Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

الوداع اے قرطبہ- خالد مسعود خان

مسجد قرطبہ پورے قرطبہ شہر کا لینڈ مارک ہے۔ اسے 1984ء میں یونیسکو نے ”ورلڈ ہیریٹیج سائٹ‘‘ کا درجہ دے دیا تھا۔ لیکن یہ سب باتیں بڑی ثانوی سی ہیں۔ اس مسجد کی اہمیت ان سب چیزوں سے بالاتر ہے۔

گیارہ بارہ سال قبل آنا ہوا تو جوتے دروازے پر اتارے اور ایک ہاتھ میں پکڑ لیے۔ دوسرے ہاتھ میں داخلے کا ٹکٹ تھا۔ نگران نے ٹکٹ دیکھنے سے پہلے نہایت درشتی سے سپنش زبان میں جو کہا‘ وہ مجھے سارا سمجھ آ گیا۔ اس نے مجھے جوتا پہننے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ مسجد نہیں‘ چرچ ہے‘‘۔

میں نے جواباً اسے پنجابی میں کہا کہ تمہارے نزدیک یہ چرچ ہے لیکن میرے نزدیک یہ اب بھی مسجد ہے۔ اس نے بھی میری زبان نہ سمجھنے کے باوجود یہ ضرور جان لیا کہ میں نے کیا کہا ہے۔ سو اس نے ایک نگران مجھ پر مسلط کر دیا اور پھر اپنی انگلی کو انکار میں ہلاتے ہوئے بڑی سختی سے ہدایت کی ”نو پریئر‘‘ (نماز نہیں پڑھنی) میں نے سنی ان سنی کی اور اندر چل پڑا۔

محافظ کو غچہ دینے کا ایک علیحدہ قصہ ہے‘ بہرحال میں نے ظہر کی نماز کے دو فرض محراب کے عین مخالف سمت والی دیوار کے ساتھ پڑے بنچ پر بیٹھ کر ادا کر لیے۔ ٹکٹ پر لکھا ہوا تھا MEZQUITA CATHEDRAL یعنی ”مسجد والا چرچ‘‘ انگریزی کے آفیشل بروشر پر لکھا ہوا تھا:The Mosque-Cathedral of Cordoba اس بار ٹکٹ دو قسم کی تھی۔ ایک ہمارے‘ یعنی باہر سے آنے والوں کے لیے اور دوسری لوکل لوگوں کے لئے۔ ہماری ٹکٹ پر تو اب بھی ”مزکیتا کیتھڈرل‘‘ لکھا ہوا تھا مگر لوکل لوگوں کی ٹکٹ پر صرف ”کیتھڈرل‘‘ لکھا ہوا تھا۔

اس بار سختی پہلے سے بھی زیادہ تھی۔ جوتے ہاتھ میں پکڑنے پر تو اندر داخلہ ممکن ہی نہیں تھا۔ جوتوں کا پائوں میں ہونا اور سر کا ننگا ہونا ضروری تھا۔ اللہ سے اس کے گھر میں جوتوں سمیت داخل ہونے پر دل ہی دل میں معافی مانگی اور بوجھل سے دل سے اندر داخل ہو گیا۔ ستونوں کی قطاریں۔ ایک جیسی ترتیب میں اور لاتعداد۔

ایک دو بار گننے کی کوشش کی مگر فضول۔ ممکن تھا کہ لمبائی اور چوڑائی میں ستونوں کی ایک ایک قطار گن کر انہیں صرف دیتا اور حاصل ضرب سے ستونوں کی تعداد نکال لیتا مگر درمیان میں جگہ جگہ بنائے گئے گرجا گھروں کے باعث ایسا ممکن نہ رہا تھا کہ درمیان میں سے کئی جگہ ستون غائب کر دیئے گئے۔ خاص طور پر عبدالرحمان دوم کے تعمیر کئے گئے حصے کے عین درمیان میں واقع Choir stalls نے اس جگہ کے سارے ستون ختم کر دیئے ہیں اور چھت پھاڑ کر اوپر تکونا گنبد نکال دیا گیا ہے۔

