Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

’غیرمصدقہ دستاویزات کی بنیاد پر استعفے کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا‘


مریم اورنگزیبتصویر کے کاپی رائٹ
PID

وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والے جے آئی ٹی کی جانب سے سپریم کورٹ کو مہیا کی گئی دستاویزات حاصل کردہ نہیں بلکہ تخلیق کردہ ہیں۔

پیر کو جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اندر اعتراف کیا گیا ہے کہ یہ دستاویزات تصدیق شدہ نہیں ہیں۔

انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں جلد نمر دس کو منظرعام پر لایا جائے۔

٭ ’رپورٹ غیرجانبدار نہیں، جے آئی ٹی نے حدود سے تجاوز کیا‘

٭ وزیر اعظم کے استعفے پر حزبِ اختلاف تقسیم

٭ میں مستعفی نہیں ہوں گا: وزیر اعظم نواز شریف

٭ نواز شریف کی ڈنڈا ڈولی

انھوں نے کہا کہ ان غیر تصدیق شدہ دستاویزات کی بنیاد پر وزیراعظم نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔

مریم اونگزیب نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر شریف خاندان کے تمام تحفظات آج بھی قائم ہیں۔

‘جے آئی ٹی کی رپورٹ میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ جے آئی ٹی کے ارکان کی رپورٹ بدنیتی پر مبنی ہے۔’

اس کے ساتھ وفاقی وزیر اطلاعات نے جے آئی ٹی کی جانب سے رپورٹ جمع کرائے جانے کے بعد بھی کام جاری رکھنے پر اعتراضات کرتے ہوئے کہا ہے کہ’یہ بتایا جائے کہ کس آئین، قانون اور سپریم کورٹ کے حکم نامے کے تحت جے آئی ٹی اب بھی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔’

انھوں نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں احتساب کمیشن کو تالہ لگانے والے اور سندھ میں احتساب کے اداروں کو بند کرنے والے وزیراعظم پر انگلی اٹھا رہے ہیں جنھوں نے اپنی تین نسلوں کا حساب دیا ہے۔

سماعت سے قبل سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم اب استعفیٰ دیں گے نہیں بلکہ ان سے استعفیٰ لیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

پارلیمان میں اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے

ادھر متحدہ قومی مومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ ‘وزیراعظم کو اخلاقی جواز پر وزارت سنبھالنی چاہیے اور جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد جو معلومات سامنے آئی ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم صاحب کے پاس اب کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے اور انھیں استعفی دے دینا چاہیے۔ ‘

سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد پاناما لیکس کیس میں فریق جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے کہا ہے کہ عدالتوں کی بحالی میں قوم نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور آج عدالت کا امتحان ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم تعصب کی بنیاد یا سیاسی مفادات کی بنیاد پر نہیں بلکہ ہم کرپشن فری پاکستان کے لیے نواز شریف صاحب سے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

‘خود حکمران کہتے ہیں کہ اگر 62، 63 پر عمل ہوا تو ایوان میں کوئی نہیں بچے گا۔ اب ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ غریب کے لیے عدالت مضبوط ہو لیکن اشرافیہ کے سامنے کمزور ہو۔’

خیال رہے کہ یہ رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد پاکستانی پارلیمان میں اپوزیشن کی بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

دوسری جانب چارروز قبل وزیراعظم نواز شریف نے کابینہ اجلاس میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ مستعفی نہیں ہوں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ الزامات، بہتان اور مفروضوں کا مجموعہ ہے۔

ان کی جماعت کی جانب سے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو ردی کی ٹوکری قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کسی بھی دلیل یا مستند مواد پر مشتمل نہیں۔

تبصرہ کریں