Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

سیاست بڑی ظالم شے ہے- خالد مسعود خان

سینیٹ کے چون ارکان گیارہ مارچ کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ان چون میں سے دو ارکان کا تعلق اسلام آباد سے‘ چار کا فاٹا سے‘ گیارہ گیارہ خیبر پختوخوا اور بلوچستان سے جبکہ بارہ بارہ ارکان کا تعلق سندھ اور پنجاب سے ہے۔ پنجاب سے ریٹائر ہونے والے بارہ ارکان میں سے آٹھ کا تعلق مسلم لیگ نون سے دو کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین سے‘ ایک کا تعلق مسلم لیگ قاف سے اور ایک آزاد رکن محمد محسن خان لغاری ہیں۔ قاف لیگ کے ریٹائر ہونے والے رکن کامل علی آغا اور پیپلز پارٹی کے دو ارکان اعتزاز احسن اور خالدہ پروین ہیں۔

یہ تو ہو گئے ریٹائر ہونے والے بارہ اراکین سینیٹ۔ ایک فارغ ہونے والے نہال ہاشمی کو ڈال کر پنجاب سے کل تیرہ ارکان فارغ ہوئے ہیں۔

ان تیرہ خالی ہونے والی سیٹوں پر مسلم لیگ نون نے سولہ امیدوار نامزد کئے ہیں یعنی مسلم لیگ کے اپنے امیدواروں میں سے تین فالتو ہیں‘ یہ فالتو کون سے والے ہیں اس کا پتا الیکشن کے نتائج دیکھ کر چلے گا۔ فی الحال پنجاب میں اپوزیشن کی کوئی پارٹی اپنی ذاتی حیثیت میں ایک بھی رکن سینیٹ میں بھجوانے کے قابل نہیں ہے۔

مسلم لیگ نون نے سات فارغ ہونے والے اپنے سینیٹرز میں سے چار کو دوبارہ ٹکٹ دیا ہے یہ چار امیدوار آصف کرمانی‘ نزہت عامر صادق‘ کامران مائیکل اور ساری مسلم لیگ نون کے محترم و مکرم جناب اسحاق ڈار اشتہاری ہیں۔ (تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جن کے کاغذاتِ نامزدگی الیکشن کمیشن نے مسترد کر دئیے ہیں)۔ جنوبی پنجاب سے تین امیدوار نامزد کئے گئے ہیں، یہ تین امیدوار خانیوال سے عرفان ڈاہا‘ ڈیرہ غازی خان سے حافظ عبدالکریم اور ملتان سے رانا محمود الحسن ہیں۔ آخری دونوں امیدواروں کو نامزد کرنا تھوڑا حیران کن ہے کہ حافظ عبدالکریم ڈیرہ غازی خان سے ممبر قومی اسمبلی اور رانا محمود الحسن ملتان سے ممبر صوبائی اسمبلی ہیں۔ ہر دو کی نامزدگی سے سوالات کا ایک نیا باب وا ہوا ہے۔ آخر ان دو حضرات کو جو قومی اور صوبائی اسمبلی کے ”حاضر سروس‘‘ ارکان ہیں‘ کس لیے اسمبلی سے فارغ کروا کر ایوان بالا میں بھیجوایا جا رہا ہے؟

حافظ عبدالکریم نے لغاری سردار جمال خان کو 2013ء کے الیکشن میں شکست فاش دی تھی۔ حافظ عبدالکریم نے سردار جمال خان لغاری کو دس ہزار ووٹوں سے ہرایا تھا۔ اب اچانک ایسا کیا معاملہ آن پڑا کہ مسلم لیگ نون نے ڈیرہ غازی خاں کے حلقہ این اے 172 سے حافظ عبدالکریم‘ جو اس وقت مواصلات کے وفاقی وزیر ہیں‘ کو اٹھا کر سینیٹ میں بھجوانے کا پروگرام بنا لیا ہے؟ بظاہر اس کی ایک ہی بات سمجھ آتی ہے۔

ڈیرہ غازی خان کے حلقہ این اے 172 کو جو روایتی طور پر لغاری سرداروں کا حلقہ سمجھا جاتا تھا اور اس حلقہ سے 2003ء کے الیکشن میں سردار فاروق لغاری نے حافظ عبدالکریم کو شکست دی تھی۔ اس الیکشن کے بارے یہ بات زبان زد عام ہے کہ سردار فاروق لغاری یہ الیکشن حقیقت میں ہار گئے تھے مگر دو دن بعد پہاڑوں سے آنے والے دور دراز کے پولنگ سٹیشنوں کے نتائج نے ساری بازی پلٹ دی۔ 2008ء کے جنرل الیکشن میں اس حلقہ سے سردار اویس لغاری نے مسلم لیگ قاف کی ٹکٹ پر حافظ عبدالکریم کو ہرایا۔ 2010ء کے ضمنی انتخابات میں بھی حافظ عبدالکریم اویس لغاری کے مقابلے میں ناکام رہے۔ 2013 ء میں وہ اس مقابلہ سے پہلی بار کامیاب ہوئے۔ اب ان سے یہ حلقہ خالی کروایا جا رہا ہے۔

