Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

ہزاروں بچت اسکیم کھاتے منسوخ، رقوم سرکاری خزانے کو منتقل


اسلام آباد 5.93ارب، کراچی3.85ارب، لاہور3.30ارب، پشاور54کروڑ، حیدرآباد 37کروڑ، کوئٹہ ریجن سے 29 کروڑمنتقل ہوئے۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد 5.93ارب، کراچی3.85ارب، لاہور3.30ارب، پشاور54کروڑ، حیدرآباد 37کروڑ، کوئٹہ ریجن سے 29 کروڑمنتقل ہوئے۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ مالی سال 2016-17 کا بجٹ خسارہ کم کرنے کیلیے 30 جون کوقومی بچت اسکیموں کے ہزاروں اکاؤنٹس کو ڈیڈ اکاؤنٹس قرار دے کر 18ارب روپے سے زائد رقم سرکاری خزانے کو منتقل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

وزارت خزانہ نے گزشتہ مالی سال کے آخری دن 30 جون کو نوٹیفکیشن جاری کر کے محکمہ قومی بچت کو یہ تمام رقم حکومتی خزانے میں جمع کروانے کی ہدایات جاری کیں جس پر عملدرآمد کے لیے 30جون کو رات گئے تک محکمہ قومی بچت کی ملک بھرمیں قائم سیکڑوں برانچیں کھلی رکھی گئیں۔ اس ضمن میں ایکسپریس کو موصول دستاویزات کے مطابق محکمہ قومی بچت کے اکاؤنٹس سے 18ارب 12لاکھ 76ہزار 33 روپے سے زائد رقم سرکاری خزانے میں منتقل کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت کے اس اقدام کا بنیادی مقصد گزشتہ مالی سال 2016-17کا بجٹ خسارہ کم کرنا ہے۔ قومی بچت کے اکاؤنٹس میںسے منتقل کی گئی رقم میں کراچی ریجن سے 3ارب 85کروڑ 74لاکھ 25ہزار 433 روپے، پشاور ریجن سے 54کروڑ 73لاکھ 27ہزار 625 روپے، اسلام آباد ریجن سے 5ارب 93کروڑ 66لاکھ 52 ہزار 579روپے، حیدر آباد ریجن سے37کروڑ51 لاکھ49 ہزار233، فیصل آباد ریجن سے 1ارب 2کروڑ 31لاکھ 95 ہزار 14روپے، آیبٹ آباد ریجن سے37کروڑ 35 لاکھ51ہزار265روپے، گوجرانوالہ ریجن سے 1ارب 8 کروڑ 19لاکھ 38ہزار 635روپے، سکھر ریجن سے 18 کروڑ 31 لاکھ843 روپے، بہا ولپور ریجن سے 30 کروڑ 98 لاکھ 19 ہزار 988 روپے، کوئٹہ ریجن سے 29 کروڑ 44 لاکھ 27 ہزار741 روپے، لاہور ریجن سے 3 ارب 30کروڑ47لاکھ 49ہزار121روپے، ملتان ریجن سے71کروڑ 39لاکھ 35ہزار 556روپے سرکاری خزانے کو منتقل کیے گئے ہیں۔

اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے پینشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ، ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ، ریگولر انکم سرٹیفکیٹ، اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹ اور شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹ سمیت دیگر قومی بچت کی اسکیموں کے رولز میں ترمیم کی گئی ہے۔

حکومت کی جانب سے پینشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ رولز میں ترمیم کرتے ہوئے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ 5 سال تک جس شخص نے اپنے پینشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ سرٹیفکیٹ (پی بی اے ایس) میں کلیم نہ کیا تو اسے صرف اس سیونگ سرٹیفکیٹ کی اصل رقم(پرنسپل اماؤنٹ) واپس ملے گی اور اگر کوئی شخص وفات پا جائے تو اس کے وارث کو درخواست دینے پر رقم ادا کر دی جائیگی لیکن اکاؤنٹ بند کر دیا جائیگا۔

