا گیا۔ ایسے ہی ایک پیغام میں بتایا گیا ہے کہ ایک ملازم نے جنرل کی پلیٹ پر زہر کو پالش کی صورت میں لگایا۔

جنرل آصف نواز کی موت سے قبل اس وقت کے وزیراعظم کے ساتھ ان کے کئی معاملات پر اختلافات بتائے جاتے ہیں جو کہ ان کے اہل خانہ کے شک کی ایک وجہ معلوم ہوتے ہیں۔ تاہم ان الزامات کی ماضی میں تردید ہوتی رہی ہے لیکن اس تازہ کتاب کے بعد نواز شریف یا فوج کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

کتاب کے مصنف شجاع نواز انیس سو اکہتر تک سرکاری ٹی وی کے ساتھ بطور پروڈیوسر منسلک رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے نیو یارک ٹائمز، عالمی ادارہ صحت اور آئی ایم ایف میں بھی مختلف عہدوں پر کام کیا ہے۔

ان کا تعلق ایک ایسے خاندان ہے جس کے اکثر لوگ فوج میں اہم عہدوں پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔ فوجی رموز سے واقف ایسے ایک شخص کی بظاہر بے بسی اس کتاب میں کھل کر سامنے آئی ہے۔

امریکہ میں مقیم شجاع نواز نے بھائی کی موت کے بعد اپنے طور پر ان کے بالوں کا ایک امریکی ادارے نیشنل میڈیکل سروسز کے ماہر ڈاکٹر ویچ سے تجزیہ کروایا تھا جس کے مطابق مرحوم کے جسم میں سنکھیا (آرسنک) کی مقدار معمول سے کئی گناہ زیادہ تھی۔
مصنف کے مطابق سرکاری و فوجی حکام کی جانب سے اس موت کی مکمل تحقیقات سے ہچکچاہٹ سے شکوک و شبہات نے جنم لیا جو آج تک موجود ہیں۔ ستمبر انیس سو ترانوے میں بالاخر ڈاکٹر ویچ سمیت غیرملکی ماہرین کی تین رکنی ٹیم نے جنرل آصف کے جسم کے تجزیے کے لیے نمونے حاصل کیے۔

لیکن ایک دلچسپ بات اس موقع پر اس وقت کے ڈی آئی جی ڈاکٹر شعیب سڈل کا اس کارروائی میں عمل دخل تھا۔ وہ ان ماہرین کے ساتھ تھے اور بعد میں انہیں سیر کے لیے مری لے گئے جس دوران انہوں نے ان ماہرین کو یقین دلایا کہ نمونے محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق جنرل آصف کی موت طبعی تھی۔

شجاع نواز کے بقول وہ آج تک یہ سمجھ نہیں پائے ہیں کہ ان کی تحقیقات اور سرکاری تحقیقات کے نتائج میں فرق کیوں آیا ہے۔ ان کے مطابق نوازشریف کے خلاف بھی کوئی براہ راست ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔

مصنف نے امریکی حکام سے درخواست کی کہ انہیں جنرل آصف کے کے متعلق پاکستانی حکام سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں لیکن انہیں آج تک مثبت جواب نہیں ملا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے اس درخواست کے دو برس بعد انہیں محض اتنا بتایا کہ وہ فیلڈ دفاتر سے معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

مصنف کا کہنا ہے کہ ’وہ توقع کرتے ہیں کہ اگر سرکاری ٹیسٹ میں کوئی مبینہ ردو بدل ہوئی ہے تو یہ بات کسی اندر کے آدمی کے سامنے آنے سے ہی عیاں ہوسکتی ہے‘۔

جب تک جنرل آصف نواز کی موت کا اسرار دور نہیں ہوتا اس وقت تک ان کی موت کو بھی لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق اور حالیہ دنوں میں بےنظیر بھٹو جیسی اہم شخصیات کے قتل کے حل طلب کیسز میں شمار کرنا چاہیے۔

پاکستان فوج کے اقتصادی مفادات پر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی متنازعہ کتاب کی تقریب رونمائی کے برعکس جو حکام نے اسلام آباد میں کہیں بھی نہ ہونے دی، شجاع نواز کی کتاب کی تقریب میں حاضر اور ریٹائرڈ فوجی افسران اور سابق وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب خان اور گوہر ایوب جیسی شخصیات کی موجودگی سے محسوس ہوتا تھا کہ اس کتاب کو شاید اسٹبلشمنٹ آشیر واد بھی حاصل ہے۔


