Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

فاٹا اصلاحات کا نیا بل یا ’تاخیری حربہ؟‘

فاٹا

قبائلی علاقوں کے مستقبل کے بارے میں نئے بل میں سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ تک قبائلی عوام کو رسائی دی گئی ہے لیکن اس میں پشاور ہائی کورٹ کا ذکر نہیں ہے۔

اصلاحات کے حوالے سے وفاقی کابینہ کے فیصلے پر قبائلی رہنماؤں اور آئینی ماہرین نے ملے جل رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ فاٹا کے منتخب اراکین کا کہنا ہے کہ جو بھی اصلاحات ہو رہی ہیں وہ تسلیم کرتے ہیں۔ دوسری طرف آئینی ماہر لطیف آفریدی کہتے ہیں کہ جب تک فاٹا کے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام نہیں ہوتا تب تک سب دھوکہ ہے۔

وفاقی کابینہ نے گذشتہ روز فاٹا میں رائج قانون ایف سی آر اور رواج ایکٹ کی جگہ ایک نیا بل لانے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ بل جلد قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائےگا۔

حکومت کے اس فیصلے پر خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی الحاج شاہ جی گل آفریدی نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں کے حوالے سے کمیٹی کے اجلاس میں اراکین نے کابینہ کے فیصلے کو تسلیم کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘تمام اراکین اس پر متفق تھے کہ اصلاحات کی مخالفت کوئی نہیں کرے گا، خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کی مخالف کوئی نہیں کرتا اور رواج کی سب مخالفت کرتے ہیں اور یہ اتفاق اس لیے ہے کہ تمام اراکین کی مشترکہ رائے ہونی چاہیے۔’

انھوں نے کہا کہ ان کی خواہش تھی کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کیا جاتا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جگہ پشاور ہائی کورٹ تک قبائلی عوام کو رسائی دی جاتی۔

ان کا کہنا تھا ک’ہ جو کچھ مل رہا ہے اسے تسلیم کیا جائے، اس کے بعد پشاور ہائی کورٹ تک رسائی اور 2018 میں اگر صوبائی اسمبلیوں میں شمولیت کا اعلان ہوتا ہے تو پھر خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام بھی ہو جائے گا۔’

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

اس بارے میں سینیئر آئینی ماہر اور سیاتدان لطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ جلد بازی کا فیصلہ جو کابینہ نے کیا ہے اسی طرح اس سے پہلے نوازشریف بھی کر چکے ہیں۔

انھوں نے کہا ک’ہ خیبر پختونخوا کے ساتھ یہ انصمام کا طریقہ نہیں ہے بلکہ وفاق سب پر اپنا کنٹرول رکھنا چاہتا ہے اور صوبے کو اس سے مکمل نکالاگیا ہے اور یہ کسی بھی طریقے سے درست نہیں ہے۔’

انھوں نے کہا کہ اگر قبائلی عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں تو انھیں وہ تمام سہولیات دی جائیں جو دیگر صوبوں میں لوگوں کو حاصل ہیں ، لیکن کابینہ کا فیصلہ دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

‘یہ کمیٹی جو قائم کی جا رہی ہے جس میں چیف آف آرمی سٹاف اور وزیر اعلیٰ رکن ہیں اس میں دس سال کے ترقیاتی پروگرام کی بات کی گئی ہے، تو نئے فیصلے اور نئے سلسلے شروع کیے جا رہے ہیں۔ اگر صوبے کے ساتھ انضمام کر دیا جاتا ہے تو عدالتوں تک رسائی بھی ہو جائے گی اور تمام حقوق بھی میسر ہوں گے۔’

لطیف آفریدی نے کہا کہ اگر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اعلان کے بعد اگر یہ کوئی نئی پالیسی بنا رہے ہیں تو اس میں فاٹا کے عوام کو کیوں سزا دی جا رہی ہے؟

فاٹا اصلاحات کے حوالے سے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں قام کمیٹی نے قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کی تجویز دی تھی اور یہ بل پالیمان میں پیش کیا جانا تھا لیکن جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی مخالفت کی وجہ سے بل پارلیمان میں پیش نہیں کیا جا سکا۔

اب عوامی نیشنل پارٹی نے کل یعمی جمعرات کے روز فاٹا اصلاحات کے حوالے سے کل جماعتی کانفرنس طلب کی ہے جس میں سیاسی جماعتیں قبائلی علاقوں کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔


News Source

فاٹا اصلاحات کا نیا بل یا ’تاخیری حربہ؟‘

loading...

تبصرہ کریں