Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

’گوگل لینز‘ کتنے کمال کی چیز ہے؟


گوگل سینسرتصویر کے کاپی رائٹ
Google

Image caption

گوگل لینس آپ کو یہ بھی بتا سکتا ہے کہ اس کے سامنے کیا چیز ہے

رواں ہفتے گوگل نے اپنی سالانہ ترقیاتی کانفرنس میں آرٹیفیشیل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت سے متعلق بعض بہترین عملی ایپلیکیشنز کی رونمائی کی ہے۔ اس ضمن میں اس نے اس بار پانچ نئی ایپس ڈیزائن کی ہیں۔

گوگل لینز

کمپنی نے جو پانچ نئی ایپس پیش کی ہیں ان میں سے ‘گوگل لیز’ کمال کی چیز ہے۔ یہ ایپ کیمرے کے سامنے جو بھی چیز آتی ہے اسے پہچان کر وہ اس کی ریئل ٹائم میں شناخت کر لیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر آپ کیمرے کو پھول کے سامنے کریں تو وہ فوراً بتا دے گا کہ لینس کے سامنے اس وقت پھول ہے۔

گوگل لینز کو اگر کسی وائی فائی راؤٹر کے پیچھے لگے اس سٹکر کے سامنے کیا جائے جس پر پاس ورڈ درج ہو تو یہ ایپ خود ہی اس کے پاس ورڈ کی شناخت کر لے گی اور بغیر کچھ کیے ہی وہ اس نیٹ ورک سے کنیکٹ ہو جائے گی۔

یہ ایپ ریستورانوں کے مینیو کا جائزہ لے سکتی ہے یا پھر دیگر زبانوں میں اس مینیو کو پیش کر سکتی ہے۔

ابھی گوکل نے یہ اعلان نہیں کیا ہے کہ یہ ایپ بازار میں کب دستیاب ہوگی لیکن دوسری نئی ایپلیکیشنز کے ساتھ اسے بھی متعارف کروایا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Google

Image caption

گوگل نے اعلان کیا ہے وہ دو سٹینڈ الون ڈے ڈریم ہیڈ سیٹ لانچ کرےگی جن کے لیے ضروری نہیں کہ کام کرنے کے لیے انھیں کسی سمارٹ فون سے مربوط کیا

سٹینڈ الون ڈے ڈریم ہیڈ سیٹ

گوگل نے گذشتہ برس ہی اپنے ڈے ڈریم ورچوؤل ریئیلٹی پلیٹ فارم کے ساتھ ہی ایک ہیڈ سیٹ کا اعلان کیا تھا جس میں سمارٹ فون کی مدد سے ورچوؤل ریئلٹی کا تجربہ ہو سکتا تھا۔

ڈے ڈریم کے ساتھ اب سام سنگ گلیکسی ڈیوائسز بھی کام کریں گی۔ اس سے قبل تک سام سنگ ڈیوائسز صرف گیئر وی آر کے ساتھ ہی کام کرتی تھیں۔

گوگل نے اعلان کیا ہے وہ دو سٹینڈ الون ڈے ڈریم ہیڈ سیٹ لانچ کرےگی جن کے لیے ضروری نہیں کہ کام کرنے کے لیے انھیں کسی سمارٹ فون سے مربوط کیا جائے بلکہ اس کے بغیر بھی وہ کام کریں گے۔

تجزیہ کار جیف بلیبر کا کہنا ہے کہ ‘گوگل کو توقع ہوگی کہ بہترین کارکردگی والے ایک مخصوص ہیڈ سیٹ کی مدد سے بازار کو وسعت دی جاسکے گی لیکن اصل چیلنج مواد کی کمی اپنی جگہ موجود ہے۔’

