Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

’نامعلوم افراد‘ کی انوکھی اجنبیت

’نامعلوم افراد‘ کی انوکھی اجنبیت

’نامعلوم افراد‘تصویر کے کاپی رائٹ
Filmwala Pictures

عید الاضحیٰ پر نمائش کے لیے پیش کی جانے والی دو بڑی پاکستانی فلموں میں سے ایک ’نا معلوم افراد 2‘ تھی ۔ لیکن جہاں اس فلم کو ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ کے مقابلے میں دگنے نہیں تو ڈیڑھ گُنا شوز مِلے، اس کا بزنس ’پنجاب‘ کے مقابلے میں کم رہا۔ ایسا کیسے ہوا؟ ’نامعلوم افراد‘ دوسری دفعہ سنیما پر نمودار ہونے کے باوجود ایک حساب سے اجنبی ہی کیوں رہی؟

’نامعلوم افراد‘ پاکستانی سنیما کی ’نیُو ویو‘ فلموں میں کلیدی کردار رکھتی ہے۔ یہ فلم جو سنہ 2014 میں منظرِعام پر آئی، ہر طرح سے اس سے پہلے آنے والی پاکستانی فلموں سے مختلف تھی۔ ایک تو اس کی کہانی مضبوط تھی، دوسرے اس کے کردار اور ڈائیلاگ بالکل فریش تھے اور پھر اس کی ’ایگزیکیوشن‘ یعنی جس طرح ان تینوں چیزوں کو سکرین پر پیش کیا گیا (اس میں فلم کی عکاسی، تدوین، ہدایتکاری وغیرہ شامل ہیں) اعلیٰ درجے کی تھی۔

اس ایک فلم نے نہ صرف ہدایت کار اور پروڈیوسر نبیل قریشی اور فضا علی میرزا کی جوڑی کو فلم بینوں کے دماغ میں اِسٹیبلِش کر دیا، بلکہ فلم کی کامیابی کی وجہ سے بہت سارے فلمساز اس کی نقل کرنے میں بھی لگ گئے۔

یہ الگ بات ہے کہ ابھی تک کوئی بھی فلمساز اس جیسی فلم نہیں بنا پایا۔ اپنے وقت اور سوسائٹی کے مزاج کو کوئی کوئی فلم ہی گرفت میں لے پاتی ہے۔ اس کو جرمن میں ’زائٹگائسٹ‘ کو سمجھنا کہتے ہیں۔ اور یہی وہ چیز ہے جو کہ ’نامعلوم افراد‘ بخوبی کر پائی تھی اور جس میں اس کے نقال ناکام رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Filmwala Pictures

’نامعلوم افراد‘ میں غریب کی امیروں کے بارے میں حسرتیں، کراچی کی سڑک چھاپ اور ذومعنی زبان، اور میڈیا کے عام لوگوں پر اثرات، سب موجود تھے اور ایسی مہارت سے ایک مزیدار کہانی میں سمائے گئے تھے کہ سب واہ واہ کرتے رہ گئے۔ کیونکہ ایسی فلم پاکستان میں میں پہلے نہیں بنی تھی اس کی تازگی اس کی سب سے بڑی طاقت تھی۔

اسی لیے فلم بینوں کو ’نامعلوم افراد 2‘ کا انتظار تھا۔ اُنھیں یقین تھا کہ اگر کوئی اس طرح کی فلم دوبارہ بنا سکتا ہے تو وہ نبیل اور فضا ہی ہوں گے۔ (دریں اثنا وہ ’ایکٹر اِن لا‘ پیش کر چُکے تھے لیکن وہ ’نامعلوم افراد‘ سے بہت مختلف طرز کی فلم تھی۔) لیکن شاید یہی توقعات ’نامعلوم افراد 2‘ کو لے ڈوبی ہیں۔

’نا معلوم افراد 2‘ میں وہی تین مرکذی کردار ہیں جو پہلی فلم میں تھے — یعنی شکیل بھائی (جاوید شیخ)، فرحان (فہد مصطفیٰ) اور مُون (محسن عباس حیدر)۔ پچھلی فلم کے آخر میں جو دولت تینوں کے حصّے میں آگئی تھی، ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ اس سے شکیل بھائی اور فرحان نے ایک اچار کی فیکٹری کھول لی تھی اور مُون دنیا کی سیر کو نکل گیا تھا۔

لیکن اس فلم کے شروع ہی میں یہ بات ہمیں معلوم ہو جاتی ہے کہ بھتّے کی دھمکیوں کے بعد اچار کی فیکٹری جل کر راکھ ہو گئی ہے اور اب شکیل بھائی اور فرحان، فرحان کی بیوی اور شکیل بھائی کی بہن نینا (عروہ حسین) کے ساتھ ایک زیرِتعمیر بلڈنگ میں رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ کسم پُرسی کی اس حالت میں مُون کا پیغام آتا ہے کہ وہ سب کو اپنی شادی میں شرکت کے لیے جنوبی افریقہ مدعو کر رہا ہے۔ مُون اب وہاں کیپ ٹاؤن میں رہتا ہے اور کامیاب ڈی جے بھی بن چُکا ہے۔ تینوں جس وقت وہاں پہنچتے ہیں، اسی وقت ایک انتہائی مالدار عرب شیخ البکلاوا (نیّر اعجاز) بھی جنوبی افریقہ براجمان ہوتے ہیں، جن کا پسندیدہ سونے کا بنا ہوا کموڈ بھی اُن کے ساتھ ساتھ آیا ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Filmwala Pictures

