Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

گلگت بلتستان صوبے کی تجویز، کشمیری راہنماؤں کا اظہارِ تشویش

[ad_1]

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے گلگت بلتستان کو پاکیستان کا صوبہ بنانے کی تجویز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، اسے تقسیم کشمیر کی مبینہ سازش قرار دیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حزب مخالف پاکستان پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’مسلم لیگ ن کی حکومت تقسیم کشمیر کے منصوبے پر عمل پیرا ہے‘‘۔

مطفرآباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے، پیپلز پارٹی پاکستانی کشمیر کے سینئر راہنما چوہدری لطیف اکبر نے کہا ہے کہ ’’گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا اقدام تقسم کشمیر کے مترادف ہے، جس کے خلاف ہر سطح پر احتجاج کیا جائے گا‘‘۔

بقول اُن کے، ’’گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے جسے مسلم لیگ ن کی قیادت ریاست سے الگ کرکے پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی سازش کر رہی ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’ریاست جموں و کشمیر کی 14 اگست، 1947ء کی جغرافیائی حدود میں آزاد کشمیر ‘گلگت بلتستان‘ مقبوضہ کشمیر، لداخ اور اکسائی چن شامل ہیں۔ یہ متنازعہ ریاست کی حیثیت سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے؛ جس کی آئینی اور جغرافیائی حدود میں کسی قسم کا رد و بدل نہیں کیا جا سکتا‘‘۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے مزید کہا کہ ’’پی پی پی نے گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی حقوق دئے اور گلگت بلتستان کونسل و قانونساز اسمبلی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ لیکن، موجودہ حکومت نے تقسیم کشمیر کی راہ ہموار کرتے ہوئے اسے پاکستان میں ضم کرکے صوبہ بنانے کی سازش کرکے ریاست کی جغرافیائی وحدت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ ہم اس اقدام کی کسی صورت حمایت نہیں کرین گے‘‘۔

بقول اُن کے، ’’گلگت بلتستان کو ریاست سے الگ کرنے کا مقصد کشمیریوں کے مقدمے کو کمزور کرنا ہے۔ اگر، خدانخواستہ، گلگت بلتستان کو صوبہ بنا دیا گیا تو کل پاکستانی کشمیر کو صوبہ بنائے جانے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ اس اقدام کے کشمیر کی صورت حال پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے‘‘۔

چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اس حوالے سے لاہو ر میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے جس میں تمام معاملات کو زیر غور لایا جائیگا۔

تحریک انصاف پاکستانی کشمیر کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم برسٹر سلطان محمود نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں کہا ہے کہ ہم گلگت بلتستان کے لوگوں کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن، کشمیر ایک وحدت ہے جسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو حقوق دینے کے لئے وہاں پاکستانی کشمیر کی طرز پر حکومت قائم کی جائے یا انہیں پاکستانی کشمیر میں نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس اقدام کی ہر سطح پر مخالفت کی جائے گی‘‘۔

’جموں کشمیر پیپلز پارٹی‘ کے سربراہ اور قانوں ساز اسمبلی کے رکن سردار خالد ابراھیم نے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی کوشش کشمیر کے تنازعہ کو دو ملکوں کا باہمی تنازعہ بنانے کے مترادف ہے۔

بقول ان کے، ’’جو غلط اقدام ستر سال پہلے بھارت نے اپنے زیر انتظام کشمیر کو صوبہ قرار دے کر کیا تھا، پاکستان اسے آج کرنا چاہ رہا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے گلگت بلتستان میں وزیر اعلیٰ اور گورنر مقرر کرکے اسے صوبے کا درجہ دینے کی راہ ہموار کی تھی، آج مسلم لیگ ن کی حکومت اسے باقاعدہ صوبہ بنانے کے درپے ہے‘‘۔

حزب مخالف کی ایک اور جماعت، مسلم کانفرس کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تجاویز سے تنازعہ کشمیر کی بین الاقومی حثیت کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔

جماعت کے سنئیر راہنما اور قانون ساز اسمبلی کے رکن سردار صغیر چغتائی نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’کشمیر متنازعہ علاقہ ہے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لئے کشمیر کی تقسیم پر کارفرما ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے جسے مسلم لیگ ن کی قیادت ریاست سے الگ کرکے پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی سازش کر رہی ہے‘‘۔

کشمیر کی خودمختاری کی حامی جموں کشمیر لبرشن فرنٹ پاکستانی کشمیر کے صدر توقیر گیلانی کے خیال میں اگر گلگت بلتستان کو صوبہ بنایا گیا تو کشمیریوں اور پاکستان کے درمیان ایک مستقل لکیر کھچ جائے گی‘‘، کیونکہ کشمیری، بقول ان کے ’’ڈیڑھ لاکھ جانوں کی قربانی دے چکے ہیں‘‘۔

پاکیستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکمران جماعت، مسلم لیگ ن کی طرف سے ماضی میں گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی مخالفت کی جاتی رہی ہے ۔ لیکن، وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کی طرف سے میڈیا میں آنے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اگر گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان کے ساتھ ملنا چائیں تو انہیں نہیں روکا جا سکتا‘‘۔

تاہم، پیر کے روز پاکستانی کشمیر کی حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’وزیر اعظم فاروق حیدر اور گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ایک ملاقات میں گلگت بلتستان کے حوالے سے مجوزہ آئینی ترامیم کے حوالے سے تبادلہٴ خیال کیا گیا، جس میں دونوں راہنماوں نے اس بات پر اتفاق کا اظہار کیا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں اختیار کردہ تاریخی و مبنی بر انصاف موقف کی روشنی میں ہی زیر تجویز کو زیر غور لایا جارہا ہے‘‘۔

ملاقات میں اس بات پر اتفاق کا اظہار کیا گیا کہ’’ مسئلہ کشمیر کی مسلمہ، تاریخی اور آئینی اور حقیقی روح کو متاثر کیے بغیر، گلگت بلتستان کے آئینی و انتظامی معاملات اور حکومت پاکستان سے مالی وسائل کی فراہمی کے حوالے سے مناسب اقدام کو یقینی بنایا جائیگا۔ ملاقات میں اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ گلگت و بلتستان کے حوالے سے کوئی ایسا اقدام زیر تجویز نہ آئے جس سے مسئلہ کشمیر کے متاثر ہونے کا امکان یا خدشہ ہو‘‘۔

خیال رہے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سیاسی راہنماؤں کی طرف سے گلگت اور بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے پر تشویش کا اظہار ایک ایسے وقت کیا جا رہا ہے کی جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علیحدگی پسند راہنماوں نے اس علاقے کو صوبہ بنانے کے خلاف پاکستان کو خبردار کیا ہے۔

[ad_2]

تبصرہ کریں