Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

شاہ جی! کافی پیئو- خالد مسعود خان

لیں جی! مسلسل انعامی بانڈ نکلنے پر کروڑ پتی بننے والے پاکستان کے واحد کروڑ پتی (انعامی بانڈز کی بنیاد پر بننے والے) خواجہ سعد رفیق نے فتویٰ جاری کر دیا ہے کہ اگر وہ بے ایمان اور کرپٹ ہیں تو پاکستان میں کوئی بھی شخص ایماندار نہیں ہے۔ اس ملک کے ایمانداروں پر اب بڑا کڑا وقت آن پہنچا ہے۔

انہیں اللہ کے حضور دعا کرنی چاہیے کہ کوئی معجزہ ہو جائے اور قبلہ سعد رفیق عدالت سے ایماندار ثابت ہو جائیں وگرنہ بڑی مصیبت آ جائے گی اور صرف ان کے خلاف فیصلہ آنے کی صورت میں پورا پاکستان عدالت کے ایک فیصلے کے باعث بے ایمان اور خائن قرار پا جائے گا۔ دنیا میں ایسا دعویٰ اس سے قبل کسی ولی نے بھی نہیں کیا جو جناب سعد رفیق نے کر مارا ہے۔

آخر یہ انعامی بانڈ صرف اور صرف قبلہ سعد رفیق پر ہی کیوں عاشق تھے؟ اس سوال کا جواب میں نے شاہ جی سے کافی عرصہ قبل پوچھا تھا۔ میں جب کسی مسئلے میں پھنس جاتا ہوں تو اس کے لیے شاہ جی سے رابطہ کر لیتا ہوں۔ اول تو شاہ جی خود ایسے کسی مسئلے میں پھنسے رہ چکے ہوتے ہیں یا ان کا کوئی قریبی دوست اس کا شکار رہ چکا ہوتا ہے۔

شاہ جی میں ایک بات بڑی خوب ہے کہ وہ اپنے ذاتی تجربات دوستوں تک من و عن پہنچانے میں رتی برابر تامل نہیں فرماتے۔ میرے اس سوال کے جواب میں شاہ جی کہنے لگے: آپ میرے پھوپھا کا واقعہ سن لیں۔

مجھے بڑا تائو آیا کہ میں سعد رفیق کے انعامی بانڈز نکلنے کی وجہ تسمیہ پوچھ رہا ہوں اور شاہ جی ہیں کہ اپنے پھوپھا کا قصہ لے کر بیٹھ گئے ہیں۔ شاہ جی کہنے لگے: بقول آپ کے ہی ایک نہایت عزیز دوست کے‘ آپ میں تین ناقابل علاج خرابیاں ہیں۔ پہلے میرا خیال تھا کہ وہ تھوڑا بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے ہیں مگر اب میں بھی ان سے متفق ہوں کہ تمہاری یہ خرابیاں ناقابل اصلاح ہیں۔ پھر اس نے وہ تینوں خرابیاں بیان کیں۔ خوفِ فسادِ خلق سے میں وہ خرابیاں بیان نہیں کر سکتا؛ تاہم صرف اتنا عرض ہے کہ ان خرابیوں کا تعلق کردار سے نہیں بلکہ موروثی معاملات سے زیادہ ہے۔ از قسم ذات پات وغیرہ۔ اب یہ چیزیں چاہنے کے باوجود تبدیل تو نہیں کی جا سکتیں۔

بہرحال شاہ جی نے پہلے تو مجھ پر کافی چڑھائی کی‘ پھر کہنے لگے: میرے پھوپھا کے قصے کا تعلق بھی اسی انعامی بانڈ والے معاملے سے ہے۔ انعامی بانڈ میرے مرحوم پھوپھا پر بھی بڑے عاشق تھے۔ انہیں ڈھونڈ ڈھانڈ کر ان کے ہاں آ جاتے تھے۔ خواہ کہیں بھی نکلیں بالآخر ان کے گھر آ کر دم لیتے تھے۔ میں نے حیرانی سے پوچھا: بھلا یہ کیا ہوا؟ نکلیں کہیں اور‘ اور دم لیں آ کر تمہارے پھوپھا کے گھر۔ کیا وہ بڑے ”کرنی والے‘‘ بزرگ تھے؟ شاہ جی زور سے ہنسے اور کہنے لگے: ہاں! وہ بڑے ہی کرنی والے بزرگ تھے۔ تب وہ ایکسپورٹ امپورٹ ڈیپارٹمنٹ میں آفیسر تھے۔ پرانی بات ہے۔