سونے کا کموڈ غائب ہوتا ہے اور غلطی سے مُون کے گھر پہنچ جاتا ہے۔ اس کے بعد فرحان اور شکیل بھائی کی نیّتیں کچھ خراب ہو جاتی ہیں اور مُون بھی دوستی کی خاطر اُن کا ساتھ دینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ساتھ میں ایک اور قِصّہ چل رہا ہے کچھ نہایت ہی قیمتی ہیروں کا، جو چوری ہو چُکے ہیں اور جن کا سراغ لگانے میں کیپ ٹاؤن کی پولیس سر توڑ کوششیں کر رہی ہے۔ ہیروں کے پیچھے دو غُنڈوں کی ایک ٹیم بھی ہے جس میں سے ایک پاکستانی ہے (سلیم معراج) اور دوسرا انڈین (نذرالحسن)۔ کہانی کے بارے میں اس سے زیادہ کہنا زیادتی بھی ہو گی اور مشکل بھی ہوگا۔ لیکن یہ کہنا کافی ہوگا کہ جہاں پہلی فلم میں معاشرتی تنقید کا پہلو بھی تھا، اس فلم میں صرف اور صرف مزاح پر توجہ دی گئی ہے۔

یہ بات نہیں ہے کہ ’نامعلوم افراد 2‘ بُری فلم ہے۔ بلکہ کئی اعتبار سے یہ بیشتر پاکستانی فلموں سے بہتر ہے۔ کہانی کی گُنجلکیں ہدایت کار نبیل قریشی کافی حد تک کامیابی سے کنٹرول میں رکھتے ہیں، اور اس کی عکاسی اور تدوین بھی انتہائی پیشہ وارانہ ہے۔ کچھ سین آپ کو بے ساختہ ہنسا بھی دیتے ہیں۔ لیکن جہاں پہلی فلم میں خوشگوار تازگی کا احساس تھا، یہاں فارمولے کی زبردستی محسوس ہوتی ہے۔ یہ بات خاص طور پر فلم کے ’بڑے‘ گانے ’چل ہگ لے‘ میں محسوس ہوتی ہے۔ جو صرف اس لیے فلم کا حصّہ ہے کیونکہ ہر فلم میں ایسا ایک گانا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Filmwala Pictures

پرفارمنس کے اعتبار سے جاوید شیخ اور نیّر اعجاز اپنے کردار بہت عمدہ طریقے سے نبھاتے ہیں، لیکن سب سے اچھی پرفارمنس سلیم معراج دیتے ہیں جو پاکستانی نژاد غُنڈے کے کردار کے روپ میں یہاں نظر آتے ہیں۔ مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ اس قابل اداکار کو آخرکار کوئی ٹھوس رول ملا ہے (حالانکہ غُنڈوں کی عجیب جوڑی میں مزاح کی جو گُنجائش تھی اس کا پورا فائدہ نہیں اُٹھایا گیا)۔ آج تک اُن کی صلاحیتوں کو پوری طرح بروۓ کار نہیں لایا گیا ہے۔

فہد مصطفیٰ ایک نیچرل اداکار ہیں اور وہ بھی اپنے رول میں ٹھیک ہیں لیکن محسن عباس حیدر تھوڑا اوور ایکٹنگ کی طرف مائل لگتے ہیں۔ خواتین کے رول (یعنی عروہ حسین اور ہانیہ عامر جو مُون کی منگیتر کا کردار ادا کرتی ہیں) صرف براۓ نام ہی ہیں جبکہ مرینہ خان اپنے چھوٹے سے رول میں بھی جان ڈال دیتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Filmwala Pictures

لیکن اصل مسئلہ پرفارمنسز کا نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ’نامعلوم افراد 2‘ اس لیے بھی مار کھا گئی کیونکہ اس کے حوالے اور اس کا مزاح خاص طور پر کراچی سی منسلک ہیں۔ اس میں شاید کچھ صداقت بھی ہو، کیونکہ اس فلم کو پنجاب کی مارکیٹ میں وہ پذیرائی نہیں ملی جو اس کے مدِمقابل ریلیز ہونے والی ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ کے حصّے میں آئی ہے۔ مگر میرے خیال میں اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس فلم میں وہ دل و گُردہ نہیں ہے جو اس سے پیشتر فلم کا خاصا تھا۔

دیکھنے والے فلم ’انجوائے‘ تو کر سکتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی اس کے کرداروں کے ساتھ اس طرح اپنے آپ کو منسلک نہیں کر پاتے جیسے وہ پچھلی فلم میں کر پائے تھے۔ اور جب آپ اپنے آپ کو کرداروں میں نہیں دیکھ پاتے تو آپ کا کہانی سے وہ رابطہ نہیں بن سکتا جو یاد رہ جانے والی فلموں کا ہوتا ہے۔

اب ہم یہی اُمید کر سکتے ہیں کہ نبیل اور فضا آئندہ ہمیں کچھ آشنا افراد کی کہانی دکھائیں گے۔

loading...
شناختی عنوان:,

تبصرہ کریں