Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

بھارتی فورسز کی فائرنگ سے مزید 4 کشمیری جاں بحق



بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کے ضلع اسلام آباد میں دو مختلف واقعات میں فورسز کی فائرنگ سے 4 کشمیری نوجوان جاں بحق ہوگئے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے ضلع اسلام آباد کے علاقے اروانی میں سرچ آپریشن کے دوران 3 کشمیری نوجوانوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔

مذکورہ کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد ضلع اسلام آباد اور کولام میں بھارت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

نہتے کشمیری عوام اروانی، بیجبیھارا، سنگام، ویسو، قاضی گوند، اسلام آباد، قائیوہ، خودوانی، کولگام اور دیگر علاقوں کی سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین نے آزادی اور پاکستان کے حق جبکہ ہندوستان مخالف نعرے لگائے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا یوم آزادی ‘کشمیر کی آزادی’ کے نام

جس پر بھارتی پولیس اور فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا۔

اس دوران اروانی کے علاقے میں بھارتی فورسز کی فائرنگ سے مزید ایک کشمیری نوجوان ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔

اس کے علاوہ بھارتی فورسز نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی کوریج کرنے والے فوٹو گرافر پر بھی لاٹھیاں برسادیں جبکہ اس کا کیمرہ توڑ دیا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس موقع پر کشمیر میں ہندوستان کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے ضلع اسلام آباد میں موبائل اور انٹر نیٹ سروس معطل کردی۔

بعد ازاں کشمیری حریت رہنماؤں اور ہزاروں کشمیریوں نے مقتول نوجوان کے جنازے میں شرکت کی، جس کے بعد بھارتی پولیس نے حریت رہنما مختار احمد وازہ کو گرفتار کرکے اسلام آباد پولیس اسٹیشن میں لاک اپ کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فورسز کشمیریوں کی طبی امداد تک رسائی میں رکاوٹ

بھارتی فورسز کے ہاتھوں نہتے کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت پر جموں اینڈ کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی اور حریت رہنماؤں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، جاوید احمد میر نے ایک بیان میں مذکورہ نوجوان کی قربانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی قربانیاں ضائع نہیں کی جائیں گی اور ان کا مشن ہرحالت میں تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔

دوسری جانب بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع اسلام آباد میں بھارتی فورسز کے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے افراد مبینہ طور پر عسکریت پسند تھے۔

بھارتی فورسز کا دعویٰ تھا کہ انھیں 6 گھنٹے طویل جھڑپ کے دوران ہلاک کیا گیا۔

مزید دیکھیں: جموں و کشمیر میں کرفیو کا 119واں روز

بھارتی میڈیا نے ضلعے بھر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی پولیس کا کہنا ہے کہ کشمیری نوجوانوں کا تعلق وادی کے جنوبی علاقوں سے تھا۔

بھارتی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اروانی میں ہونے والے اس آپریشن کے موقع پر لشکر طیبہ کا مبینہ کمانڈر ابو دجانہ بھی مبینہ عسکریت پسندوں کے ساتھ موجود تھا تاہم ان افواہوں کی تصدیق یا تردید نہیں ہوسکی۔

واضح رہے کہ کشمیر میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی بھارتی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں اور سیکیورٹی فورسز سے تصادم کے نتیجے میں 100 سے زائد کشمیری ہلاک اور 10 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

8 برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں مظاہروں اور جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے بعد انڈین حکام نے وادی بھر میں کرفیو نافذ کردیا تھا۔

وادی بھر میں اسکولز، دکانیں اور بینک وغیر بند ہیں جبکہ انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی بند ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کرفیو کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد کشمیری نوجوانوں کی زندگیاں بچانا ہے، ہم کرفیو نافذ نہ کریں تو کیا کریں۔

یاد رہے کہ پاکستان نے کشمیر کی حالیہ صورتحال پر ہندوستان کو مذاکرات کی کئی بار دعوت دی تاہم انڈیا نے کشمیر پر مذاکرات سے صاف انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیاہوا ہے کہ وہ صرف دہشتگردی پر بات کرے گا۔

حال ہی میں نومنتخب امریکی نائب صدر مائیک پینس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ‘اپنے غیر معمولی تجربات اور صلاحیتوں’ کو بروئے کار لاکر مسئلہ کشمیر سمیت دنیا کے کئی مسائل حل کرسکتے ہیں۔

تبصرہ کریں