Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

دوسرے ٹی20 میں ورلڈ الیون فاتح: سیریز 1-1 سے برابر

پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان دوسرے ٹی 20 میچ میں ورلڈ الیون نے فتح حاصل کرتے ہوئے تین میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کر لی ہے۔

ورلڈ الیون نے 3 وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا۔ ورلڈ الیون کی جیت میں جنوبی افریقہ کے اسٹائلش بیٹسمین ھاشم آملہ اور سری لنکا کے بیٹسمین تشار پریرا نے اہم کردار ادا کیا۔ ھاشم املہ نے 55 گیندوں پر 72 اور پریرا نے صرف 19 گیندوں پر 47 رنز بنائے اور دونوں ناٹ آؤٹ رہے۔ تشار پریرا کی 5 چھکوں کے ساتھ دھواں دار اننگ کے باعث اُنہیں مین آف دا میچ قرار دیا گیا۔

میچ کے بعد پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے جیت پر ورلڈ ایون کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی بالر نوجوان ہیں اور اُن کا تجربہ کم ہے۔ اس میچ میں اُنہیں سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ سرفراز نے کہا کہ اُن کی ٹیم کی فیلڈنگ زیادہ اچھی نہیں رہی۔ پاکستانی ٹیم نے اچھا ٹارگٹ دیا لیکن اگر فیلڈنگ اور بالنگ قدرے بہتر ہوتی تو میچ کا نتیجہ اُن کے حق میں ہو سکتا تھا۔

ورلڈ الیون کے کپتان ڈوپلیسئس نے کہا کہ اُن کی ٹیم کو اس جیت کی بہت ضرورت تھی تاکہ سیریز کو دلچسپ بنایا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ آج وکٹ پر بال پہلے میچ کی نسبت زیادہ سپن ہو رہا تھا۔ ڈوپلیسئس نے ھاشم آملہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی کارکردگی شاندار رہی۔ اُنہوں نے کہا کہ ورلڈ الیون کے کھلاڑی پہلی بار ایک ساتھ کھیل رہے ہیں۔ تاہم بالنگ اور بیٹنگ دونوں شعبوں میں اس کی کارکردگی اچھی رہی اور وہ کوشش کریں گے کہ تیسرے میچ میں بھی وہ ایسی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔

یوں اس سیریز کے تیسرے اور آخری میچ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

اس سے قبل پاکستانی ٹیم نے اپنی اننگ میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 174 رنز بنائے تھے۔ پاکستان کی طرف سے باربر اعظم نے ایک بار پھر بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 45 رنز بنائے۔ وہ بدری کی ایک گیند پر ملر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ اُن کے علاوہ احمد شہزاد نے 43 ، فخر زمان نے 21 ، شعیب ملک نے 39 اور عماد وسیم نے 15 اور نے رنز بنائے۔ سرفراز احمد کوئی رنز بنائے بغیر آؤٹ ہوئے۔

آج کے میچ کیلئے پاکستانی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئیں۔ حسن علی مکمل طور پر فٹ نہیں تھے۔ اُن کی جگہ سپنر محمد نواز کو شامل کیا گیا ہے جبکہ فہیم اشرف کی جگہ عثمان شنواری اس میچ میں کھیل رہے ہیں۔

میچ سے قبل ورلڈ الیون کے کپتان ڈوپلیسئس نے کہا کہ ہر ٹیم جیتنے کیلئے ہی میدان میں اترتی ہے۔ تاہم یہ سیریز محض کرکٹ کیلئے ہی نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد اس سے بڑا ہے۔

ورلڈ الیون میں ڈیرن سیمی کی جگہ 41 سالہ پال کالنگ وُڈ کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

​صوبہ پنجاب کی حکومت اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے اشتراک سے شائقین کی سہولت کی خاطر لبرٹی چوک سے اسٹیڈیم تک مفت شٹل بس سروس کا اہتمام کیا گیا۔

سیریز کے دوسرے میچ کے آغاز سے پہلے ICC کے سربراہ ڈیوڈ رچرڈسن اور پاکستان کرکت بورد کے چیئرمین نجم سیٹھی نے نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ڈیوڈ رچرڈسن نے کہا کہ اس سیریز کے کامیاب انعقاد کے بعد ورلڈ الیون کے کھلاڑی اپنے اپنے ملک واپس جا کر ساتھی کھلاڑیوں سے بات کریں گے اور توقع ہے کہ آہستہ آہستہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ بحال ہو جائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ سیکورٹی کی ٹیمیں لاہور میں سیکورٹی کی صورت حال سے مطمئن ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگلا قدم لاہور کے علاوہ پاکستان کے دیگر شہروں میں سہولتوں اور سیکورٹی انتظامات کو بہتر بنانا ہو گا تاکہ مستقبل میں آسٹریلیہ اور انگلینڈ جیسی ٹیموں کا اعتماد حاصل کر کے اُنہیں پاکستان میں کھیلنے پر آمادہ کیا جا سکے ۔

ایک سوال کے جواب میں رچرڈسن نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ICC پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو فوقیت دیتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت کرکٹ کھیلنے والا ا ایک نہایت مضبوط ملک ہے ۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ICC کے 12 رکن ملک ہیں اور بھارت اُن میں سے ایک ہے۔

loading...
شناختی عنوان:,

تبصرہ کریں