Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

چوہدری نثار کے لہجے کی تلخی، کیا حکمران جماعت میں دراڑیں پڑ رہی ہیں؟


تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

سیاسی اور صحافتی حلقوں میں جو سوال زیر بحث ہے وہ یہ ہے کہ کیا چوہدری نثار علی شریف خاندان سے اپنا رستہ الگ کر لیں گے؟

ایک ایسے وقت میں جب نواز شریف کی حکومت بحرانی کیفیت سے دوچار ہے، کابینہ کے اہم اور سینیئر ترین رکن کی جانب سے اپنی قیادت سے دوری کا تاثر کیا حکمران جماعت میں دراڑوں کی نشاندہی کرتا ہے؟

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی وزیر اعظم نواز شریف اور بعض وزرا کے ساتھ کشیدگی کی خبریں کچھ روز سے گردش کر رہی تھیں جن کی تصدیق وزارت داخلہ کے ترجمان کے اختتام ہفتہ جاری ہونے والے اس بیان سے ہوئی جس میں چوہدری نثار علی خان کے ترجمان نے بعض ساتھی وزرا پر تنقید کی اور انہیں حکومت کو درپیش بحران کا ذمہ دار قرار دیا۔

’تحقیقاتی ٹیموں کا راستہ ایک بند گلی‘

نواز شریف کا پانچواں سال

کہا جا رہا ہے کہ چوہدری نثار وزیراعظم سے اس بات پر ناراض ہیں کہ بد عنوانی کے الزامات کے دفاع کے لیے بنائی گئی ان کی حکمت عملی کو وزیراعظم نے نظرانداز کر کے ایسی حکمت عملی اختیار کی جس نے نواز شریف کو بلآخر نا اہلی کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

پانامہ پیپرز سے پیدا ہونے والے ہنگامے کے بیچوں بیچ چوہدری نثار کی ناراضی کی خبروں نے اس تاثر کو ہوا دی ہے کہ حکمران جماعت مسلم لیگ نواز ایک اندرونی بحران سے بھی دوچار ہے۔

سیاسی اور صحافتی حلقوں میں جو سوال زیر بحث ہے وہ یہ ہے کہ کیا چوہدری نثار علی شریف خاندان سے اپنا رستہ الگ کر لیں گے؟

بہت سے لوگ یہی توقع کر رہے ہیں لیکن کابینہ میں شامل بعض افراد اور حکمران جماعت کے قریبی سمجھے جانے والے بعض صحافی اس امکان کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

چوہدری نثار حکمران جماعت کے شاید واحد رکن ہیں جو نواز شریف کی رائے سے ڈنکے کی چوٹ پر اختلاف کرتے ہیں اور اپنی رائے سامنے رکھتے ہیں۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا اپنی پارٹی میں مقام اور اس کے سربراہ نواز شریف کے ساتھ تعلق خاصا دلچسپ موضوع ہے۔ وہ کبھی بہت ’ان‘ ہوتے ہیں اور پھر اچانک ’آؤٹ‘ ہو جاتے ہیں۔ پارٹی کے بیشتر رہنماؤں کو چوہدری نثار کی اپنی جماعت اور اس کی قیادت کے ساتھ آنکھ مچولی کی سمجھ نہیں ہے۔

بیشتر لوگ اسے چوہدری نثار کے مزاج کا حصہ سمجھتے ہیں کہ وہ پل میں تولہ پل میں ماشہ ہیں۔ اسی بنا پر کبھی وہ نواز شریف کے قریب اور کبھی دور دکھائی دیتے ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب اہم فیصلہ سازی کا موقع ہو۔ اس طرح کے موقعوں پر موجود ایک لیگی رہنما کے مطابق جب کسی اہم اور متنازع معاملے پر بحث ہو تو یوں لگتا ہے کہ دو اناؤں کے درمیان جنگ چل رہی ہے۔ ایک نواز شریف کی انا دوسری چوہدری نثار کی۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ چوہدری نثار حکمران جماعت کے شاید واحد رکن ہیں جو نواز شریف کی رائے سے ڈنکے کی چوٹ پر اختلاف کرتے ہیں اور اپنی رائے سامنے رکھتے ہیں جو اکثر نواز شریف کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔

سینئر صحافی سلمان غنی کے مطابق اس کے باجود نواز شریف سمیت کسی بھی مسلم لیگی رہنما کو چوہدری نثار کی مسلم لیگ کے ساتھ وفاداری پر شک نہیں ہے۔

’چوہدری نثار کی مسلم لیگ نواز سے وابستگی پر حکومت کے اندر لوگوں کو بھی کوئی شک نہیں۔ سب جانتے ہیں کہ چوہدری نثار کا ماضی حال اور مستقبل اسی جماعت کے ساتھ ہے اور وہ شریف خاندان کو چھوڑ کر جانے والے نہیں ہیں۔‘

کابینہ کے رکن حاصل بزنجو بھی اسی رائے کے حامل ہیں۔ ’میں قریباً تیس سال سے چوہدری نثار کو جانتا ہوں۔ وہ اختلافی رائے رکھتے ہیں اور اس کا اظہار بھی کرتے ہیں لیکن حکمران جماعت سے الگ ہونا ان کے ایجنڈے میں نہیں ہے۔‘

اگر چوہدری نثار علی خان اتنے ہی اصول پسند ہیں تو عین اس وقت انہوں نے ناراضی کا اظہار کر کے وزیراعظم کی مشکلات میں اضافہ کیوں کیا جب نواز شریف پہلے ہی نا اہلی کے خطرے سے دو چار ہیں؟

معاملات سے باخبر بعض ذرائع کے مطابق چوہدری نثار کے لیے تشویش کا معاملہ نواز شریف کی نا اہلیت کی صورت میں نئے وزراعظم کا انتخاب ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ حکمران خاندان میں وزارت عظمیٰ کے امیدواروں کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔

چوہدری نثار کے قریبی حلقوں کا خیال ہے کہ انہیں بھنک پڑی ہے کہ مستقبل کے وزیراعظم کے طور پر ان کے نام پر غور نہیں کیا جا رہا۔

لہجے کی تلخی کے ذریعے چوہدری نثار شاید یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے لیے کسی دوسرے کو وزیراعظم کے طور پر قبول کرنا ممکن نہیں ہو گا۔

اس صورت میں کیا وہ پارٹی سے بغاوت کریں گے؟ صحافی سلمان غنی اور وفاقی وزیر حاصل بزنجو ایسا نہیں سمجھتے۔

’چوہدری نثار حکومت سے الگ تو ہو سکتے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) سے الگ ہونا ان کے لیے آپشن نہیں ہے۔‘

تبصرہ کریں