Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

کیا ترکی کے تاریک دن لوٹ آئے؟


ترکی میں تشددImage copyright
unknown

Image caption

اس قسم کی تصاویر سے ترکی میں تشدد کی کہانیوں کو تقویت ملی ہے

سیلسن بایون نے اپنے فون پر ویڈیو چلا کر ایک گہری سانس لی اور فون میری طرف بڑھا دیا۔ 15 جولائی سے اب تک میں اس ویڈیو کو کئی مرتبہ دیکھ چکا ہوں، لیکن جب بھی دیکھتا ہوں میرے ہوش اڑ جاتے ہیں۔

ویڈیو میں زخمی سر لیے ایک شخص کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سیلسن نے کہا:’ یہ شخص میرا موکل ہے۔‘

’اسے اور کچھ دیگر لوگوں کو بری طرح پیٹا گیا تھا۔ ان کے سر پکڑ کر دیوار کے ساتھ مارے گئے تھے۔ انھیں زبردستی گرم تارکول پر گھٹنوں کے بل بیٹھنے پر مجبور کیا گیا جس کی وجہ سے ان کی ٹانگوں پر جلائے جانے کے زخم تھے۔‘

ویڈیو میں ایک پولیس افسر کو دیکھا جا سکتا تھا جو تفتیش کے دوران ایک شخص کا گلا گھونٹ کر اس سے اقرار کرانے کی کوشش کر رہا تھا۔

اس ویڈیو میں جو افراد نظر آ رہے تھے وہ دراصل بڑح بڑے فوجی عہدیدار تھے جن پر شبہ ہے کہ انھوں نے اس سال اردوغان حکومت کا تحتہ الٹنے کی کوشش کی تھی۔

Image copyright
EPA

Image caption

ناکام بغاوت کے بعد تقریباّ چالیس ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا تھا

اس ویڈیو میں خاص طور وہ فوجی افسر دکھائی دیے جن پر الزام ہے کہ ان ایف 16 طیاروں اور ٹینکوں کی کمان ان کے ہاتھ میں تھی جنھوں نے پارلیمان کی عمارت کو تباہ کرنا تھا اور استنبول اور انقرہ کی سڑکوں پر مظاہرین پر گولیاں برسانا تھیں۔

یہ سازش شاید ترکی کی تاریخ کی اس قسم کی سب سے زیادہ خونریز کوشش تھی اور اس میں کم از کم 265 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اور اس سازش کے نتیجے میں جس بڑے پیمانے پر مخالفین کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی، ترکی کی حالیہ تاریخ میں اس کی بھی مثال نہیں ملتی۔ سازش کے بعد سے اب تک ملک میں ایک لاکھ 25 ہزار سے زیادہ افراد کو ملازمتوں سے برخاست یا معطل کیا جا چکا ہے اور اس کے علاوہ تقریباّ چالیس ہزار افراد کو اس شبہے میں گرفتار کیا جا چکا ہے کہ ان کا تعلق فتح اللہ گولین کی اسلامی تحریک سے ہے۔

Image caption

بی بی سی کو دکھائی جانے والی ویڈیوز میں زیر حراست افراد پر تشدد دکھائی دیتا ہے

حراست کے دوران ان افراد کے ساتھ بد سلوکی اور تشدد کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بھی کچھ لوگوں نے نہایت پریشان کن اور ہولناک کہانیاں سنائی ہیں۔

سیلسن بایون کے بقول جن افراد سے ان کی ملاقات ہوئی، تشدد کے نتیجے میں ان کی پسلیاں ٹوٹ چکی تھیں، کمر پر دیر تک ہتھکٹریاں لگانے کی وجہ سے ان کی کلایوں پر زخم بن گئے تھے اور ان کے سروں پر بھی مار پیٹ کے نشان تھے۔‘

’ترکی میں وکیل اور موکل کے درمیان ملاقات پر بہت سختی ہے۔ ملاقات کے دوران پولیس اور جیل کے نگران اہلکار مسلسل وہاں بیٹھے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ گفتگو میں بھی شامل ہو جاتے ہیں اور ملزم کے نام آنے والے ہر خط کو کھول کر پڑھ لیتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے موکل ہمیں سچ بتانے سے گھبراتے ہیں اور یہ نہیں بتا پاتے کہ ان پر کیا گزر رہی ہے۔‘

