Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

بھارت: بابری مسجد کی شہادت کو چوبیس سال ہوگئے


File Photo

File Photo

ایودھیا: بھارت میں انتہا پسند ہندؤوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت کوآج چوبیس سال گزرگئے ہیں۔تاریخی مسجد کو انیس سوبیانوے میں انتہاپسند ہندوؤں نے شہید کردیا تھا۔ بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر کے حکم پر پندرہ سو ستائیس عیسوی میں تعمیر کی گئی تھی۔

چھ دسمبر انیس سو بانوے کا وہ سیاہ دن جب  بھارتی مذہبی جنون بے قابوہوااور تاریخی بابری مسجد پر یلغارکرکے اسے شہید کردیا۔

بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیا کی عظیم ترین بابری مسجد کو شہید ہوئے آج  چوبیس سال گزر گئے،بابری مسجد جو مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے نام سے منسوب ہے۔ بھارتی ریاست اتر پردیش کی بڑی مساجد میں سے ایک تھی جبکہ  مسجد اسلامی مغل فن تعمیر کے اعتبار سے ایک شاہکار تھی۔

انتہا پسند ہندو دعویٰ کرتے ہیں کہ ‘رام’ کی جائے پیدائش پر بابری مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ انیس سو اننچاس کو بابری مسجد کو متنازعہ قرار دے کر بند کرادیا گیا،جس کے بعد چالیس سال سے زائد عرصے تک مسلمانوں اور ہندؤوں کے مابین یہ تنازعہ چلتا رہا۔

حکمراں جماعت بھارتیا جنتا پارٹی نے ایل کے اڈوانی کی قیادت میں انتہا پسند  تنظیموں وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور شیو سینا کے ساتھ رام مندر کی تعمیر کے لیے ایک تحریک چلائی تھی۔

تحریک کے دوران  ڈیڑھ لاکھ  انتہا پسند ہندوؤں نے بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کےا علیٰ رہنماؤں اور نیم فوجی دستوں کے سینکڑوں مسلح جوانوں کی موجودگی میں تاریخی مسجد کو منہدم کرڈالا، جس کے بعد دہلی اور ممبئی سمیت بھارت  میں تقریباً دو ہزار مسلمانوں کو ہندو مسلم فسادات میں مار دیا گیا۔

بابری مسجد کا تنازعہ اس وقت بھی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان شدید تناو  کا باعث ہے اور اس کا مقدمہ بھارتی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

تبصرہ کریں