Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

اوپن اکاؤنٹ، 30 جولائی تک کی درآمدات پر استثنیٰ کا مطالبہ

حکومت زمینی حقائق کومدنظررکھتے ہوئے ترمیمی قانون پرعمل کرے، ارشد جمال/حنان بیگ۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

حکومت زمینی حقائق کومدنظررکھتے ہوئے ترمیمی قانون پرعمل کرے، ارشد جمال/حنان بیگ۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

 کراچی: پاکستان کسٹمز سے منسلک ملک کے3800 سے زائد متحرک کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس نے یک جنبش قلم اوپن اکاؤنٹ کی بنیاد پر مشروط درآمدات کے فیصلے کو 30 جولائی2018 تک آنے والے کنسائمنٹس کی کلیئرنس مکمل ہونے تک موخر کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے سربراہ ارشدجمال نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اوپن اکاؤنٹ کی بنیاد پر درآمدات کی کسٹمز کلیئرنس کو مجاز ڈیلرکے الیکٹرونک فارم سے مشروط کرنے کے اچانک فیصلے سے ملک بھر میں وہ اربوں روپے مالیت کے سیکڑوں کنسائمنٹس جو اوپن اکاونٹ کی بنیاد پر درآمد کیے گئے تھے کی کلیئرنس التوا کا شکار ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ان درآمدکنندگان پر بھاری ڈیمریج وڈیٹنشن چارجز کا اضافی بوجھ پڑگیا ہے۔

ارشد جمال نے کہا کہ وفاقی حکومت کو یک جنش قلم یک طرفہ بنیادوں پر فیصلہ کرنے سے قبل درآمدی شعبوں کو ایک پبلک نوٹس کے ذریعے قانون میں تبدیلی کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے تھا چونکہ درآمد کنندگان اس غیرمتوقع فیصلے سے آگاہ نہیں تھے اور انہوں نے معمول کے قانون کے مطابق درآمدات کیں لیکن جب ان کے کنسائمنٹس پاکستان پہنچے تو انہیں قانون میں کی جانے والی ترامیم سے متعلق آگہی ہوئی لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ زمینی حقائق کومدنظر رکھتے ہوئے اوپن اکاؤنٹ کے ذریعے30 جولائی2018 تک آنے والے وہ تمام کنسائمنٹس جن کے بل آف لیڈنگ جاری ہوچکے ہوں کو نئی شرائط سے مستثنیٰ قرار دینے کے احکامات جاری کرے اور پائپ لائین میں پڑے ہوئے تمام کنسائمنٹس کی کلیئرنس کے بعد نئے ترمیمی قانون پر عمل درآمد کا آغاز کرے۔

کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن اے ایف یو کے سربراہ مرزا حنان بیگ نے بتایا کہ اوپن اکاؤنٹ کے تحت30 جولائی تک پہنچنے والے تمام کنسائمنٹس کی کلیئرنس زیر التوا ہونے سے بندرگاہوں اور نجی ٹرمینلز پر کنجیشن بڑھ گیا ہے جبکہ کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹوں کی خدمات بری طرح متاثر ہیں اور درآمدکنندگان کے کنسائمنٹس کی ڈلیوریاں تاخیر کا شکار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے درآمدکنندہ کلائنٹس اضافی لاگت کی ادائیگیوں کے لیے تیار نہیں ہیں جبکہ چھوٹ ودرمیانے درجے کے درآمدکنندگان کی جانب سے نئے درآمدی معاہدے نہ ہونے کی وجہ سے کسٹم ہاؤس ایئر فریٹ یونٹس اور دیگر شعبوں میں کسٹمز کلیئرنس کی خدمات انجام دینے والے کلیئرنگ ایجنٹوں کو کلائنٹس کی جانب سے کلیئرنس سروس آرڈرز ملنا بند ہوگئے ہیں اور وہ گزشتہ ایک ہفتے سے فارغ بیٹھے ہوئے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت اسٹیٹ بینک اور چیئرپرسن ایف بی آر ان زمینی حقائق سے آگہی کے بعد ٹریڈ سیکٹر کوسہولت دینے اور کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹوں کی بقا کے لیے اوپن اکاؤنٹ کے تحت 30 جولائی تک آنے والے کنسائمنٹس کی کلیئرنس تک موخر کرنے کا اعلان کریں۔


News Source

اوپن اکاؤنٹ، 30 جولائی تک کی درآمدات پر استثنیٰ کا مطالبہ

تبصرہ کریں