Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

سڈنی میں پاکستانی تاریخ بدلنے کو ہے؟



پاکستان اور آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیمیں 22 جنوری کوسڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں رواں سیریز کے چوتھے ایک روزہ میچ میں مدمقابل ہوں گی جہاں پاکستان ٹیم کو سیریز برابر کرنے کے لیے جیت درکار ہے جبکہ میزبان ٹیم جیت کی صورت میں سیریز بھی اپنے نام کرلے گی۔

48 ہزار 601 تماشائیوں کی گنجائش رکھنے والے سڈنی کرکٹ گراؤنڈ (ایس سی جی) میں 13 جنوری 1979 کو انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ایک روزہ میچ کھیلا گیا جو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوا تھا جبکہ اس گراؤنڈ میں اب تک لگ بھگ 153 میچز کھیلے جاچکے ہیں۔

آسٹریلیا اور ہندوستان کےدرمیان ورلڈ کپ 2015 کا سیمی فائنل بھی سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا گیا تھا جس میں میزبان ٹیم نے 95 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔

پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیمیں اس گراؤنڈ میں 14 مرتبہ آمنے سامنے آئیں جہاں آسٹریلیا کا پلڑا بھاری رہا۔

ایس سی جی میں پاکستان اور آسٹریلیا کےدرمیان پہلا ایک روزہ میچ 17 دسمبر 1981 کو کھیلا گیا جس میں پاکستان نے 6 وکٹوں سے کامیابی حاصل کرکے افتتاحی فاتح بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا جس کو 14 جنوری 1982 کو ہونے والے دوسرے میچ میں دوبارہ حاصل نہیں کرپائی۔

مزید پڑھیں: کامیابی کیلئے غلطیوں کی گنجائش نہیں:آرتھر

پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیمیں دو سال بعد 10 جنوری 1984 کو اسی مقام پر ایک مرتبہ پھر مدمقابل آئیں اس دفعہ پھر فتح کی دیوی میزبان ٹیم پر مہربان رہی اور آسٹریلیا نے یہ میچ 34 رنز سے اپنے نام کرلیا جبکہ 25 جنوری کو منعقدہ میچ میں بھی آسٹریلیا نے87 رنز سے کامیابی حاصل کی۔

آسٹریلیا نے افتتاحی شکست کے بعد سبق سیکھتے ہوئے اگلے تینوں میچوں میں پاکستان کو سخت مشکلات سے دوچار کیا لیکن پاکستان نے بھی ہمت نہیں ہاری اور 6 سال کے طویل صبر آزما وقفے کے بعد لگاتار دو فتوحات حاصل کیں۔

پاکستانی ٹیم نے 13 فروری 1990 کو ایس سی جی میں آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے زیر کر کے گزشتہ شکست کا بدلہ چکایا بلکہ اسی پر ہمت نہیں ہاری اور 20 فروری 1990 کو ایک اور میچ میں 2 رنز سے شکست دے دی۔

آسٹریلیا نے 25 فروری 1990 کو اگلے میچ میں 69 رنز کے واضح فرق سے کامیابی حاصل کی جو اس گراؤنڈ میں اس کی پاکستان کے خلاف چوتھی فتح تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اظہرعلی ٹیم کی قیادت کے لیے فٹ

سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں ورلڈکپ 1992 کا دوسرا سیمی فائنل بھی کھیلا گیا تھا جہاں انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کےدرمیان مقابلہ تھا جس کو انگلینڈ نے 19 رنز سے جیت لیا تھا۔

جاوید میانداد نے اس میچ میں 110 گیندوں پر صرف 40 رنز بنائے تھے—فوٹو: کرک انفو

پاکستان نے 1992 کے ورلڈ کپ میں ایس سی جی میں صرف ایک میچ کھیلا تھا جو روایتی حریف ہندوستان کے خلاف تھا جس میں اظہرالدین کی قیادت میں انڈین ٹیم نے پاکستان کو 43 رنز سے شکست دی تھی۔

سچن ٹنڈولکر نے اس میچ میں 54 رنز بنانے کے علاوہ عامر سہیل کو آؤٹ کرکے میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ بھی حاصل کیا تھا۔

آسٹریلیا نے اس وقت کی عالمی چمپیئن پاکستانی ٹیم کو 14 جولائی 1993 کو اسی گراؤنڈ میں 23 رنز سے شکست دی جس کے بعد ایک طویل عرصے دونوں ٹیموں کے درمیان یہاں پر کوئی میچ نہیں کھیلا جاسکا۔