سیونگ اکاؤنٹ میچور ہونے کے 2 سال کے اندر کلیم نہ کرنے کی صورت میں رقم حکومت کے خزانے میں چلی جائیگی اور صرف پرنسپل اماؤنٹ واپس ہو پائے گی۔ ایسے کیسز جن میں 6 سال تک کلیم نہ کیا گیا ہو اس کا منافع (پرافٹ ) بھی حکومت کے خزانے میں چلا جائیگا، ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ (ڈی ایس سی ایس)کے رولز میں بھی ترمیم کرتے ہوئے یہ قرار دیا گیا کہ سیونگ سرٹیفکیٹ کی میچورٹی کی تاریخ کے 2 سال بعد تک ٹرانزیکشن نہ کروانے پر سرٹیفکیٹ ڈیڈ ہوجائیگا اور 6 سال تک منافع کلیم نہ کرنے پر پرافٹ نہیں ادا کیا جائیگا، بہبود سیونگ سرٹیفکیٹ (بی ایس سی ایس)کے رولز میں ترمیم کرتے ہوئے میچورٹی کی تاریخ سے ایک سال بعد تک ٹرانزیکشن نہ کروانے پر سرٹیفکیٹ ڈیڈ قرار دیا جائیگا اور متعلقہ افسر انچارج کی منظوری کے بغیر کوئی ٹرانزیکشن نہیں ہو پائے گی۔

سرٹیفکیٹ کی میچورٹی کی تاریخ کے2 سال بعد تک ٹرانزیکشن نہ کرنے پر پرنسپل اماؤنٹ بھی حکومت کو منتقل ہو جائیگی۔ 6سال تک منافع کلیم نہ کرنے پر منافع حکومت کو منتقل ہو جائے گا۔ ریگولر انکم سرٹیفکیٹ ( آر آئی سی سی) کی میچورٹی کے ایک سال بعد تک ٹرانزیکشن نہ کرنے پر سرٹیفکیٹ ڈیڈ قرار دیا جائیگا اور افسر انچارج کی منظوری کے بغیر کوئی ٹرانزیکشن نہیںہو پائے گی جبکہ میچورٹی کی تاریخ سے 2 سال بعد تک ٹرانزیکشن نہ کرنے پر ایسے سرٹیفکیٹ کی فیس ویلیو حکومت کو منتقل ہو جائے گی اور 6 سال تک کلیم نہ کرنے پر پرافٹ حکومت کے خزانے میں منتقل ہو جائے گا۔

اسپیشل سیونگ اکاؤنٹ ( ایس ایس سی ) میں ڈپازیٹر کی جانب سے سرٹیفکیٹ کی میچورٹی کے ایک سال بعد تک کوئی ٹرانزیکشن نہ کروانے کی صورت میں سرٹیفکیٹ ڈیڈ قرار دیا جائیگا اور متعلقہ افسر کی اجازت کے بغیر کوئی ٹرانزیکشن نہیں ہو پائے گی۔ سرٹیفکیٹ کی میچیورٹی کے 2سال بعد تک ٹرانزیکشن نہ کروانے پر پرنسپل اماؤنٹ بھی حکومت کو منتقل ہو جائیگی اور ایسے کیسز جن میں 6 سال تک کلیمز نہ کیے گئے اس کا منافع بھی حکومت کے خزانے میں چلا جائے گا۔

علاوہ ازیں شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹ (ایس ٹی ایس سی) میں بھی اگر پرچیزر کی جانب سے میچورٹی کے 2سال بعد تک سیونگ سرٹیفکیٹ کی ٹرانزیکشن نہیں کرائی گئی تو پرنسپل اماؤنٹ بھی حکومت کو ٹرانسفر ہو جائیگی جبکہ میچیورٹی کی تاریخ کے6 سال بعد کوئی پرافٹ نہیں دیا جائیگا۔

 

تبصرہ کریں