یوں سمجھو چالیس پچاس سال پرانی۔ تنخواہیں ہزاروں میں نہیں سینکڑوں میں ہوتی تھیں۔ لوگ انکم ٹیکس اور اینٹی کرپشن وغیرہ سے کہیں زیادہ معاشرے سے‘ گھر والوں سے‘ عزیز رشتہ داروں سے اور سب سے بڑھ کر گھر کے بزرگوں سے ڈرتے تھے۔ لہٰذا اوپر والی کمائی گھر لانے اور خرچ کرنے میں بڑے معاشرتی مسائل حائل تھے۔ گھر والے تو گھر والے‘ سارے محلے میں بڑی شرمندگی ہوتی تھی۔ اب جیسا معاملہ نہیں تھا کہ لڑکے کے رشتے کی بات ہو تو تنخواہ کے ساتھ ”اوپر والی آمدنی‘‘ بڑے فخر سے بتائی جاتی ہے اور ماں باپ اس اوپر والی آمدنی پر نہ صرف فخر محسوس کرتے ہیں بلکہ ایمانداری سے رزق حلال کمانے کو باقاعدہ حماقت وغیرہ کا طعنہ دیتے ہیں۔

میرے پھوپھا مرحوم بھی اسی مشکل کا شکار تھے اور اپنی اوپر والی آمدنی کو معاشرے میں جائز ثابت کرنے کے لیے مختلف حیلے بہانے آزماتے رہتے تھے۔ ان میں ایک یہی انعامی بانڈ والا ”جھرلو‘‘ تھا۔ وہ دس ہزار روپے کے انعام والا کسی کا نکلا ہوا بانڈ بارہ ہزار روپے میں‘ بیس ہزار والا پچیس ہزار میں۔ پچاس والا ساٹھ ہزار روپے وغیرہ میں خرید لیتے تھے اور مشہور کر دیتے تھے کہ ان کا بانڈ نکلا ہے۔ ویسے انہوں نے اس قسم کے سینکڑوں بانڈ خرید بھی رکھے تھے مگر یہ محض سوئے اتفاق ہے کہ ان کے اپنے بانڈز میں سے کبھی کوئی بانڈ نہ نکلا تھا۔ ایک بار تو وہ ایک لاکھ روپے والا انعامی بانڈ ڈیڑھ لاکھ میں خرید لائے۔ سارا محلہ ان کی قسمت پر رشک کرتا تھا اور لوگ کہتے تھے کہ دیکھیں ایماندار افسر ہیں‘ قدرت ان کی ایمانداری کے طفیل ان پر مہربان ہے اور ان کے دھڑا دھڑ بانڈ نکل آتے ہیں۔ ایمانداری کبھی ضائع نہیں جاتی۔

یہ کہہ کر شاہ جی مسکرائے اور کہنے لگے: اب تمہیں سمجھ آئی کہ انعامی بانڈ کس طرح اور کس قسم کے لوگوں پر عاشق ہوتے ہیں؟ رہ گئی یہ بات کہ اب پاکستان بھر کے ایماندار لوگوں کا مستقبل سعد رفیق کے ایماندار ہونے کے عدالتی فیصلے سے جڑ گیا ہے تو اس بارے میں ایمانداروں کو فکر ہونی چاہیے۔ اپنا کیا ہے۔ ہم فقیر کس کھاتے میں ہیں؟ پھر شاہ جی حسب معمول نہایت ”کھچرے پن‘‘ سے مسکرائے اور کہنے لگے: میں نے تمہارا اتنا گنجلک مسئلہ حل کیا ہے‘ اس خوشی میں مجھے ایک عدد نہایت عمدہ کافی کا کپ پلایا جائے۔ میں نے شاہ جی کی یہ فرمائش فوری طور پر پوری کر دی۔

شاہ جی نے کافی کی چار چسکیاں لیں تو ان کی آنکھوں میں ایک مخصوص چمک پیدا ہوئی۔ میں سمجھ گیا کہ اب خیر نہیں ہے۔ شاہ جی تھوڑا آگے جھکے اور کہنے لگے: تم نے دو چار دن پہلے والا رئوف طاہر کا کالم پڑھا ہے جس میں تمہارا ذکر ہے‘ وہ بابا رحمتے والے کالم کے حوالے سے… میں نے کہا: شاہ جی پڑھا ہے اور بالکل پڑھا ہے۔ شاہ جی کہنے لگے: پھر تمہارا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا: خیال کا کیا ہے؟ خیال تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