گمان غالب تو یہی ہے یہ حلقہ داراصل سردار جمال خان لغاری کیلئے 2018ء کے الیکشن کے لئے خالی کروایا جا رہا ہے اور ڈیرہ غازی خان کے چاروں حلقوں سے اب صرف اور صرف سردار الیکشن لڑیں گے۔ حلقہ این اے 171 سے سردار امجد فاروق کھوسہ (سردار ذوالفقار خان کھوسہ کے کزن اور مخالف) این اے 172 سے سردار جمال خان لغاری، حلقہ این اے 173 سے سردار اویس خان لغاری اور این اے 174 سے سردار محمد جعفر خان لغاری۔ اس طرح ڈیرہ غازی خان کی سیاست سے‘ ڈاکٹر نذیر احمد شہید کے بعد دوسرے نمبر پر سردار حافظ عبدالکریم کو فارغ کروا دیا جائے گا۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شاید اس سیٹ پر سردار ذوالفقار خان کھوسہ کی فیملی میں سے کسی کو ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے مگر یہ خیال خام ہے۔ ذوالفقار خان کھوسہ کی فیملی سے میاں صاحبان کے اختلافات جس حد تک بڑھ چکے ہیں‘ اس کے پیش نظر یہ ممکن نہیں کہ میاں صاحب سردار ذوالفقار کھوسہ کو آئندہ ڈیرہ غازی خان میں کہیں مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم پر اکاموڈیٹ کریں۔ ذوالفقار کھوسہ کا منجھلا بیٹا سیف الدین کھوسہ اپنی فیملی کا واحد سیاسی طور پر زندہ فرد ہے اور وہ دوسرے حلقے‘ این اے 173 سے پی ٹی آئی کا امیدوار ہو گا، لہٰذا بادی النظر میں ان دونوں سیٹوں پر لغاری برادران یعنی اویس لغاری اور جمال لغاری مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہوں گے۔ حافظ عبدالکریم سے لغاری برادران کی جان سینیٹ کے طفیل چھڑوا لی جائے گی۔

اب رہ گیا ملتان سے ایم پی اے رانا محمود الحسن کا معاملہ، رانا محمود الحسن پہلے ملتان کے حلقہ این اے 150 ملتان III سے ایم این اے رہا ہے لیکن 2013ء کے الیکشن میں اسے اس حلقہ سے شاہ محمود قریشی نے شکست فاش سے دوچار کیا تھا۔ رانا محمود اس کا ذمہ دار چوہدری وحید آرائیں وغیرہ کو ٹھہراتا تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ رانا برادران بلدیاتی الیکشن میں گھر کی سیٹ پر بھی چیئرمینی ہار گئے تھے۔

چوہدری وحید آرائیں کی نااہلی سے خالی ہونے والی صوبائی اسمبلی کی نشست پر رانا محمود کامیاب تو ہو گیا تھا لیکن رانا برادران کی ہوا اتنی خراب ہے کہ ان کا این اے 150 پر شاہ محمود قریشی کے خلاف 2018 ء کے الیکشن میں کامیاب ہونا بظاہر ممکن نظر نہیں آ رہا۔ اب این اے 150 پر کیا بنے گا؟ چوہدری وحید آرائیں اپنے چھوٹے بھائی نوید آرائیں کو ملتان کا میئر بنوا چکا ہے اور اب شنید ہے کہ وہ حلقہ این اے 150 سے (نااہلی ختم ہونے کی صورت میں) خود امیدوار ہو گا۔ اس کی نااہلی کی مدت کا فیصلہ میاں نواز شریف وغیرہ کے کیس کے فیصلے میں ہو جائے گا۔ بصورت دیگر وہ اپنی اہلیہ کے لئے قومی اسمبلی کے ٹکٹ کا خواہاں ہے لیکن نظر یہ آ رہا ہے کہ میاں صاحبان این اے 150 پر جاوید ہاشمی کو قربانی کا بکرا بنائیں گے اور شاہ محمود قریشی کے مقابلے پر کھڑا کریں گے۔

اس طرح وہ این اے 150 میں ایک زور دار مقابلے کا اہتمام کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور دوسری طرف اسے حلقہ این اے 149 فارغ کروا کر وہاں مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت میں پیدا ہونے والی دراڑ کو کم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن وہ یہ کر کے دونوں سیٹوں سے فارغ ہو جائیں گے۔ حلقہ این اے 149 سے بھی اور حلقہ این اے 150 سے بھی۔

کوئی کچھ بھی دعویٰ کرتا پھرے مگر حقیقت یہ ہے کہ میاں صاحبان جاوید ہاشمی کو اس عزت اور شان سے واپس لینے میں متامل ہیں جس کا جاوید ہاشمی حقدار ہے، مگر میاں صاحبان خاص طور پر میاں نواز شریف دل صاف کرنے کے سلسلے میں کچھ اچھی شہرت نہیں رکھتے۔ اب وقت گزر گیا ہے کہ میاں صاحبان جاوید ہاشمی کو عزت دے کر سینیٹ میں بھجوا سکتے تھے اور اسے سینیٹ کے چیئرمین کا امیدوار کھڑا کر سکتے تھے۔ اپنے ذاتی سیاسی قد کاٹھ کے طفیل جاوید ہاشمی ہی وہ واحد امیدوار ہو سکتے تھے جو زرداری صاحب کے سیاسی ہتھکنڈوں کا مقابلہ کر سکتے تھے مگر اب تیر کمان سے نکل چکا ہے؛ تاہم یہ تیر غلطی سے نہیں‘ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کمان سے نکالا گیا ہے۔ ممکن ہے میاں نواز شریف نے جاوید ہاشمی کو سیاسی طور پر فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہو۔ سیاست بڑی ظالم شے ہے اور میاں نواز شریف نے اسے اور بھی ظالم بنا دیا ہوا ہے۔


Source

سیاست بڑی ظالم شے ہے- خالد مسعود خان