Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل دستاویزات پر سوالات اٹھادیئے


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما کیس کی سماعت کے دوران مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی) رپورٹ میں شامل دستاویزات پر سوالات اٹھا دیئے ۔

پیر کو سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں ہونے والی پاناما کیس کی سماعت تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری لندن فلیٹس، گلف اسٹیل، قطری خط اور ایف زیڈ ای کمپنی کی دستاویزات کے حوالے سےجے آئی ٹی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں جعلی قرار دیتے رہے۔

 جس پر جسٹس اعجاز افضل، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن نے متعدد سوالات اٹھائے۔

جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی دستاویزات کا سورس جانے بغیرانہیں درست قرار دیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا دستاویزات قانون کے مطابق پاکستان منتقل ہوئیں؟

جسٹس عظمت شخ نے استفسار کیا کہ ایف زیڈ ای دستاویزات سورس سےملیں یاقانونی معاونت کےتحت؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا جے آئی ٹی میں پیش کردہ  دستاویزات تصدیق شدہ ہیں؟

انہوں نے ریمارکس دیئے کہ فیصلہ مفروضات پرنہیں کرنا حقائق کےمطابق کریں گے،دستاویزات قابل منظور ہیں یا نہیں؟ اس پر بات ہونا باقی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگز سارا پاکستان جان چکا ہے، اسکے پابند نہیں۔

انہوں نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی فائنڈنگز پر عمل کیوں کریں؟یہ درخواست گزار نے بتانا ہے۔

تبصرہ کریں