فوٹو ٹولز

گوگل کی فوٹو ایپ کو اس وقت تقریبا 50 کروڑ لوگ استعمال کر رہے ہیں۔ یہ ایپ ایک ایسا پروگرام ہے جو بہت سی تصویروں میں سے آپ کی فوٹو کو ترتیب دینے کا کام کرتی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ تصویروں کا تعلق کیا ہے۔ مثال کے طور پر ایپ اگر یہ دیکھے کہ تصاویر میں کیک ہے تو پھر وہ اس دن کی تصویروں کو ‘برتھ ڈے پارٹی’ کے نام سے بالترتیب ایک جگہ جمع کر دے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Google

Image caption

کلیور فوٹو ٹولز کی ایپ کی مدد سے فوٹو شیئر کرنے میں بھی کافی آسانی ہوگی

اس ایپ کی مدد سے فوٹو شیئر کرنے میں بھی کافی آسانی ہوگی۔ یہ ایپ چہرے کی شناخت کر کے متعلقہ افراد یا گروپ کو فوٹو شیئر کرنے کی بھی خود ہی تجویز پیش کرے گی۔

وی پی ایس یعنی وژوؤل پوزیشننگ سسٹم

ٹریفک یا راستوں کی تلاش کے لیے ہم سے بہت سے لوگ اسی نوعیت کا جی پی ایس یعنی گلوبل پوزیشننگ سسٹم پہلے سے ہی استعمال کرتے ہیں۔ لیکن وی پی ایس اس سے کہیں بہتر ہے ایپ ہے۔

جی پی ایس میں کسی مقام سے متعلق باریکیاں یا اس کی تفصیل میسر نہیں ہوتی اور وی پی ایس اسی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہے۔ اس میں تھری ڈی ویژوئلائزیشن کے لیے ٹینگو تکنیک استعمال کی گئی ہے جو جہاں پر آپ ہوں وہاں کے آس پاس کی بہت سی چیزوں کی شناخت کرتی ہے۔ اس سے چند سینٹی میٹر کے فاصلے تک پتہ چلتا ہے کہ اس وقت آپ بعینہی کس مقام پر اور کہاں ہیں۔

یعنی اگر جی پی ایس آپ کو دروازے تک پہنچا سکتا ہے تو وی پی ایس سے آپ وہاں پر موجود اگر کسی خاص چیز کو تلاش کر رہے تو اس کا بھی پتہ کر سکتے ہیں۔

لیکن ایک مشکل ابھی یہ ہے کہ بیشتر سمارٹ فونز میں ٹینگو ٹیکنالوجی دستیاب نہیں ہے دوسرے یہ کہ وی پی ایس ابھی پوری طرح سے تیار بھی نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Google

Image caption

ویژؤل پوزیشننگ سسٹم

بہتر گوگل ہوم

گوگل ہوم ایپ کا استعمال تو پہلے سے ہورہا ہے لیکن یہ ایپ آمیزون الیکسا ڈیوائس کے مقابلے پیچھے ہے۔ اس لیے گوگل نے اسی ایپ میں بعض نئے فیچر متعارف کروائے ہیں جو اسی ایپ میں جوڑے جا سکتے ہیں۔

اب ‘ہوم’ کی مدد سے فون کال بھی کی جا سکتی ہے۔ اس ایپ میں آواز کی پہچان کی صلاحیت ہے تو ایک خاندان کے مختلف ارکان اپنے مختلف فون نمبروں سے ہوم ڈیوائس سے کال کر سکتے ہیں۔

اس ایپ سے اب صرف سوالات کے جواب ہی تک نہیں بلکہ وہ خود اضافی معلومات فراہم کرسکے گی۔ مثلا یہ کہ یہ خود اپ کی جانب سے فیڈ کیے گئے کیلنڈر کی بنیاد پر بتا سکے گی کہ فلاں مقام پر ٹریفک زیادہ ہے۔

اس کانفرنس کی ایک اہم بات یہ ہے کہ کمپنی نے اب اپنی ایپس کو آئی فون میں بھی لانے کا اعلان کیا ہے۔ اب تک اس کی ایپس اینڈرائڈ ڈیوائسز تک ہی محدود تھیں۔

تبصرہ کریں