Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

'جو ہم نے رخائن میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران دیکھا ہے وہ بالکل ایک ناقابل قبول سانحہ ہے'

اقوام متحدہ، رخائن، میانمر، مسلمانتصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینتونیو گوتریز جمعرات کے روز نیو یارک میں سلامتی کونسل کو اس بحران کے بارے میں آگاہ کریں گے

برطانیہ نے میانمار کو خبردار کیا ہے کہ روہنگیا بحران ایک ‘ناقابلِ قبول سانحہ’ ہے اور آنگ سان سوچی کی حکومت کو تشدد ختم کرنا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد کے راستے میں رکاوٹیں ختم کرنی ہوں گی۔

برطانیہ کے ایشیا کے لیے وزیر مارک فیلڈ کا کہنا ہے کہ ‘جو ہم نے رخائن میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران دیکھا ہے وہ بالکل ایک ناقابل قبول سانحہ ہے’۔

یہ بیان انھوں نے جمعرات کے روز میانمار کے دورے کے بعد دیا جس کے دوران ان کی ملاقات آنگ سان سوچی سے ہوئی اور انھوں نے مغربی ریاست رخائن کا دورہ کیا جو خونریزی کا مرکز رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے ‘ہمیں تشدد کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور وہ تمام لوگ جو چلے گئے ہیں فوری طور پر اور محفوظ انداز میں اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔

مارک فیلڈ نے مزید کہا ‘برما نے حالیہ برسوں کے دوران عظیم اور فیصلہ کن اقدام کے ذریعے پیش رفت کی ہے لیکن وہاں جاری تشدد اور رخائن میں انسانی بحران اس کی ترقی کو خطرے میں ڈال رہا ہے’۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینتونیو گوتریز جمعرات کے روز نیو یارک میں سلامتی کونسل کو اس بحران کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ انھوں نے کونسل کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں میانمار میں ہونے والی ‘انسانی تباہی’ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

میانمار کی حکومت کہتی ہے کہ وہ ملک میں ابھرتے ہوئے ‘دہشت گرد’ گروپوں کے خلاف لڑ رہی ہے

بودھ اکثریت کے حامل ملک میانمار میں مسلمان اقلیت کے پانچ لاکھ کے قریب روہنگیا فوج کے ڈر سے بنگلہ دیش چلے گئے ہیں۔

ایسے میں جب میانمار کی حکومت کہہ رہی ہے کہ وہ ابھرتے ہوئے ‘دہشت گرد’ گروپوں کے خلاف لڑ رہی ہے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ زید رعد الحسین اس کو نسل کشی کی کتابی مثال قرار دیتے ہیں۔

میانمار تنازعے کے علاقے میں بلا رکاوٹ رسائی کی اجازت نہیں دیتا تو ایسی صورتحال میں اس بات کی تصدیق کرنا ناممکن ہے کہ کتنے افراد مارے گئے ہیں۔

میانمار کی فوج جنگی جرائم کے الزامات کو مسترد کرتی ہے اور شدت پسندوں کی جانب سے بودھ اور ہندوں پر حملوں کے واقعات کی نشاندہی کرتی ہے۔ کم و بیش 11 لاکھ روہنگیا مسلمان میانمار میں کئی دہائیوں سے امتیازی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں جہاں انھیں شہریت بھی حاصل نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

کم و بیش 11 لاکھ روہنگیا مسلمان میانمار میں کئی دہائیوں سے امتیازی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں جہاں انھیں شہریت بھی حاصل نہیں

مایوسی کا شکار روہنگیا آبادی کے لوگ کئی سالوں سے انسانی سمگلروں کو رقم دے کر ملک سے باہر نکلنے کے طریقے تلاش کرتے ہیں۔ اس کا اکثر انجام سمندر میں ان کی موت پر ہوتا ہے یا پھر قید کے دوران جرائم پیشہ افراد تاوان کے لیے ان کا استحصال کرتے ہیں۔ عام طور پر یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جن پر روہنگیا اعتماد کرتے ہیں کہ وہ انھیں تھایی لینڈ یا ملائشیا پہنچا دیں گے۔

عالمی فلاحی ادارے آکسفام نے خبردار کیا ہے کہ چار لاکھ 80 ہزار روہنگیا پناہ گزینوں میں سے 70 فیصد کے پاس مناسب پناہ اور 50 فیصد کے پاس پینے کا صاف پانی نہیں ہے۔


News Source

'جو ہم نے رخائن میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران دیکھا ہے وہ بالکل ایک ناقابل قبول سانحہ ہے'

تبصرہ کریں