Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

سبزیاں کاٹنے کیلیے پلاسٹک کے تختے کا استعمال مضر ہے، ماہرین


پلاسٹک پر چھری کی تیز دھار لگنے سے گہری خراشیں پڑ جاتی ہیں جس میں جراثیم اپنا  ٹھکانہ بنالیتے ہیں، فوٹو؛ فائل

پلاسٹک پر چھری کی تیز دھار لگنے سے گہری خراشیں پڑ جاتی ہیں جس میں جراثیم اپنا ٹھکانہ بنالیتے ہیں، فوٹو؛ فائل

نارتھ کیرولینا: امریکی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سبزیاں اور گوشت وغیرہ کاٹنے کےلیے پلاسٹک کے تختے (پلاسٹک چاپنگ بورڈ) کا استعمال آپ کی صحت کے لیے مضر ہے۔

ایک تازہ تحقیقی مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ جن گھروں میں پلاسٹک چاپنگ بورڈ استعمال کیا جاتا ہے وہاں غذا سے وابستہ مختلف بیماریوں کی تعداد اور شدت بھی زیادہ حملہ آور ہوتی دیکھی گئی ہے۔

روایتی طور پر باورچی خانوں میں سبزی اور گوشت کاٹنے کے لیے لکڑی سے بنے ہوئے تختے استعمال کیے جاتے ہیں لیکن وہ خاصے بھاری اور مہنگے بھی ہوتے ہیں جن کے متبادل کے طور پر پچھلے چند سال سے پلاسٹک چاپنگ بورڈ فروخت کیے جارہے ہیں۔ انہیں فروخت کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ وزن میں ہلکے اور پائیدار ہونے کے علاوہ پلاسٹک چاپنگ بورڈ زیادہ پائیداور اور زیادہ ’’محفوظ‘‘ بھی ہوتے ہیں لیکن اب نارتھ کیرولینا اسٹیٹ یونیورسٹی میں غذائی تحفظ کے ماہر کا کہنا ہےکہ یہ ہماری غلط فہمی ہے کیونکہ پلاسٹک چاپنگ بورڈ لکڑی والے چاپنگ بورڈ کے مقابلے میں جراثیم سے کہیں زیادہ آلودہ اور بیماریوں کی وجہ بننے والا ہوسکتا ہے۔

ماہرین نے مقامی آبادی کے گھروں میں مختلف الاقسام چاپنگ بورڈز اور بیماریوں میں تعلق کا مطالعہ کرنے کے بعد دریافت کیا کہ پلاسٹک چاپنگ بورڈ طرح طرح کے جرثوموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کا کام کرتے ہیں جب کہ لکڑی والے چاپنگ بورڈ اس معاملے میں کہیں زیادہ محفوظ ہوتے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سخت سے سخت پلاسٹک پر بھی چھری کی تیز دھار لگنے سے گہری خراشیں پڑ جاتی ہیں جن کے اندر نہ صرف غذا کی خردبینی باقیات جمع ہوجاتی ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ خطرناک جراثیم بھی ان کے اندر اپنا ٹھکانہ بنالیتے ہیں۔

بظاہر یہ خراشیں بہت باریک ہوتی ہیں لیکن پلاسٹک چاپنگ بورڈ کی دھلائی کے بعد بھی ان خراشوں کے اندر جراثیم محفوظ رہ جاتے ہیں جو غذا کے خردبینی ذرات استعمال کرکے پھلتے پھولتے رہتے ہیں اور یوں وہ پلاسٹک چاپنگ بورڈ کو صحت کےلیے خطرے میں بدل دیتے ہیں۔ اس کے برعکس لکڑی کا چاپنگ بورڈ کہیں زیادہ مضبوط ہوتا ہے اور خراشیں پڑنے کے خلاف زبردست مزاحمت رکھتا ہے۔

لکڑی والے چاپنگ بورڈ پر چھری سے پڑنے والی خراشیں زیادہ گہری نہیں ہوتیں جب کہ دھلائی کے دوران لکڑی میں پانی اندر تک جذب ہوکر ان خراشوں کی صفائی کردیتا ہے اور یوں جراثیم کو ان میں چھپ کر بیٹھنے کا بہت ہی کم موقع مل پاتا ہے۔

اس انکشاف کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ سبزیاں کاٹنے والے لکڑی کے تختوں کو زیادہ محفوظ سمجھ کر ان کی صفائی ستھرائی کا دھیان نہ رکھنا بھی حماقت ہوگی کیونکہ مناسب صفائی اور دھلائی نہ ہونے پر لکڑی کا چاپنگ بورڈ بھی پلاسٹک ہی کی طرح خطرناک بن سکتا ہے۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ چاپنگ بورڈ چاہے کسی بھی قسم کا ہو، سبزی/ گوشت وغیرہ کاٹنے سے پہلے اور بعد میں اگر اس کی دھلائی گرم پانی اور معیاری ڈش واشنگ پاؤڈر سے اچھی طرح کی جائے تو وہ لمبے عرصے تک کارآمد بھی رہے گا اور آپ کی صحت کے لیے خطرہ بھی نہیں بنے گا۔

فی الحال یہ ابتدائی نوعیت کی تحقیق ہے اور اس بارے میں حتمی فیصلہ امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) یا فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی طرف ہی سے جاری کیا جائے گا کیونکہ یہ دونوں ادارے پہلے ہی پلاسٹک اور لکڑی کے چاپنگ بورڈز کا طویل عرصے تک استعمال صحت کے لیے مضر قرار دے چکے ہیں۔

شناختی عنوان:,

تبصرہ کریں