گندم ذخیرہ کرنے والوں کو وارننگ

حکومتِ پاکستان نے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اڑتالیس گھنٹے کے اندر اپنی گندم حکومت کو بیچ دیں ورنہ ذخیرہ کردہ گندم چھاپے مار کر ضبط کر لی جائے گی۔

یہ فیصلہ سنیچر کو خوراک و زراعت کے انچارج وزیر نذر محمد گوندل کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جس کا مقصد ملک میں آٹے کے بحران اور گندم کی سرکاری گداموں میں وافر مقدار میں موجودگی یقینی بنانا ہے۔

حکومت نے کہا ہے کہ پیر انیس مئی سے ملک بھر میں گندم کا ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف چھاپے شروع کیے جائیں گے اور جو بھی حکومت کو ذخیرہ اندوزوں کے بارے میں معلومات دے گا حکومت اسے انعام دے گی۔

حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ جو کسان گندم خریدنے والے سرکاری مراکز تک گندم پہنچائے گا اسے حکومت گندم کے مقررہ کردہ نرخ کے علاوہ پچیس روپے فی بوری ٹرانسپورٹ چارجز کی مد میں بھی ادا کرے گی۔

وزارت خوراک و زراعت کے ترجمان کے مطابق حکومت نے ہدایت کی ہے کہ صوبہ سرحد اور بلوچستان تک گندم لے جانے کے لیے ریلوے کا واحد ذریعہ استعال کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں گندم کی سالانہ کھپت بائیس ملین ٹن ہے جس میں ساٹھ لاکھ ٹن افغانستان کی ضرورت بھی شامل ہے۔

Saturday, May 17, 2008

تیل کی پیداور میں اضافے پر مذاکرات کے لیے صدر بش سعودی عرب پہنچ گئے

امریکی صدر بش تیل کی ریکارڈ اونچی قمیتوں پر مذاکرات کے لیے سعودی عرب میں ہیں۔

صدر بش جمعے کے روز سعودی عرب کے حکمران شاہ عبداللہ سے دارلحکومت ریاض سے باہر اُن کے فارم پر ملاقات کررہے ہیں ۔

توقع ہے کہ صدر بش سعودی عرب سے تیل کی پیداور بڑھانے کے لیے کہیں گے تاکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قمیتوں کے باعث معیشت پر پڑنے والے دباؤ کو کم کیا جاسکے ۔جنوری میں ایسی ہی ایک درخواست کو مسترد کردیا گیا تھا۔

سعودی عرب کے پاس دنیا بھر کے تیل کے ذخائر کا تقریباً پانچواں حصہ ہے اور خام تیل کی امریکی درآمدات کا 14 فی حصہ وہاں سے آتا ہے ۔

صدر بش کے سعودی عرب کے دورے کے کا ایک اور مقصد امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان باقاعدہ تعلقات کی 75 سال مکمل ہونے پر اظہار مسرت ہے۔

جمعے کے روز وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے توانائی کے وسائل کے تحفظ ، پرامن جوہری تعاون کے فروغ ، دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں تعاون بڑھانا اور وسیع پیمانے پر تباہی کے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

امریکی صدر اسرائیل میں تین دن گذارنے کے بعد جمعے کے روز سعودی عرب پہنچے تھے ۔

صدر بش مصرکے صدر حسنی مبارک ، فلسطینی صدر محمود عباس اور اردن کے شاہ عبداللہ سے ملاقات کے لیے مصر بھی جائیں گے۔

چین میں زلزلے سے متاثرہ علاقے میں زلزلے کا ایک اورشدید جھٹک

چین کے سرکاری خبررساں ادارے نے کہا ہے کہ پیر کے زلزلے کے مرکز کے قریب زلزلے کے بعد ایک شدید جھٹکا آیا ہے۔

خبررساں ادارے شِن ہُوا نے کہا ہے کہ جمعے کے روز لکزیان کاؤنٹی میں رِکٹر اسکیل پر تقریباً چھ کی شدت کے زلزلے کے بعد کے جھٹکے سے مٹی کے تودے گرے جن کے باعث سڑکوں کے رابطے ٹوٹ گئے اور گاڑیاں ملبے میں دب گئیں۔

