Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

ضدی داغوں سے نجات، صرف ڈٹرجنٹ کافی نہیں!


چائے، بال پوائنٹ، گریس وغیرہ کے گہرے نشانات دور کرنے کے لیے گھریلو ٹوٹکے۔ فوٹو: نیٹ

چائے، بال پوائنٹ، گریس وغیرہ کے گہرے نشانات دور کرنے کے لیے گھریلو ٹوٹکے۔ فوٹو: نیٹ

آپ نے یہ جملہ تو ضرور سنا ہوگا کہ ’’داغ تو اچھے ہوتے ہیں‘‘ ہاں اگر یہ کپڑوں سے اتر جائیں ورنہ آپ کے قیمتی کپڑے برباد ہوجاتے ہیں۔ ذیل کی سطور میں کپڑوں سے مختلف قسم کے داغ اتارنے کے لیے ٹوٹکے بتائے جارہے ہیں جو خواتین خانہ کے یقیناً بہت کام آئیں گے۔

٭فالسے، اسٹرابیری یا کسی بھی قسم کی ’’بیریز‘‘ کے داغ دور کرنے کے لیے داغ کی جگہ کو کسی ٹب یا بالٹی کے اوپر اچھی طرح فکس کرلیں۔ پھر ایک کیتلی میں ابلتا ہوا پانی ایک فٹ کی بلندی سے گرائیں۔ داغ حیرت انگیز طور پر غائب ہوجائیں گے۔

٭بال پوائنٹ کے داغ کپڑے پر لگ جائیں تو آسانی سے نہیں نکلتے۔ اس کے لیے نیل پالش ریموور کا استعمال کریں۔ روئی کے پھاہے پر ریموور لگا کر داغ پر رگڑیں داغ صاف ہوجائے گا۔ پھر اسے ڈٹرجنٹ سے مل مل کر پانی سے دھو لیں۔ ڈیٹول کو بھی اگر روئی پر لگا کر داغ والی جگہ رگڑا جائے تو داغ صاف ہوجاتے ہیں۔

٭کافی کے داغ ہوں یا چاکلیٹ کے، انھیں دور کرنے کے لیے بوریکس پاؤڈر یا بوریکس کا محلول کو اسفنج میں لگا کر داغ پر جگہ پر رگڑیں پھر گرم پانی و صابن کے جھاگ سے دھولیں۔ داغ اگر پرانا ہو تو اس کے لیے پہلے گلیسرین لگائیں اور اسے صابن یا بورک پاؤڈر سے رگڑیں اور صاف پانی سے دھو لیں۔

٭اکثر بچے پارک میں کھیلتے ہوئے کپڑوں پر گھاس کے داغ لگا لیتے ہیں۔ اس کی صفائی کے لیے پورے کپڑے دھونے سے قبل کسی بھی اچھے ڈٹرجنٹ کو اسپرے بوتل میں بھر کر داغ پر چھڑکیں اور اچھی طرح ملیں۔ پھر مشین یا بالٹی میں ڈال کر دھولیں۔

٭ گریس کے داغ دور کرنے کے لیے روئی پر میتھیلیٹڈ اسپرٹ لگا کر داغ والی جگہ پر رگڑیں پھر بلاٹنگ یا بلوٹنگ پیپر رکھ کر اوپر سے گرم استری کریں۔ بلاٹنگ پیپر ساری چکنائی اپنے اندر جذب کرلے گا پھر صابن والے گرم پانی سے کپڑے دھو لیں۔ سالن اور چکنائی کے داغ دور کرنے کے لیے اگر ٹیلکم پاؤڈر ڈال کر رگڑیں تو بھی داغ صاف ہوجائیں گے۔

