Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

'یواے ای حکام سرمایہ کار پاکستانیوں کی تفصیلات فراہم نہیں کر رہے'

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان باہمی ٹیکس معاہدہ ہونے کے باوجود اماراتی حکام اپنے ملک میں جائیداد خریدنے والے پاکستانیوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر شیراز منصب علی کی سربراہی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسد عمر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اصفہان یار ایم بھندارا پر مشتمل تین رکنی کمیٹی جو کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی بھی ہے، یو اے ای کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانیوں پر نظر رکھنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔

کمیٹی کے اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین طارق پاشا کا کہنا تھا کہ ہم نے اماراتی حکام سے ملاقات کی درخواست کی تھی تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایف بی آر نے اس معاملے کو لے کر وفاقی کابینہ اور دفترخارجہ تک رسائی کی کوشش کی لیکن اب تک اس میں کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔

مزید پڑھیں: دبئی ریئل اسٹیٹ میں پاکستانیوں کی 8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری

کمیٹی سربراہ نے اس موقع پر کہا کہ یو اے ای میں پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کرنے کی موجودہ لہر کا آغاز 2006 میں ہوا تاہم تب سے اب تک پاکستان کی تین حکومتوں کی جانب سے خدشات کے باوجود یہ معاملہ جاری ہے۔

دبئی لینڈ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کا حوالے دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ کے مطابق یو اے ای میں مختلف ممالک کے شہریوں نے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی جبکہ پاکستانی میڈیا نے اس حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ گزشتہ 4 برسوں کے دوران پاکستانیوں کی جانب سے یو اے ای میں 8 کھرب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی۔

اجلاس میں موجود قومی احتساب بیورو (نیب) حکام نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاناما پیپرز کیس میں اینٹی کرپشن قانون کے تحت یو اے ای سے متعلقہ معلومات حاصل کیں لہٰذا صرف اینٹی کرپشن قانون کے تحت ہی یو اے ای میں جائیدادیں خریدنے والوں کے نام سامنے آسکتے ہیں۔

نیب حکام نے دبئی کی ایک ریئل اسٹیٹ کمپنی ایمار کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کمپنی کی مدد سے دبئی کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں غیر قانونی طریقے سے پیسے بھیجے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کی دبئی میں تقریباً 441 ارب روپے کی سرمایہ کاری

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کمپنی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں رجسٹرڈ ہے لہٰذا کمیشن کو ایمار نامی اس کمپنی سے تحریری جواب طلب کرنا چاہیے کہ پاکستانیوں کی دبئی میں اپارٹمنٹس کی خریداری کے لیے رقوم پاکستان سے یو اے ای کیسے منتقل ہوئیں۔

اجلاس میں موجود اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایک حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کے قانون کے مطابق پاکستانی شہری کو صرف 50 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کی اجازت ہے جو کہ مطلوبہ شخص کو مرکزی بینک سے لازمی لینی ہوگی، جبکہ اس سے زائد کی سرمایہ کاری کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی سے منظوری لینی ہوگی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ بیرونِ ملک ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لیے مرکزی بینک کی جانب سے کبھی بھی اجازت نہیں دی گئی۔

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ایف آئی اے، نیب، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک سمیت تمام متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایات جاری کی جائیں گی کہ وہ منی لانڈرنگ کو فائدہ پہنچانے والی اپنی قانونی خامیوں کی نشاندہی کرکے انہیں درست کریں۔

علاوہ ازیں کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وزارت قانون اور انصاف اور دفترخارجہ کے حکام کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان سے یہ معلوم کیا جاسکے کہ کیا یو اے ای پر پاکستانیوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے دباؤ دیا جاسکتا ہے؟


یہ خبر 25 اکتوبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی


News Source

'یواے ای حکام سرمایہ کار پاکستانیوں کی تفصیلات فراہم نہیں کر رہے'