شاہ جی کہنے لگے: میرا مطلب ہے کہ انہوں نے جو کچھ لکھا ہے‘ تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ میں نے کہا : وہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ خیال تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ کچھ بھی کیا ہے؟ شاہ جی نے دوبارہ پوچھا۔ مجھے اندازہ ہو چکا تھا کہ شاہ جی جان چھوڑنے والے نہیں ‘ سو میں تیار ہو کر بیٹھ گیا اور کہا: پوچھیں شاہ جی‘ کیا پوچھنا ہے؟

شاہ جی کہنے لگے: رئوف طاہر نے تمہارے کالم پر لکھا ہے کہ ”سیاسی جماعتیں کوئی خیراتی ادارے نہیں ہوتے‘ وہ اپنے انتخابی منشور کے ساتھ عوام میں جاتی ہیں‘ اور برسر اقتدار آ کر اپنی کارکردگی کے حوالے سے عوام کی آگہی کو اپنا فرض (حق) سمجھتی ہیں‘ دنیا بھر میں یہی ہوتا ہے‘‘۔ میں نے کہا: شاہ جی! میں بھی تو یہی کہہ رہا ہوں کہ سیاسی جماعتیں کوئی خیراتی ادارے نہیں ہوتیں کہ ہماری جیبوں سے پیسے نکال کر اپنی اشتہار بازی کرتی پھریں۔ اپنی کامیابیوں کا ذکر ضرور کریں لیکن اپنے پلے سے کریں۔ انتخابی مہم میں اپنا انتخابی منشور لے کر جائیں اور اگلے الیکشن میں اس منشور کے حوالے سے اپنی کامیابیاں عوام کو بتائیں‘ لیکن اپنا منشور اور اپنی کامیابیاں اپنے پلے سے چھاپیں نہ کہ آپ کے اور میرے ٹیکس کے پیسوں سے۔

رہ گئی یہ بات کہ دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے تو میرا خیال ہے میری اور برادرم رئوف طاہر کی دنیائیں الگ الگ ہیں۔ میں نے بڑی دنیا دیکھی ہے۔ یہ میرے مالک کا کرم ہے جس کی عنایتوں کے طفیل میں قریب آدھی دنیا دیکھ چکا ہوں۔ ایسی دنیا جس میں جمہوریت ہے‘ جہاں Public Money کو حکمران اپنے باپ کا مال سمجھ کر استعمال نہیں کرتے۔

جہاں لوگ حکمرانوں سے اپنے ٹیکسوں کے استعمال کا حساب مانگ سکتے ہیں اور جہاں حکمران سرکاری خزانے کے بے جا استعمال پر گھر بھیج دیئے جاتے ہیں۔ ادھر کیا ہو رہا ہے؟
نندی پور پاور پلانٹ کے افتتاح پر اخبارات کے پورے پورے صفحے حکمرانوں کی تصویروں سے رنگین ہو گئے۔ سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے ذاتی تشہیر پر صرف ہو گئے اور نندی پور پاور پلانٹ چار دن بعد بند ہو گیا۔ بھکی پاور پلانٹ کی تشہیر پر بھی یہی ہوا اور پلانٹ ہفتے بعد بند ہو گیا۔ یہی حال حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ کا ہوا۔ کسی حکمران کو شرم نہیں آئی کہ کروڑوں روپے اڑا دیئے گئے اور پلانٹ دو چار دن بعد بند ہو گئے۔ لیکن ان باتوں کا کوئی فائدہ نہیں۔

یہاں کوئی سیاسی ورکر یا حامی‘ میرا زور ”کوئی‘‘ پر ہے‘ اس میں ہر پارٹی کا عام ورکر اور سپورٹر شامل ہے‘ دوسرے بندے کی بات نہیں مانتا کجا کہ وہ لکھنے کا ہنر بھی جانتا ہو۔ لہٰذا اس بحث کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی کوئی ضرورت۔ تم کافی پیئو۔ کافی ٹھنڈی ہو رہی ہے۔


Source

شاہ جی! کافی پیئو- خالد مسعود خان