Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

ماؤنٹ ایورسٹ پر آکسیجن چوری ہو رہی ہیں


کوہ پیما اونچائی پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے اوپر چڑھنے کے لیے آکسیجن کی بوتلوں کا استعمال کرتے ہیں اے ایف پی

کوہ پیما اونچائی پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے اوپر چڑھنے کے لیے آکسیجن کی بوتلوں کا استعمال کرتے ہیں
اے ایف پی

دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے بیرونی کوہ پیماؤں اور شرپاؤں کو اونچے کیمپوں سے آکسیجن کی بوتلوں کی بڑھتی ہوئی چوریوں پر سخت تشویش لاحق ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سے کوہ پیماؤں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک موسم کی خرابی اور وہاں بھیڑ کی وجہ سے ہونے والی تاخیر کی مناسبت سے اتنی ہی آکسیجن کی بوتلیں لاتا ہے جتنی اس کو ضرورت ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کوہ پیماؤں کی بھیڑ، جن میں سے بہت سے غیر تجربہ کار مناسب گائیڈ کے بغیر ہیں، کی وجہ سے بھی اس طرح کے حالات پیدا ہوئے ہیں۔

شیرپا نیما تینجی کوہ پیمائی کے گائیڈ ہیں اور ابھی ابھی ماؤنٹ ایورسٹ سے واپس لوٹے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘وہاں اوپر یہ ایک بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے۔’

ان کا کہنا تھا: ‘میں مہم جو گروپوں سے اکثر سنا کرتا ہوں کہ ان کی آکسیجن کی بوتلیں غائب ہوجاتی ہیں اور یہ تو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب انھوں نے بوتلوں کو راستے میں استعمال کیا ہو اور ابھی ایورسٹ تک پہنچے بھی نہ ہوں یا پھر انھوں نے واپسی میں انھیں استعمال کے لیے محفوظ رکھا ہو۔’

ماؤنٹ ایورسٹ

ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھنے کے لیے کوہ پیماؤن کو گیارہ ہزار ڈالر کی فیس ادا کرنی پڑتی ہے

 

بعض بیرونی کوہ پیماؤں نے ان چوریوں سے متعلق سوشل میڈیا پر بھی لکھا ہے۔

گذشتہ پیر کو ایک مہم کے لیڈر ٹم موزڈیل نے فیس بک پر لکھا تھا: ‘ہماری سپلائی سے سات اور بوتلیں گم ہو گئی ہیں۔ اس بار ساؤتھ کول (چوتھا کیمپ، ایورسٹ پر پہنچنے سے پہلے کا آخری کیمپ، سے ایسا ہوا ہے۔’

اس سے قبل اس طرح کی اطلاعات آئی تھیں کہ اس سیزن میں اب تک دس کوہ پیما ہلاک ہوچکے ہیں، نیپال میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ ابھی صرف ایسی پانچ اموات کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

لیکن ابھی تک ان میں کسی بھی موت کا تعلق آکسیجن کی چوری یا اس کی کمی سے نہیں جوڑا گیا۔

جاپانی کوہ پیما آگسیجن کی بوتلوں کے ساتھ

ایک جاپانی کوہ پیما آگسیجن کی بوتلوں کے ساتھ کھٹمنڈو ميں

نیپال نیشنل ماؤنٹین گائیڈز ایسوسی ایشن (این این ایم جی اے) کے جنرل سکریٹری پھربا نامگیال شیرپا کا کہنا ہے: ‘آپ کیا کرسکتے ہیں جب چور ٹینٹ کے تالے توڑ کر آکسیجن کی بوتلیں اور دیگر اشیا خوردنی چوری کر لے جائیں؟ یہ ایک ٹرینڈ بنتا جارہا ہے۔’

ان کا کہنا تھا: ‘اسی طرح کے واقعات کے سبب کئی کوہ پیماؤں کو راستے سے ہی واپس آنا پڑا کیونکہ جب آپ کو پتہ چلتا ہے کہ آپ کے پاس زندگی بچانے کے لیے بوتلیں ہی نہیں ہیں تو پھر سب سے پہلے آپ یہ کرتے ہیں کہ اپنے بیس کیمپ واپس آجاتے ہیں۔’

تجربہ کار شرپاؤں کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایسے چوروں میں سے کسی ایک کو بھی چوری کرتے نہیں پکڑا جا سکا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی ایسا گروپ ہو سکتا ہے جو پوری طرح سے تیاری کے ساتھ نہ گیا ہو اور زندگی کے لیے خطرے کی صورت حال سے دوچار ہو تبھی ایسی حرکتوں پر مجبور ہوا ہو۔

حکومتی افسران کو اس کا علم ہے اور اسی لیے کوہ پیمائی کے لیے بعض نئے اصول و ضوبط متعارف کروانے کی بات کی ہے۔

اس کے مطابق ہر ایک کوہ پیما کو ایک تجربہ کار شرپا کو اپنے ساتھ لینا ضروری ہے تاکہ ہر شخص کے پاس آکسیجن کی بوتلیں، دوائیں اور غذائی اشیا سمیت بنیادی چیزیں موجود ہوں۔

حکومت نے رواں سیزن میں تقریباً 400 کوہ پیماؤں کو ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس میں تقریباً 300 افراد نے ایورسٹ سر کرنے کا مقصد پورا کر لیا ہے جبکہ 100 کوہ پیما موسم کے بہتر ہونے کے انتظار میں ہیں۔ جیسے ہی موسم دورست ہو گا انھیں اوپر جانے کی اجازت دی جائے گی۔as

تبصرہ کریں