Image caption

کامل کے بقول ان کے بازو پر نشان تشدد کی وجہ سے ہیں

سیلسن نے مجھے جو ویڈیو دکھائی تھی، وہ ترکی میں تختہ الٹنے کی ناکام سازش کے چند دن بعد ہی منظر عام پر آ گئی تھی اور اس میں سازش کے جن مبینہ ملزمان کو کیمرے کے سامنے سے گزارا گیا تھا، ان کی ناکیں ٹوٹی ہوئی تھیں اور ان کے جسم کے دیگر حصوں پر بھی زخموں کے نشان واضح تھے۔

اس کے علاوہ ایک اور ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ ایک پولیس اہلکار نے بنائی تھی۔ اس ویڈیو میں بھی پولیس اہلکاروں کو زیر حراسست افراد کو گھونسے اور ٹھوکریں مارتے دکھایا گیا تھا اور ان کا خون بہہ رہا تھا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنشیل نے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ انھیں ایسی ’قابل بھروسہ‘ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ترکی میں زیرِ حراست افراد کو دیگر جسمانی تشدد کے علاوہ ریپ کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔

اسی طرح بی بی سی کو بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس میں ان لوگوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے جن پر شک ہے کہ انھوں نے تختہ الٹنے کی سازش میں حصہ لیا تھا۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے ’دہشتگردی کی حمایت کی‘ اور ان لوگوں میں کرُدوں کے علاوہ بائیں بازو کے سیاسی کارکن بھی شامل ہیں۔

Image caption

کہاد ساتکاؤلو کو تشدد کی زیادتی کی وجہ سے ہسپتال داخل کرانا پڑ گیا تھا

ایسے ہی افراد میں ایک نام کامل الحق کا بھی ہے جن پر الزام ہے کہ ان کا تعلق کالعدم عسکریت پسند تنظیم ’پی کے کے‘ کے ساتھ تھا۔ انھیں استنبول کے ایسنلر اور وطن کے علاقے کے تھانوں میں رکھا گیا تھا جہاں ان کے بقول ان پر شدید تشدد کیا گیا۔

بی بی سی کے ساتھ ایک طویل گفتگو میں کمال کا کہنا تھا کہ ان پر تشدد کا آغاز اس وقت ہوا جب پولیس والوں نے ان کے منہ میں بندوق کی نالی ڈالی اور ان سے کہا کہ وہ اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔ اس دوران انھیں بیت الخلا تک نہیں جانے دیا گیا۔

کامل کے بقول ’ان لوگوں کے پاس ایسے دو سو افراد کی تصویریں تھیں اور ان کا مطالبہ تھا کہ ہم ان کے اس الزام کی تائید کریں کہ واقعی یہ لوگ ’پی کے کے‘ کے کارکن تھے۔‘

’جب میں نے اس سے انکار کیا تو انھوں نے ہمارے جسم کے نازک حصوں کے ساتھ وزن باندھ دیا۔ میں ابھی تک جسم کے نچلے حصے میں شدید درد محسوس کرتا ہوں۔ وہ ہم پر گرم پانی انڈھیلتے تھے اور ہمیں پھر سے مارنا شروع کر دیتے تھے۔ اگرچہ ہمیں وہاں سے ہسپتال منتقل کر دیا گیا لیکن پولیس والوں نے ڈاکٹروں کو منع کر دیا کہ وہ کوئی چیز ریکارڈ میں نہ لائیں۔‘

کامل کے علاوہ کئی دیگر افراد کے معاملے میں بھی طبی عملے پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ بغیر معائنے کے ان لوگوں کی میڈیکل رپورٹوں پر دستخط کر دیں۔‘

کمال کے بقول وہ لوگ کہتے تھے کہ ’ اگر تم زبان نہیں کھولو گے تو ہم تمہاری بیوی کو اٹھا کر یہاں لے آئیں گے اور تہماری آنکھوں کے سامنے اسے ریپ کریں گے۔‘

’وہ لوگ مجھے ایک تاریک کمرے میں لے گئے اور زبردستی ایک ڈنڈا میری مقعد میں گھسانے کی کوشش کی۔ جب وہ ایسا نہ کر سکے تو تب انھوں نے میری جان چھوڑی۔‘