یکم جنوری 1997 کو پاکستان نے 4 وکٹوں سے میزبان کو شکست دے کر ایک دفعہ پھر فتح حاصل کی جو اس گراؤنڈ میں پاکستان کی میزبان ٹیم کے خلاف آخری فتح ہے جس کے بعد قومی ٹیم کو یہاں پر کوئی کامیابی نہیں ملی۔

مزید پڑھیں: واکا میں رقم پاکستانی ٹیم کی داستان

پاکستانی ٹیم کو 19 جنوری 2000 کو 81 رنز اور 4 فروری 2000 کو 152 رنز کے بھاری مارجن سے آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ہوئی جس کا سلسلہ تاحال جاری جہاں رواں دورے میں قومی ٹیم کو ٹیسٹ میچ میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیمیں ایس سی جی میں آخری مرتبہ 24 جنوری 2010 کو مدمقابل آئی تھیں لیکن پاکستان کو 140 رنز کی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ایس سی جی میں دونوں ٹیموں نے اب تک مجموعی طور پر 14 میچ کھیلے جس میں 4 میں پاکستان کو کامیابی ملی جبکہ آسٹریلیا نے 10 میچوں میں فتح حاصل کرکے اپنی برتری برقرار رکھی ہوئی ہے۔

پاکستانی ٹیم نے یہاں مجموعی طور پر 20 میچ کھیلے جس میں سے انھیں صرف 6 میچوں میں کامیابی ہاتھ آئی جبکہ 14 میچوں میں شکست کا سامنا رہا۔

پاکستان نے اس گراؤنڈ میں آخری مرتبہ 18 جنوری 1997 کو ویسٹ انڈیز کو 4 وکٹوں سے شکست دی تھی اور اب ایک طویل عرصے بعد قومی ٹیم کے پاس ایک اور جیت کا موقع ہے۔

اس بات کا فیصلہ تو 22 جنوری 2017 کو ہوگا کہ اظہرعلی کی قیادت میں پاکستان ٹیم اس گراؤنڈ پر ٹیم کی خراب تاریخ کو بدل سکتی ہے یا روایتی انداز میں 20 سال بعد بھی اس گراؤنڈ میں ایک مرتبہ پھر ناکام رہے گی۔

رواں سیریز میں آسٹریلیا کو 2-1 کی برتری حاصل ہے، آسٹریلیا نے سیریز کا پہلا میچ 92 رنز سے جیتا تھا جبکہ پاکستان نے دوسرے میچ میں 6 وکٹوں سے کامیابی حاصل کرکے سیریز برابر کردی تھی لیکن آسٹریلیا نے تیسرے میچ میں 7 وکٹوں سے باآسانی کامیابی حاصل کرکے سیریز میں برتری حاصل کی ہے۔

پاکستانی ٹیم میں طویل عرصے بعد واپسی کرنے والے باؤلرجنید خان نے غلطیاں دہرائیں لیکن انھوں نے دو دفعہ ایسے مواقع پیدا کیے جس سے ٹیم کی پوزیشن بہتر ہوسکتی تھی جبکہ محمد عامر بھی ان کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔

بابراعظم نے 21 میچوں میں ایک ہزار رنز مکمل کرنے کا ریکارڈ برابر کیا—فوٹو:کرک انفو
مزید پڑھیں: بابراعظم نے تیزترین ہزار رنز کا عالمی ریکارڈ برابر کردیا

پاکستانی بلے بازوں کی کارکردگی سست رہی ہے مگر دوسرے میچ میں حفیظ پھر تیسرے میچ میں نوجوان بلے باز بابراعظم نے ذمہ دارانہ اننگز کھیلتے ہوئے نہ صرف ٹیم کو بہتر پوزیشن دلادی تھی بلکہ ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں تیزترین ایک ہزار رنز بنانے والے عظیم کھلاڑی ویون رچرڈز اور دیگر کی فہرست میں شامل ہوگئے۔

دوسری جانب تیسرے میچ میں پاکستانی فیلڈنگ بھی ناقص رہی تھی لیکن ہیڈ کوچ مکی آرتھر، سڈنی کرکٹ گراؤنڈ کو اپنے فاسٹ باؤلرز کے لیے سازگار قرار دیتے ہوئے سیریز میں واپسی کے عزم کا اظہار کرچکے ہیں اور کپتان اظہرعلی کی واپسی کو بیٹنگ کی مضبوطی قرار دیا ہے۔

تبصرہ کریں