Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

سرینگر کی شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کنارے عدنان سمیع کا کنسرٹ

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہفتہ کی شام سرینگر کی شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کنارے پر معروف گلوکار، موسیقار، پیانو نواز اور اداکار عدنان سمیع خان کا ایک کنسرٹمنعقد ہوا۔ کنسرٹ کا اہتمام بھارت کی وزارت داخلہ اور نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی ریاستی حکومت نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔

اگرچہ کنسرٹ دیکھنے کے لئے دو ہزار سے زائد لوگ جمع ہوئے تھے لیکن پنڈال کے سامنے سینکڑوں نشستیں خالی پڑی تھیں اور جن لوگوں نے کنسرٹ کو دیکھا ان کی اکثریت سرکاری ملازمین اور پولیس افسران اور ان کے اہلِ خانہ پر مشتمل تھی جنہیں مخصوص رنگوں کے کوڈڈ دعوت نامے جاری کئے گئے تھے۔

عام لوگوں کو کنسرٹ سے دور رکھا گیا۔ غالبا” اس کی وجہ نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی سیاسی صورتِ حال ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نےسماجی ویب سائٹ ٹویٹر کا رُخ کر کے کنسرٹ کی خالی کرسیوںپر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہیہ واقعی قابلِ افسوس ہے۔ اُن کے کئی فالوورز کی رائے تھی کہ اس سے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی زمینی صورتِ حال کی عکاسی ہوتی ہے۔

تاہم عدنان سمیع نے جوابی ٹویٹ میں لکھا “بھائی، آپ ایک سابق وزیرِ اعلیٰ ہیں۔ آپ کو ایک میوزک کنسرٹ سے یوں حواس باختہ نہیں ہونا چاہیے، جن لوگوں نے آپ تک یہ اطلاع پہنچا ئی ہے انہوں نے آپ سے جھوٹ کہا ہے”۔

عدنان سمیع نے تصویروں کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ کنسرٹ کو لوگوں کی ایک بھاری تعداد نے دیکھا اور ان کی موسیقی سے محظوظ ہوئے۔

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے محکمہ سیاحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ کنسرٹ منعقد کرنے کا مقصد جنتِ نظیر کہلائے جانے والی وادئ کشمیر میں سیاحت کو فروغ دینا تھا۔ جولائی 2016 میں عسکری کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد علاقے میں تقریباً چھ ماہ تک جاری رہنے والی بدامنی کی وجہ سے سیاحت کے شعبے کو ایک بار پھر شدید دھچکا لگا تھا- اس سال بھیسیاحوں کی آمد تقریباً نہ ہونے کے برابر رہی اور اس کی وجہ وادئ کشمیر کے نا مساعد حالات بتائے جاتے ہیں۔

عہدیدار کہتے ہیں کہ عدنان سمیع کے کنسرٹ کا اہتمام کرکے بیرونی دُنیا تک یہ پیغام پہنچانا مقصد تھا کہ کشمیر محض بندوقوں کی گھن گرج اور تشدد کا نام نہیں ہے۔

تاہم عام لوگوں میں کنسرٹ کے حوالے سے کوئی جوش وخروش مشاہدے میں نہیں آیا بلکہ بہت سارے شہریوں سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اسے کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف قرار دیا-

کنسرٹ کے لئے فقید المثال حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔

عدنان سمیع نے اپنے کنسرٹ سے پہلے جمعہ کو سرینگر کے ایک ہوٹل میں مقامی فنکاروں کے ساتھ ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے موسیقی کے سفر کے تجربات سے فنکاروں کو آگاہ کیا۔

انہوں نے آرٹ اور موسیقی کی افادیت پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ موسیقی انسانوں میں تفرقات کو دور کرتے ہوئے امن اور اخوت کا پیغام عام کرنے میں مدد دیتی ہے۔

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیرکے سفر کے اپنے تجربہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس خطے کی ایک اپنی منفرد ثقافت ہے جس کی جڑوں میں آرٹ پیوست ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کاتصوف اور صوفیانہ مزاج انہیں ہمیشہ ترغیب دیتے رہیں گے جس کی بدولت وہ مستقبل میںاچھے گانے تیار کر پائیں گے۔


News Source

سرینگر کی شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کنارے عدنان سمیع کا کنسرٹ

loading...

تبصرہ کریں