اصل مسجد میں یہ ہشت پہلو گنبد نہ تھا۔ اسی طرح محراب کے بائیں طرف ”چیپل آف سینٹا ٹریسا‘‘ اور محراب کی دائیں طرف بننے والے انتظامی کمروں اور باتھ رومز نے بھی اس جگہ کے سارے ستون کھا لئے ہیں۔ تاہم اب بھی مسجد کی سب سے نمایاں چیز یہی ستون ہیں۔ انہی کے بارے میں علامہ اقبالؔ نے لکھا تھا کہ
تیرا جلال و جمال‘ مردِ خدا کی دلیل
وہ بھی جلیل و جمیل‘ تو بھی جلیل و جمیل
تیری بنا پائیدار‘ تیرے ستوں بے شمار
شام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیل
کہیں لکھا ہوا پڑا تھا کہ ستونوں کی تعداد چودہ سو کے لگ بھگ تھی اب سو ڈیڑھ سو کم ہو گئے ہوں گے۔مسجد کی تعمیر چار ادوار پر مشتمل ہے۔ پہلا دور عبدالرحمن اول کا ہے جس نے اس مسجد کی بنیاد رکھی۔ یہ حصہ داخلے کے ساتھ ہی واقع ہے۔ یہ اندازاً کل مسجد کا بیس پچیس فیصد حصہ ہو گا۔ عبدالرحمان اول نے اس کی تعمیر 786ء میں شروع کروائی اور یہ دو سال میں مکمل ہوئی۔ تب اس کا نام ”الجامعہ مسجد‘‘ تھا۔ اس مسجد میں پہلی توسیع عبدالرحمان دوم نے کروائی۔ توسیع کا کام 833ء سے 848ء تک پندرہ سال جاری رہا۔ یہ توسیعی حصہ بارہ تیرہ فیصد کے لگ بھگ ہے۔

مسجد کا مینار 951-52ء میں عبدالرحمان سوم نے تعمیر کروایا۔ دوسری توسیع الحکم دوم نے کروائی۔ یہ عبدالرحمان اول کی تعمیر کردہ اصل مسجد کے برابر ہے۔ محراب اسی حصے میں واقع ہے۔ عبدالرحمان دوم اور الحکم دوم کی توسیع قبلہ رُخ مسجد کو بڑھانے پر مشتمل تھی۔ تیسری اور آخری توسیع ابو عامر المنصور نے کی۔ یہ موجودہ مسجد کے کل رقبے کا تقریباً چالیس فیصد یا اس سے کچھ زیادہ ہو گا۔ یہ توسیع مسجد کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بائیں طرف کی گئی ہے۔ مسجد کے فانوس اور میناکاری کا زیادہ کام بھی المنصور کے زمانے میں کیا گیا۔ یہ دور 991ء سے 994ء تک تھا۔ 1146ء میں اس مسجد کو چرچ میں تبدیل کر دیا گیا۔

سپین میں ہونے والی ایک خواتین کانفرنس میں مسلم ممالک کی کچھ خواتین نے مسجد میں نماز پڑھنے کی کوشش کی تو مسجد میں موجود محافظوں نے دورانِ نماز ان کو مارا پیٹا۔ شروع میں ایک دو بار مسلمانوں کو اس مسجد میں عید کی نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی مگر پھر صدیوں تک یہ مسجد نمازیوں کے سجدوں اور اذان کی آواز سے محروم رہی تاوقتیکہ علامہ اقبال نے یہاں اذان دی اور نماز پڑھی۔ تیسری گول میز کانفرنس سے واپسی پر علامہ اقبال پیرس پہنچے اور وہاں سے سپین چلے گئے‘ جہاں انہوں نے لیکچر دینا تھا۔ وہ قرطبہ گئے اور مسجد میں نماز ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ گائیڈ نے بتایا کہ یہاں نماز کی ادائیگی پر پابندی ہے۔ علامہ نے پادری سے بات کی مگر بات نہ بنی۔ علامہ اقبال نے اسے بتایا کہ ایک دفعہ پادریوں کا ایک وفد آنحضورؐ سے ملنے آیا۔

جب ان کی عبادت کا وقت ہوا تو انہوں نے آنحضرتؐ سے عرض کیا۔ آپؐ نے انہیں مسجد میں عبادت کی اجازت دی۔ اگر میرے نبی عیسائی پادریوں کو مسجد میں عبادت کی اجازت دے سکتے ہیں تو میں اس جگہ‘ جو کبھی مسجد تھی‘ نماز کیوں نہیں پڑھ سکتا۔ انہوں نے لاٹ پادری سے اجازت لے کر علامہ اقبال کو نماز پڑھنے کی اجازت دے دی۔ یہ سارا قصہ کئی محققین نے اپنی کتابوں میں رقم کیا ہے۔

