Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

مہنگے پھل، خریداری کی بائیکاٹ مہم کامیابی سے ہمکنار

منافع خورسال بھرعوام کولوٹتے،رمضان میں بھی بازنہ آئے،حکومتی رٹ کہیں نہیں، کوکب اقبال۔ فوٹو: فائل

منافع خورسال بھرعوام کولوٹتے،رمضان میں بھی بازنہ آئے،حکومتی رٹ کہیں نہیں، کوکب اقبال۔ فوٹو: فائل

 کراچی:  مہنگے داموں فروخت ہونے والے پھلوں اور فروٹ کی بائیکاٹ مہم صارفین کے تعاون سے کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔

کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے کیپ کے دفتر میں مہنگے پھلوں کی بائیکاٹ مہم کا جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان نے صارفین سے رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں مہنگے پھلوں کی خریداری نہ کرنے کی اپیل کی جس کا صارفین نے بھرپور ساتھ دیا جس کے نتیجے میں منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کی حسرتوں پر پانی پھر گیا صارفین کی بہت کم تعداد نے مارکیٹوں کا رخ کیا۔

کوکب اقبال نے کہا کہ ہر سال رمضان المبارک کے مہینے میں پہلے ہی منافع خور اور ذخیرہ اندوز پھل فروٹ سمیت اشیا خوردونوش کی قیمتوں میں بلا جواز اضافہ، ناجائز منافع خوری کے ذریعے پورے سال کی کمائی کر کے اپنی تجوریاں بھر لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلمان تاجروں کی تعداد 95 فیصد ہے جبکہ 5 فیصد تاجر دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ رمضان المبارک کو منافع خور تاجرروں نے کمائی کا مہینہ بنا لیا ہے۔ وہ عبادات کرنے کے ساتھ ساتھ نا جائز منافع خوری کی طرف راغب ہوتے ہیں، انھیں یہ احساس بھی نہیں کہ پورے سال صارفین کو لوٹنے کے بعد اس مبارک مہینے میں صارفین کو جائز منافع کے ساتھ اپنی اشیا فروخت کریں جبکہ پوری دنیا میں اس بابرکت مہینے میں صارفین کو بے شمار رعایت کے ساتھ چیزیں فروخت کی جاتی ہیں تاکہ ہر چھوٹا بڑا اپنی ضرورتِ زندگی کا سامان بہ آسانی قوتِ خرید کے مطابق خرید سکے۔

اس کے برعکس رمضان المبارک میں من مانی قیمتیں وصول کی جاتی ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مہنگائی روکنے کے لیے دعوے کرتی ضرور نظر آتی ہیں مگر منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف عملی طور پر کوئی اقدامات نظر نہیں آتے۔ چند ایک منافع خوروں کا چالان یا جیل بھیجنے کی خبر اخبارات کا زینہ ضرور بنتی ہے کہ گراں فروشوں کے خلاف کارروائی ہوئی اور جرمانہ کی رقم حکومت کے خزانے میں جمع کرادی جاتی ہے جس سے صارفین کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

کوکب اقبال نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ منافع خوروں پر کیے گئے جرمانے سے وصول ہونی والی رقم حکومت کا خزانہ بھرنے کے بجائے اس سے مارکیٹوں میں کنزیومر فسلٹیشن سینٹر کنزیومر کمپلین سینٹر بنائیں جائیں تاکہ صارفین اپنی شکایات موقع پر موجود سینٹرزمیں کراسکیں۔

انہوں نے کہا کہ گراں فروشی کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہے، صارف ہی وہ قوت ہے جو اپنے اتحاد سے مہنگائی کو قابو کر سکتا ہے جس کا ثبوت کنزیومر اسوسی ایشن کے حا لیہ بائیکاٹ مہم کا نتیجہ ہے جو کیلا 120 سے 180 روپے تک فروخت ہو رہا تھا اب وہ 90 روپے سے 100 روپے فروخت ہو رہا ہے۔ خربوزے کا ریٹ جو رمضان المبارک کے پہلے دن 80 روپے سے 100 روپے فروخت ہو رہا تھا۔ اب 50 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح دوسرے پھلوں کی قیمتوں میں 30سے 40 فیصد واضع کمی واقع ہوئی ہے۔

کوکب اقبال نے کہا کہ سب لوگوں کا فوکس صرف اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر ہوتا ہے جبکہ عید کی خریداری بھی ہر گھر کا بہت اہم مسئلہ ہے۔ بچوں کے کپڑوں سے لے کر جوتوں سمیت ہر اشیا کی قیمتوں میں 100 فیصد زائد اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ درزیوں کی بھی چاندی ہو گئی ہے، خواتین کے لون کے ملبوسات جو چند سال پہلے 500 روپے سے1000 روپے میں باآسانی دستیاب تھے۔ اب ان کو مختلف برانڈ کا نام دے کر 5000 روپے سے 15000 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ کچھ برانڈ اپنی چیزوں کو فروخت کرنے کیلیے 70فیصدرعایت دینے کابورڈ آویزاں کرتے ہیں جس سے ان کی نہ فروخت ہونے والی اشیا ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو جاتی ہیں۔ غرض یہ کہ منافع خور تاجر ہر سطح پر صارفین کو لوٹ رہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ صارفین اپنے حقوق کے بارے میں آگہی حاصل کریں اور حکومتی ادارے صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں جیساکہ ترقی یافتہ مما لک میں صارفین کو حقوق حاصل ہیں۔


News Source

مہنگے پھل، خریداری کی بائیکاٹ مہم کامیابی سے ہمکنار