Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

جلد کی بیماری کیلئے استعمال ہونے والی کریم جان لیوا ثابت ہوستی ہے

[ad_1]

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایگزیما، داد یا کھجلی جیسی جلد کی بیماریوں کیلئے استعمال میں آنے والی ایسی کریم، جو پیرافین سے تیار کی گئی ہیں، سے آگ لگنے کا خطرہ رہتا ہے جنہیں استعمال کرنے والا شخص خود کو جلا بھی سکتا ہے۔

اگر کوئی اس طرح کی کریم مستقل استعمال کرتا ہے اور اپنے کپڑے یا بستر کی چادر وغیرہ تبدیل نہیں کرتا تو پیرافین کی تھوڑی مقدار اس میں جذب ہوتی رہتی ہے جو ماچس یا لائٹر کے شعلے سے آگ پکڑ سکتی ہیں۔

برطانیہ میں ادویات کی نگرانی کرنے والے ادارے نے ہدایات جاری کی ہیں کہ جو کریم پیرافین سے بنی ہوں ان سب پر اس بات سے آگاہ کرنے کیلئے تنبیہی نشانات ہونے چاہیں۔

بی بی سی کی ایک تفتیشی رپورٹ کے مطابق ایسے وارننگ سائن کے باوجود بھی 2010 سے اب تک تقریباً 37 اموات ایسی ہوئی ہیں جو اس طرح کی کریم سے آگ لگنے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔

کیرول ہو کے شوہر فلپ 2006 میں اچانک اسی طرح سے آگ لگنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔ انہوں نے اپنے جسم پر ایسی ہی کریم لگا رکھی تھی۔ انہوں نے سگریٹ جلانے کیلئے لائٹر جلایا جس کا شعلہ اتفاق سے اس کریم سے لگا اور انہیں آگ لگ گئی۔

کیرل نے بتایا کہ ان کے شوہر کا جلد کی بیماری کیلئے علاج چل رہا تھا جس کیلئے وہ ایسی ہی کریم استعمال کرتے رہتے تھے۔ آگ لگتے ہی ان کا بدن جل اٹھا جس کے بعد ہسپتال میں ان کی موت ہوئی۔

کیرول نے بتایاکہ’جب ہم ہسپتال پہنچے تو عملے نے ہمیں بتایا کہ وہ تقریباً 90 فیصد تک جل چکے ہیں۔ وہ کچھ بھی نہیں کرسکتے تھے۔’

اس واقعے کے بعد ہی جلد کی بیماریوں والی کریم سے ہونے والے خطرات کے طرف ماہرین کی توجہ ہوئی اور مریضوں کے تحفظ سے متعلق ایجنسی نے خبردار کیا کہ پیرافین سے تیار ہونے والی اشیا میں آسانی سے آگ لگنے کا خطرہ رہتا ہے۔

دی میڈسن اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹ ریگولیٹری ایجنسی نے بھی اس سلسلے میں دو بار مزید خبردار کیا تھا لیکن ایسی کریم سے ہلاکتوں کا سلسلہ پھر بھی جاری رہا۔

ابھی حال ہی میں مذکورہ ایجنسی نے ہدایات جاری کی ہیں کہ جس بھی پروڈکٹ میں 50 فیصد سے زیادہ پیرافین کا استعمال ہوا اس پر آگ لگنے کے خطرے کے بارے میں تنبیہی نشان ضرور ہونا چاہیئے۔

ایجنسی دوا ساز کمپنیوں پر بھی اس بات کیلئے زور ڈال رہی ہے کہ پیرافین سے تیار ہونے والی تمام ایسی کریموں کے ٹیوب اور پیکنگ پر بھی تنبیہی نشانات درج کیے جائیں۔

BBCبشکریہ

[ad_2]

شناختی عنوان:,

تبصرہ کریں