٭عید قرباں پر اکثر کپڑوں پر خون کے دھبے لگ جاتے ہیں۔ خون کے دھبوں کو کپڑے سے ہٹانے کے لیے ہائیڈروجن پرآکسائیڈ روئی پھاہے پر لگاکر داغ والی جگہ کو رگڑیں اور کچھ دیر کے لیے چھوڑ دیں۔ پھر ٹھنڈے پانی سے دھو لیں۔ اگر داغ نہ گیا ہو تو دو تین بار اس عمل کو کریں داغ دور ہوجائیں گے۔

٭کپڑوں سے مٹی یا کیچڑ کے داغ دور کرنے ہوں تو اس کے لیے پہلے داغ کو سوکھنے دیں پھر برش سے جھاڑ لیں۔ اس کے بعد کپڑے کو ٹھنڈے پانی سے دھونے کے بعد چار حصے گرم پانی میں ایک حصہ بلیچ ملائیں اور آدھے گھنٹے تک بھگو کر صابن سے اچھی طرح دھو لیں۔

٭کولتار یا ڈامر کا داغ بہت ضدی ہوتا ہے۔ اسے دور کرنا نہایت محنت طلب کا کام ہے۔ اس کے لیے داغ والے حصے کو کسی پرانے تولیے پر رکھ کر اس پر مٹی کا تیل ڈالیں۔ جب تولیہ تمام تیل جذب کرلے تو دوسرا تولیہ رکھ کر یہی عمل دہرائیں جب تک کپڑے سے داغ ہلکا نہ ہوجائے۔ یہ عمل کرتے رہیں پھر درمیانے درجے کے گرم پانی میں کپڑے کو آدھے گھنٹے کے لیے بھگو دیں۔ بعدازاں ایک بار ڈٹرجنٹ سے دھوئیں داغ دور ہوجائے گا۔

٭کبھی کبھی کپڑوں پر لپ اسٹک کے داغ بھی لگ جاتے ہیں ایسی صورت میں پہلے داغ پر ویسلین اور پھر ڈٹرجنٹ ڈال کر رگڑیں اور گرم پانی سے دھولیں۔

٭ اگر کپڑوں پر رنگ لگ گیا ہے تو لیموں کاٹ کر اس پر نمک چھڑکیں اور داغ والی جگہ پر رگڑیں۔ خشک ہونے پر سرف اور پانی سے دھولیں۔

٭اگر کپڑے پر پان کا داغ لگ گیا ہے تو داغ پر چونا لگا کر رکھ دیں اور دوسرے دن دھو لیں۔

٭عطر کا دھبہ دور کرنے کے لیے ٹارٹرک یا ٹارٹری پاؤڈر کو دھبے پر لگائیں اور نیم گرم پانی سے رگڑ رگڑ کر دھو لیں۔

٭کپڑوں سے سیاہی یا کاجل کا داغ دور کرنے کے لیے دھبوں پر نمک رگڑیں اور دھولیں۔

سفید کپڑوں کے لیے

٭اگر سفید کپڑوں پر چائے کا داغ ہو تو اس پر ہائیڈروجن پر آکسائیڈ لگا کر دھوپ میں رکھ دیں داغ دور ہوجائے گا۔

٭چائے کے داغ کو اسپرٹ سے بھی صاف کیا جاسکتا ہے۔

٭چائے جوں ہی کپڑوں پر گرے فوراً کپڑے پر نمک چھڑک دیں اس سے داغ نہیں پڑے گا۔

٭ایک ٹب میں سرکہ دو چمچے، نمک دو چمچے، سہاگہ دو چمچے باریک پیس کر تھوڑے سے پانی میں ملاکر رکھ دیں۔ دوسرے ٹب میں نیل ملاکر رکھ دیں۔ اب سفید کپڑے ڈٹرجنٹ سے دھو کر صاف پانی میں کھنگالیں پھر سرکے والے ٹب میں ڈال دیں۔ آدھے گھنٹے کے بعد ان کپڑوں کو نیل دے کر پھیلادیں۔

٭چند کپڑوں کو مشین یا بالٹی میں دھوتے وقت دیگر رنگ دار کپڑوں سے علیحدہ سے دھوئیں۔

