Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

گنے کی قیمت صوبائی معاملہ ہے،وفاق ذمے دار نہیں، سکندر حیات بوسن

پیداوار7.5ملین ٹن ہو گی،کپاس، سبزیوں اور دالوں پرتوجہ کی ضرورت ہے، پریس کانفرنس۔ فوٹو: فائل

پیداوار7.5ملین ٹن ہو گی،کپاس، سبزیوں اور دالوں پرتوجہ کی ضرورت ہے، پریس کانفرنس۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکیورٹی و ریسرچ سکندر حیات خان بوسن نے کہا ہے کہ شوگر ملوں کو چلانے کا دائرہ کار شوگر کنٹرول ایکٹ کے تحت صوبائی حکومتوں کا ہے اور گنے کی قیمتیں بھی صوبائی حکومتیں ہی طے کر تی ہیں۔

وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکیورٹی و ریسرچ سکندر حیات خان بوسن نے وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت چینی کی برآمد پر سبسڈی دیتی ہے جبکہ شوگر ملوں کو چلانے کا دائرہ کار شوگر کنٹرول ایکٹ کے تحت صوبائی حکومتوں کا ہے اور گنے کی قیمتیں بھی صوبائی حکومتیں ہی طے کر تی ہیں، بدقسمتی سے سندھ کے بعض وزرا وفاقی حکومت کو گنے کے معاملے پر ذمے دار ٹھہرا رہے ہیں، گزشتہ سال بھی سندھ کی ملیں گنا نہیں خرید رہی تھیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھاکہ گنے پر سبسڈی کا معاملہ شوگر کنٹرول ایکٹ کے تحت صوبائی حکومتوں کا ہے، وفاقی حکومت صرف چینی کی برآمد پر سبسڈی دیتی ہے، 15لاکھ ٹن اضافی چینی کو ای سی سی کے ذریعے برآمد کی اجازت دی گئی جس پر وفاقی حکومت سبسڈی دیگی۔

سکندر حیات خان بوسن نے کہاکہ پنجاب میں بھی چند مقامات پر گنے کی خریداری کا مسئلہ ہے لیکن سندھ میں گزشتہ سال بھی 180روپے فی من گنے کی قیمت نہیں دی جا رہی تھی، اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اس موقع پر سکندر حیات بوسن کا کہنا تھاکہ اس سال 7.5ملین ٹن چینی کی پیداوار متوقع ہے جبکہ گنے کے زیرکاشت رقبے میں ساڑھے 12فیصد اضافہ ہوا ہے،گنے میں بھی پیداوار سر پلس ہے، ہمیں چاہیے کہ کپاس، سبزیوں اور دالوں پر بھی فوکس کریں، فوڈ سیکیورٹی پالیسی منظور کر کے وزیر اعظم کو بھجوا دی ہے جو کابینہ میں منظوری کیلیے پیش کی جائیگی۔

خیال رہے کہ سیکریٹری فضل عباس میکن بھی ساتھ تھے۔


News Source

گنے کی قیمت صوبائی معاملہ ہے،وفاق ذمے دار نہیں، سکندر حیات بوسن