ریڈزون میں پولیس اورمظاہرین میں جھڑپ، شیلنگ جاری

اسلام آباد :  ریڈ زون میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ایک بار پھر جھڑپ جاری ہے پولیس کی جانب سے شیلنگ جاری ہیں، جس کے باعث متعدد افراد ذخمی ہوگئے ہیں۔

اسلام آباد میں پاک سیکریٹریٹ کے قریب مارگلہ روڈ پرپولیس نے اچانک آگے بڑھتے ہوئے شیلنگ شروع کردی جس پر مظاہرین نے مزاحمت کرتے ہوئے پولیس کو روکنے کی کوشش کی ۔

اے آر وائی نیوز کے رپورٹر ذلقرنین حیدر کے مطابق جھڑپوں کے دوران پولیس کی طرف سے آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیاں فائر کی گئیں، مظاہرین نے آنسو گیس کے شیل واپس اُٹھاکر پولیس کی طرف پھینکنا شروع کردیئے لیکن عوامی تحریک کے سٹیج سے کارکنان کو پارلیمنٹ ہاﺅس کی طرف واپس آنے کے اعلانات کیے جارہے ہیں ۔

تصادم کا یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، مشتعل مظاہرین کی جانب سے پولیس اہلکاروں کے خلاف نعرے بازی جاری ہے، جب کہ مظاہرین کو روکنے اور منتشر کرنے کیلئے پولیس کی جانب سے ہوائی فائرنگ اور ربڑ کی گولیوں کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے باعث متعدد افراد زخمی ہوگئے،زخمیوں کو پیمز ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

نواز شریف کے طرز حکمرانی سے مطمئن نہیں لیکن آئین کی حفاظت قوم کی ذمہ داری ہے، سراج الحق

اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ہم نواز شریف کے طرز حکمرانی سے مطمئن نہیں لیکن آئین کی حفاظت پوری قوم اور سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔

اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس کے بعد ملک کے دیگر سیاسی قائدین کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ ہم نواز شریف کے طرز حکمرانی سے مطمئن نہیں، موجودہ اور سابقہ ادوار میں انہوں  نے کوئی مثالی نظام نہیں دیا۔ آئین کی حفاظت پوری قوم اور سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے، ملک کی حفاظت اسلحہ اور اسلحہ کی بنیاد پر نہیں ہوتی، ریاست کے اصل محافظ عوام ہوتے ہیں، جس ملک میں عوام کے اجتماعی شعور کو ختم کیا جائے تو اس ملک کو ایٹم بم بھی برقرار نہیں رکھ سکتے، مشرقی پاکستان میں سارے ادارے موجود تھے مگر اجتماعی شعور ختم ہوچکا تھا تو وہ الگ ملک بن گیا۔ اللہ نہ کرے کہ وہ لمحہ آ جائے کہ بلوچستان اور سندھ آنا مشکل ہو جائے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ہم ہر طرح کے تشدد کی مذمت کرتے ہیں ، چاہے وہ کسی جانب سے بھی کیا جائے، اسلام آباد جس طرح محاصرے میں ہے اس سے پوری قوم شدید کرب اور تکلیف میں  مبتلا ہے، ان حالات میں قومی قیادت کو تماشے کے بجائے قوم کی قیادت کرنی چاہئے، ہم عمران خان ،نواز شریف اور شہباز شریف سے ملاقاتیں  کرتے رہے، اپوزیشن کے اجتماعی مطالبے کے نتیجے میں حکومت نے کنٹینرز اور رکاوٹیں  ہٹائیں، جب بھی عمران خان سے ملاقات ہوئی ان کے چھ مطالبات سامنے آئے، ہماری کوشش سے حکومت اور پی ٹی آئی ایک میز پر بیٹھیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ حکمران جماعت کے لئے مشکل تھا اس لئے حکومت نے 5 مطالبات تسلیم کئے، ہم نے عمران خان کو تجویز دی کہ عدالتی کمیشن کو یہ اختیار ہو اگر وہ دھاندلی کا فیصلہ کرتا ہے تو ملک کی تمام جماعتیں دوبارہ عام انتخابات کی ضامن ہوں گی، عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس معاملے پر کور کمیٹی میں  غور کریں  گے، پھر ان کا پنڈی آنا جانا شروع ہوا۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں آئین و جمہوریت پر متفق ہیں، اگر دونوں فریقین پارلیمنٹ کو ضامن بناتے ہیں تو پارلیمنٹ ضامن بننے کے لئے تیار ہے،سپریم کورٹ بھی اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے جو کہ انتہائی خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ پر حملے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں یہ 68 سالہ تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا، پی ٹی وی پر حملہ جمہوری رویوں  کی خلاف ورزی ہے، دنیا کو کوئی اچھا پیغام نہیں  دیا۔

آئندہ 72 گھنٹوں میں موجودہ بحران کا فیصلہ ہوجائے گا، شیخ رشید احمد

اسلام آباد: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کہتے ہیں کہ ملک میں جاری صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور آئندہ 72 گھنٹوں میں موجودہ بحران کا فیصلہ ہوجائے گا۔

ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کے دوران شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ملک کی موجودہ صورت حال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور حالات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ اس وقت اسلام آباد میں اعصاب کی جنگ لڑی جارہی ہے، حکومتی وزرا کا کہنا ہے کہ انہوں نے عمران خان کے 6 میں پونے 6 مطالبات مان لئے ہیں، ہوسکتا ہے کہ آئندہ ایک دو روز میں تمام مطالبات ہی مان لئے جائیں۔ آئندہ 72 گھنٹے انتہائی اہم ہیں اور اسی دوران موجودہ بحران کا فیصلہ ہوجائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پی ٹی وی پر حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ سرکاری عمارات میں داخل ہونا غیرقانونی ہے، ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ جاوید ہاشمی نے انہیں عمران خان کے ساتھ ہونے والے معاملے پر بلاوجہ ملوث کیا انہیں اس سارے مسئلے پر  کچھ بھی معلوم نہیں تھا، آج وہ بہت بڑے جمہوریت کے چیمپئن بن رہے ہیں حالانکہ ان سمیت ملک کا کوئی بھی سیاستدان ایسا نہیں جس نے کبھی کسی آمر کی حمایت نہ کی ہو، جنرل ضیاالحق کی کابینہ میں وزارت کا حلف لینے کے لئے وہ ان کے گھر میں تیار ہوئے تھے۔ اس لئے وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ انہیں چاہئے تھا کہ وہ بحیثیت صدر تحریک انصاف اپنی جماعت کو سنبھالتے، وہ سمجھتے ہیں لوگوں کو ان سے محبت ہے اس لئے وزیر اعظم سے لے کر خواجہ سعد رفیق اور مخدوم جاوید ہاشمی انہیں ہی نشانہ بنارہے ہیں۔