زلزلے کے بعد کا یہ جھٹکا تلاش اور امدادی کوششوں کو مزید متاثر کرسکتا ہے جبکہ اِس ہفتے کے اصل زلزلے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی امیدوں کے امکان ہر گذرنے والے گھنٹے میں کم سے کم ہوتے چلے جارہے ہیں۔

غیر ملکی امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں متعین ایک لاکھ 30 ہزار فوجیوں کی مدد کے لیے چین پہنچ رہی ہیں ۔ جاپانی امدادی ٹیم کے متعدد ارکان جمعے کے روز وہاں پہنچے جبکہ مزید ارکان بعد میں پہنچیں گے۔

روس ، جنوبی کوریا اور سنگاپور کی ہنگامی ٹیمیں بھی چین روانہ ہورہی ہیں ۔

زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہونے والے صوبے سیچوان کے عہدے داروں نے اب کہا ہے کہ 21 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ توقع ہے کہ مرنے والوں کی تعداد پچاس ہزار تک بڑھ سکتی ہے۔

چینی صدر ہوجن تاؤ جمعے کے روز صوبے سیچوان پہنچے اور اُنہوں نے امدادی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ سات اعشاریہ نو کی شدت سے آنے والے زلزلے میں زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کرنے کی ہرممکن کوشش کریں۔

قصبے بچوان میں جمعے کے روز کم ازکم تین افراد کو زندہ بچالیا گیا جِن میں ایک کلینک کے ملبے سے نکالی جانے والی ایک نرس اور ایک سکول کے ملبے سے نکالا جانے والا ایک بچہ شامل ہے ۔

عہدے داروں کو خدشہ ہے کہ مرنے والوں میں سے بہت سے بچے ہیں، جو زلزلے کے بعد اسکولوں کی عمارتوں کے ملبے میں دب گئے ۔ چین کی ہاؤسنگ منسٹری نے اِس بارے میں ایک تفتیش شروع کردی ہے کہ زلزلے میں لگ بھگ 7 ہزار اسکولوں کی عمارتیں کیوں گریں

اسرائیل اور اُس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی: بن لادن کا تازہ پیغام

دہشت گرد لیڈر اسامہ بن لادن کی طرف سے ایک صوتی پیغام میں کہا گیا ہے کہ اُس کا القاعدہ نیٹ ورک ابھی تک اسرائیل اور اِس کے اتحادیوں کے خلاف سرگرمی سے لڑ رہا ہے ۔

اسرائیل کی مملکت کے 60 سال مکمل ہونے کے موقع پر جاری ہونے والی اِس ٹیپ میں اسامہ بن لادن نے کہا ہے کہ مغرب کےساتھ القاعدہ کی جنگ کا ایک کلیدی محرک فلسطینیوں کے نصب العین کے لیے لڑائی ہے۔ بن لادن نے کہا ہے کہ امریکہ پر 11 ستمبر 2001 کے حملوں کی ایک بڑی وجہ یہ ہی تھی۔

بن لادن کا صوتی پیغام جمعے کے روز اسلامی ویب سائٹس پر پوسٹ کی گئی نسبتاً ایک بڑی ویڈیو کا حصہ تھا۔ تجزیہ کاروں کی جانب سے ابتدائی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ٹیپ میں موجود آواز بن لادن جیسی سنائی دیتی ہے جو افغانستان میں امریکی قیادت کے حملے کے بعد سے کہیں چھپے ہوئے ہیں۔

بن لادن نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے مسائل پر خبر دینے والے مغربی میڈیا نے اسرائیلیوں کو متاثرین کے طورپر اور فلسطیینوں کو دہشت گرد کے طورپر پیش کیا ہے۔ لیکن اُن کا موقف ہے کہ اسرائیلیوں نے جارحیت کی ہے اوروہ فلسطینیوں کی سرزمین پر قابض ہیں ۔

اسرائیلی عہدے داروں نےا ِس پیغام کو ایک جنونی دہشت گرد کی طرف سے دھمکی قرار دے کر اسے مسترد کردیا ہے۔