٭سفید کپڑوں کو مزید سفید بنانے کے لیے ان کو تیل دینے کے علاوہ آدھی بالٹی پانی میں آدھا چمچہ پھٹکری کا پاؤڈر ڈال دیں اور پھر اس میں سفید کپڑے ڈال کر چند منٹوں بعد نکال کر سکھالیں۔کپڑے نکھرے نکھرے چمک دار ہوجائیں گے۔

کپڑے سے چیونگم اتارنا

٭کسی کپڑے، قالین پر چیونگم لگ جائے تو اسے اتارنا بہت مشکل ہوجاتا ہے لیکن اگر اس کپڑے کو پلاسٹک کے لفافے میں ڈال کر فریزر میں رکھ دیا جائے جب چیونگم ٹھنڈی ہوکر اکڑ جائے تو پھر اسے نکال دیں۔ اگر چیونگم قالین پر لگی ہو تو برف کی ڈلی لے کر چیونگم پر ملیں تاکہ وہ خوب ٹھنڈی ہوکر اکڑ جائے اور آپ اُسے آسانی سے اتار سکیں۔

موزوں کی حفاظت

٭نائیلون کے موزے پہننے سے پہلے انھیں فریج میں رکھ کر پہلے قدرے ٹھنڈے کرلیں پھر پہنیں۔ موسم سرما کے اختتام پر موزوں کو دھو کر ان کو ایک دوسرے سے باندھ دیں اور ایک شاپنگ بیگ میں ڈال کر فنائل کی گولیاں رکھ کر بکس میں بند کردیں۔ اس طرح اگلے سال مشکل پیش نہ آئے گی۔

کپڑوں کا کچا رنگ

٭اگر کپڑوں کا رنگ کچا ہو تو ہر رنگ کے کپڑے کو الگ کڑاہی میں یا کسی بالٹی میں ڈال کر اوپر سے نمک اور پھٹکری ملاگرم پانی انڈیل دیں۔ پھر کپڑے دھونے والے ڈنڈے یا کسی لکڑی سے کپڑوں کو الٹیں پلٹیں ورنہ پانی کے اندر والے کپڑے اور پانی سے باہر رہ جانے والے کپڑے کے رنگ میں فرق آجائے گا۔ اس طرح نمک اور پھٹکری والے پانی میں کپڑوں کو ڈالنے سے کپڑوں کے رنگ پکے ہوجاتے ہیں اور آئندہ کپڑے دھوتے وقت رنگ نہیں اترتا۔

کلف کیسے لگائیں

٭چاول ابال کر اس کا پانی رکھ لیں اس پانی میں مزید پانی ملاکر کپڑوں کو کلف لگائیں۔

٭ایک دیگچی پانی میں ایک چمچہ اراروٹ ملاکر پکائیں اور کپڑوں میں کلف لگائیں۔

٭بعض مرتبہ نئے کلف والے کپڑے بہت زیادہ اکڑے ہوئے ہوتے ہیں انھیں نرم بنانے کے لیے سات کپ پانی میں آدھا کپ دودھ ملائیں۔ اس میں کپڑے کو ایک سے دو گھنٹے تک بھگو دیں پھر عام ڈٹرجنٹ سے دھولیں۔ کپڑے نرم و ملائم ہوجائیں گے۔

کپڑے دھوتے وقت کیا کریں

٭دس چھٹانک کلف میں ایک چھوٹا چمچہ سہاگہ شامل کردیں اور کپڑے دھو لیں۔

٭اونی کپڑے ہمیشہ ڈٹرجنٹ سے دھوئیں صابن سے نہ رگڑیں ورنہ وہ پھیل کر لمبے اور بدوضع ہوجائیں گے۔

٭اگر ریشمی کپڑوں میں چمک پیدا کرنا چاہتی ہیں تو ان کپڑوں کو دھونے کے لیے ایسے پانی کو استعمال کریں جس میں آلو اُبالے گئے ہوں۔

شناختی عنوان:,

تبصرہ کریں