Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

’ورلڈ بینک مجموعی بیرونی قرض کے تخمینے میں غلطی کو دور کرے‘

اسلام آباد: رواں سال کے لیے مجموعی بیرونی قرضوں کی واجب الادا رقم کا تخمینہ 18 ارب ڈالر ہونے پر زور دیتے ہوئے پاکستان نے ورلڈ بینک سے کہا ہے کہ وہ بیرونی واجبات کے حوالے سے ’غلطی‘ کو دور کرے جس کے مطابق یہ تخمینہ 31 ارب ڈالر بتایا جارہا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کے بعد کہا کہ ’اس معاملے پر عالمی بینک سے تصحیح کے لیے کہا گیا ہے‘۔

اعلیٰ سطحی اجلاس میں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کا جائزہ لیا گیا، جس میں کہا گیا کہ ’بیرونی رقم کی آمد سے مجموعی بیرونی قرضوں کی ضروریات کو پوراکرنا آسان ہوگا‘۔

واضح رہے کہ ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان کے مجموعی بیرونی واجبات 31 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جس کے بعد کاروباری و عوامی حلقوں میں تشویش پائی گی کہ ملک کے موجودہ وسائل اتنے واجبات ادا کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا مجموعی قرضہ 180 کھرب سے تجاوز

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ورلڈ بینک نے پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے 13.8 ارب ڈالر کو مجموعی بیرونی واجبات کا حصہ بنا دیا جبکہ بین الاقوامی رپورٹنگ معیار کے مطابق ملک کی خالص سرمایہ کاری ضروریات کا تخمینہ لگاتے وقت پورٹ فولیو سرمایہ کاری کو شامل نہیں کیا جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں مجموعی سرمایہ کاری ضروریات کی ’غلط تشریح‘ کی گئی اور عالمی رپورٹنگ معیارات کی بنیاد پر مالی سال 17-2018 کے لیے پاکستان کی اصل مجموعی سرمایہ کاری ضروریات 31 ارب ڈالر (جی ڈی پی کا 9 فیصد) نہیں بلکہ تقریباً 18 ارب ڈالر (جی ڈی پی کا 5.3 فیصد) ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں برآمدات اور ادائیگیوں میں بہتری آئی اور درآمدات کم ہوئیں۔

اس موقع پر وزیر خزانہ نے فنانس ڈویژن کو ہدایت کی کہ اقتصادی اشاریے کی درست رپورٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے عالمی بینک کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے۔

اجلاس کے شرکاء نے پہلی سہ ماہی کی مستحکم مالیاتی کارکردگی کوتسلی بخش قراردیتے ہوئے کہا کہ مثبت معاشی نمو کے نتیجے میں دوسری اور تیسری سہ ماہی میں بھی بہتری آئے گی۔

اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے محصولات کے دائر کار کو وسیع کرنے کے لیے ’ٹیکس پیئرز آؤٹیچ پروگرام‘ کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’20 پاکستانی کمپنیوں نے بینکوں کے مجموعی قرض کا 30 فیصد حاصل کیا‘

وزیر خزانہ کو آگاہ کیا گیا کہ ایف بی آر کے سینئر حکام ٹیکس بارز، پروفیشنل باڈیز اور چیمبرز آف کامرس کے اراکین کیساتھ گوشواروں کی ای فائلنگ پر ورکشاپس کا انعقاد باقاعدگی سے کررہے ہیں۔

اسحق ڈارکو بتایا گیا کہ مذکورہ پروگرام کے تحت نجی اداروں کے ملازمین ٹیکس فائل کررہے ہیں اور اس ضمن میں ان کی مدد کے لیے ٹیکس آفس میں ’ہیلپ ڈسک‘ قائم کر دی گئی ہیں۔

اجلاس میں کہا گیا کہ ٹیکس دہندہ کو فراہم کردہ سہولیات کی وجہ سے 13 اکتوبر تک 3 لاکھ 52 ہزار ٹیکس ریٹرنز جمع ہو ئے جو گزشتہ برس اسی مہینے میں 1 لاکھ 62 ہزار تھے۔


یہ خبر 16 اکتوبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی


News Source

’ورلڈ بینک مجموعی بیرونی قرض کے تخمینے میں غلطی کو دور کرے‘