’میں خود پر کیے جانے والے ہر تشدد کو بھول جاؤں گا، لیکن مجھ پر جو جنسی تشدد کیا گیا، اس کا زخم میرے دل پر بہت گہرا ہے۔‘

کامل کے علاوہ بی بی سی نے دو مزید افراد کی رپورٹیں بھی حاصل کی ہیں جن کا الزام ہے کہ انھیں بھی جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ان افراد کو ترکی کے جنوبی شہر ارفا سے اس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا کہ ان کا تعلق ایک مارکسسٹ گروہ سے ہے۔ ان افراد کی طبی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ ’ان کے جسم کے نازک حصوں پر ایسے نشان دیکھے گئے ہیں جو صرف اسی وقت ہو سکتے ہیں جب ان حصوں پر شدید تشدد کیا جائے۔‘

سازش کے مبینہ مرتکب افراد کے علاوہ ترکی میں حکومت کے سیاسی مخالفین پر بھی تشدد ہو رہا ہے۔ مثلاّ جب کُرد نواز جماعت ’ایچ ڈی پی، کے ایک رکن اسمبلی کے بیٹے کو اغوا کیا گیا تو حراست کے دوران اس کی حالت اتنی بگڑ گئی کہ اسے فوری طور پر ہسپتال پہنچانا پڑ گیا۔

ہسپتال میں جب بی بی سی نے کہاد ساتکاؤلو سے ملاقات کی تو اس وقت بھی ٹوٹی ہوئی پسلیوں کے درد سے ان کا بُرا حال تھا۔

بی بی سی نے ان کی جو میڈیکل رپورٹ حاصل کی، اس میں لکھا تھا کہ ’کہاد کے جسم پر مار پیٹ کے نشانات کے علاوہ ان کے سر پر بھی زخم تھے۔ جب ہم نے ان کی کمر سے پٹی ہٹا کر دیکھا تو ہمیں وہاں بھی ایک بہت گہرا زخم دکھائی دیا۔

’جس لمحے مجھے گرفتار کیا گیا اس وقت سے لیکر ہسپتال لائے جانے تک مجھے مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ’یہ مار پیٹ کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔ جب مجھے ہسپتال لایا گیا تو تب بھی ان لوگوں نے ڈاکٹروں پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ وہ میرے جسم پر تشدد کی تفیصل نہ لکھیں۔ لیکن میری میڈیکل رپورٹ نے تصدیق کر دی کہ مجھ پر کتنا تشدد کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کے آتے ہی متعلقہ پولیس والے ہسپتال سے بھاگ گئے اور ان کی جگہ نئے اہلکار آ گئے۔

’اگر تو چند پولیس والے تشدد کرتے تو آپ کہہ سکتے تھے کہ یہ ان کا انفرادی فعل تھا۔ لیکن ایسا نہیں تھا، بلکہ موٹر سائیکل سوار اہلکاروں، سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں، انسدادِ دہشتگردی کے اہلکاروں، سب نے مجھ پر تشدد کیا۔ جب وہ تشدد کر رہے تھے تو انھیں کسی کا ڈر نہیں تھا۔‘

ماہرین کہتے ہیں کہ تختہ الٹنے کی حالیہ سازش کے دنوں میں ترکی میں ہر کسی پر تشدد ہو رہا تھا۔ اس کے علاوہ سنہ 1980 اور سنہ 1990 کی دہائیوں میں جب کُرد عسکریت پسند تحریک زوروں پر تھی تو تب بھی تشدد کی کہانیاں عام تھیں۔

جب سنہ 2004 میں رجب طیب اردوغان کی جماعت اے کے پی نے اقتدار سنبھالا تو تشدد کم ہو گیا تھا اور مبینہ ملزمان کے لیے طبی سہولتیں اور اپنے وکیلوں تک رسائی بہتر ہو گئی تھی۔

لیکن گذشتہ سال میں جب سے کُردوں اور ترک حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، ایسا لگتا ہے کہ ترکی میں تاریک دن ایک مرتبہ پھر لوٹ آئے ہیں۔

تبصرہ کریں