Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

’ایسا لگا جیسے میں مزار نہیں بلکہ قبرستان میں داخل ہو گئی ہوں‘


سیہون میں لال شہباز قلندر کے مزار میں داخل ہوتے ہی اگر بتی یا پتیوں کی خوشبو نہیں بلکہ جلے ہوئےانسانی اعضا کی بو گذشتہ روز کی تباہ کاری کا پتا دیتی ہے۔

مزار میں ہلاک ہونے والے عقیدت مندوں کا خون سارے فرش پر پھیلا ہے جس پر مکھیاں بھن بنا رہی ہیں۔ جہاں قدم رکھو وہیی یا تو کسی کے کانوں کی بالی پڑی ہے، کہیں جلے ہوئے کپڑوں کے ٹکڑے تو کہیں بچوں کے جوتے اور دودھ کی بوتل۔

خون میں رنگی گلابی رنگ کی دودھ کی بوتل دیکھ کر میں یہی سوچ رہی تھی کہ اتنی کمر عمر کا بچہ جمعرات کو کتنی خوشی کے ساتھ دھمال کا حصہ بننے آیا ہو گا۔ شاید اس نے رو رو کر ماں کو اتنا تنگ کیا ہو گا وہ اسے اپنے ساتھ مزار پر لانے پر مجبور ہو گی۔

معصوم بچوں کے چہرے بھی خود کش بمبارکو ٹریگر دبانےسے نہ روک سکے۔

پیار اور امن کا پیغام دینے والا مزاز نفرت کی نظر ہو گیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے میں مزار نہیں بلکہ قبرستان میں داخل ہو گئی ہوں جہاں قبروں کی مٹی ابھی تازہ ہے۔

عیقدت مند رہے نہیں، مزار پر پولیس اور ریجنزز بندوقیں تانے جگہ جگہ کھڑے ہیں۔ مگر اب بہت دیر ہو چکی ہے کیونکہ 80 سے زیادہ گھر ہمیشہ کے لیے اجڑ چکے ہیں۔ جیسے یہ بندوقیں حادثے کے بعد محض بے گناہ شہریوں کو ڈرانے کے کام آتی ہوں۔

مزار میں وحشت ہے۔ شہریوں میں غم و غصہ ہے۔ ایک رہائشی ریاض کہتے ہیں کہ ‘ہمیں لگنا شروع ہو گیا تھا کہ پاکستان پر امن ہوتا جا رہا ہے مگر یہ وقتی سکون تھا۔ اور یہ کیسا امن ہے جو کچھ دن ہی برقرار رہا۔’

جب بھی تصویر بنانے لگتی تو کوئی نہ کوئی کان میں آکر کہتا ‘میڈم ادھر ایک بازو پڑا ہے اس کی تصویر بنائیں۔ میڈم ادھر کان پڑے ہیں اس کی تصویر بنائیں۔ تصویر بنانی تو دور کی بات میرے میں تو اسے دیکھنے کی ہمت بھی نہیں ہوئی۔’

نواب شاہ سے تعلق رکھنے والی عائشہ مزار میں ہی رہتی ہیں۔ وہ دھماکے کے وقت بازار میں تھیں اس لیے بچ گئیں۔

ایک خاتون مسلسل رو رہی تھیں۔ وہ کہتی ہیں ‘یہ میرا گھر ہے اس لیے میں نے اپنی دوست سے کہا کہ وہ اس جمعرات آئے اور دھمال کرے۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ دھمال اس کی زندگی کی آخری دھمال ثابت ہو گا۔ کیا اس ملک میں ہم اپنے بڑوں کو اب عیقدت بھی پیش نہیں کر سکتے۔’

تبصرہ کریں