اس بار بھی میں نے کافی کوشش کی کہ کسی طرح دو نفل ادا کر لوں مگر شکرے کہ آنکھ والے محافظ ادھر ادھر آ جا رہے تھے۔ میں نے بارسلونا سے آئے ہوئے رانا منیر کو مدد کے لیے کہا کہ وہ ادھر ادھر نظر رکھے مگر بات نہ بن سکی۔ بالآخر میں نے وہاں نفل پڑھنے کا ارادہ کیا‘ جہاں کوئی محافظ اس کی توقع نہیں کر سکتا تھا۔ میں خارجی دروازے کے ساتھ رکھی بنچ پر بیٹھ گیا۔ سامنے دو محافظ کھڑے تھے۔ رانا منیر ان کی ویڈیو بنانے لگا‘ اور ان کی رانا منیر سے بحث شروع ہو گئی۔ اسی جھگڑے میں میں نے کام کام کر لیا۔ جب میں بنچ سے اٹھا‘ رانا منیر نے محافظوں سے سوری کر لیا اور ہم دونوں مسجد سے باہر آ گئے۔

فیاض بٹ نے بتایا کہ 2005ء یا 2004ء میں حکومت سپین نے یہ مسجد چونیتس یورو (تقریباً چار ہزار تین سو روپے) میں چرچ کو فروخت کر دی تھی اور اب یہ حکومت کی نہیں‘ چرچ کی ملکیت ہو چکی ہے۔ اس فروخت پر دس سال کے اندر اندر اعتراض داخل کیا جا سکتا تھا مگر حکومت نے ملی بھگت اور بدنیتی کے ساتھ اس فروخت کو خفیہ رکھا۔ اب جب اعتراض کا وقت گزر گیا ہے‘ اس فروخت کو عام کر دیا ہے۔ مسلمانوں نے اس ملی بھگت کے خلاف عدالت میں دعویٰ کیا ہے مگر شنوائی مشکل ہے۔ یورپ کے عدل و انصاف کی دھائی دینے والوں کو اس سلسلے میں کچھ بتائیں تو وہ الٹا ہم جیسے لوگوں کو تنگ نظر اور خدا جانے کیا کیا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان لبرلز کی ہدایت کا دفتر شاید مستقل طور پر بند ہو چکا ہے۔

رات کو چاندنی میں ہم لوگ مسجد کی طرف آ گئے اور اس کے گرد چکر لگایا۔ پھر قرطبہ کی گلیوں میں چل پڑے۔ وہی پرانی طرز کی تنگ گلیاں اور ان میں فرش کی جگہ پر وہی پرانے گول پتھر۔ اس کی اُس پرانے قرطبہ سے مطابقت ہمارے لیے کچھ اور اہمیت رکھتی ہے۔ اہل سپین اس سے زرمبادلہ کما رہے ہیں اس لیے وہ اسے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ گلیوں میں اسی پرانی طرز کے لیمپ ہیں جن میں کبھی چراغ جلتے تھے اور سرکاری ملازم روز رات ان میں تیل ڈالتا تھا اور روشن کرتا تھا۔

اب ان میں بجلی کے بلب جگمگاتے ہیں۔ قرطبہ پہلے سے زیادہ روشن ہے مگر مورخین لکھتے ہیں کہ جب قرطبہ کی گلیاں ان چراغوں سے روشن تھیں‘ یورپ کے سارے شہر اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اب سب کچھ الٹ ہو رہا ہے۔ قرطبہ کے چراغوں کا کیا کہوں؟ میرے اندر تو اپنے دل کے چراغ کی لو بجھی جا رہی تھی۔ رومی پل پر چلتے ہوئے میں نے آخری بار پلٹ کر مسجد پر نظر دوڑائی اور دل میں دعا کی کہ ایک بار پھر آنا ہو تو اس کے شکرانے کے نفل اگر مسجد میں نہ بھی ادا کر سکا تو ملتان میں بھلا کیا پابندی ہے؟ الوداع اے قرطبہ۔


Source

الوداع اے قرطبہ- خالد مسعود خان