Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

تبدیلی اور تبدیلی کا احساس- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

ثروت بی بی تحریک انصاف کی ایک دردمند اور باشعور خاتون ہیں۔ وہ ہمیشہ دل سے بولتی ہیں۔ سب کچھ ہم خود تبدیل کرسکتے ہیں بلکہ خودبخود تبدیل کر سکتے ہیں۔ پھر بھی ہم نے تبدیلی کو ایک سیاسی نعرہ بنا کے رکھ دیا ہے۔ ہم نعرے بازی کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے۔
کوئی حکمرانی کا حق کیسے رکھتا ہے۔ جب اسے محکوم لوگوں کی مشکلات اور معاملات کا اندازہ نہیں ہے۔ گورنر اظہر کی بات ثروت صاحبہ کو یاد آئی کہ آپ اپنے بچوں کیلئے تعلیمی اداروں اور کالجوں‘ یونیورسٹیوں کو ٹھیک کر لیں۔ ثروت بی بی نے بڑی دردمندی اور حکمت سے باتیں کیں۔ کوئی حکمرانی کا حق کیسے رکھتا ہے کہ محکوم لوگ مشکل میں ہیں اور بے کار پڑے ہیں۔

جناح ہسپتال لاہور کا ذکر آیا تو ثروت بی بی نے بڑی دلچسپی سے سارا نقشہ کھینچ کے رکھ دیا۔ ثروت صاحبہ نے بتایا کہ انہوں نے تحریری طورپر شکایت کی ہے اور اس کی رسید بھی لے لی ہے۔ دیکھئے کہ اب وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ میں ہر دوسرے تیسرے کالم میں انہیں یاد دلاتا رہوں گا۔ کبھی تو وزیرصحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی توجہ اس طرف ہوگی اور کوئی بات بنے گی۔ ڈاکٹر صاحبہ سے میری جان پہچان بھی ہے۔ انہیں میرا یہ کالم ضرور دیکھنا چاہئے اور اس حوالے سے کوئی کارروائی بھی کرنا چاہئے۔ امید ہے مجھے کسی دوسرے کالم میں انہیں یاد نہیں کرانا پڑے گا۔ وہ بہت اچھے مزاج کی خاتون ہیں اور ثروت بی بی بحیثیت وزیر صحت کے ان سے بہت زیادہ توقعات رکھتی ہیں۔
جناح ہسپتال میں بلڈ لینے کے بعد خون آلود روئی کے ٹکڑے‘ کھلے سرنجز اور استعمال شدہ ریپر بکھرے پڑے تھے۔ ڈسٹ بن ساتھ تھا مگر سب کچھ زمین پر پھینکا جا رہا تھا۔ ہسپتال کے عملے کے لوگ بھی سب کچھ زمین پر پھینک رہے تھے۔ میں نے اس کیلئے تحریری شکایت کی اور اس کی رسید بھی لے لی۔ اب دیکھئے وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ دیتے ہیں یا نہیں دیتے۔

میری خواہش ہے کہ اخبارات میں لکھنے والوں کو اس ضمن میں لکھنا چاہئے اور لکھتے رہنا چاہئے۔ جب تک ہسپتال والے یہ روش نہیں بدلتے۔ متعلقہ لوگوں کو ہسپتالوں کا وزٹ کرنا چاہئے۔ جہاں نئی زندگی حاصل کرنے کیلئے لوگ آتے ہیں۔ جہاں گندگی اور شرمندگی کو ختم کرنے کیلئے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے جاتے۔ نجانے لوگ ہسپتالوں اور تھانوں میں جانے سے کیوں گھبراتے ہیں؟
ہسپتالوں کے انچارج افسران کے رویئے کو بھی نوٹس کرنا چاہئے۔ میراخیال ہے کہ ڈاکٹر افسر نہیں ہوتا۔ وہ مریضوں کا ہمدرد ہوتا ہے۔ صرف معالج مگر یہاں لوگ افسران بنے ہوتے ہیں۔ ہسپتال کا عملہ صرف ان کا ملازم اور خدمت گار ہوتا ہے۔ وہ مریضوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے۔ مریضوں کے عام ورثا کی بھی پروا نہیں کرتے۔ ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اور عام مریضوں کے وارڈ میں جا کے دیکھئے کیا کسی طرح کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

وہ لوگ جو وزیر صحت یا محکمۂ صحت کے کسی افسر کے عزیز رشتہ دار اور دوست وغیرہ ہوتے ہیں۔ ان کا ہی خیال رکھا جاتا ہے۔ ایک ملازم کہنے لگا کہ اتنے مریض آتے ہیں اور ان کے ساتھ اتنے عزیز رشتہ دار ہوتے ہیں کہ ہم کس کس کا خیال رکھیں۔ مریض جتنے بھی آ جائیں، ان کوسنبھالنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ عملے کی کوئی ٹریننگ نہیں ہے۔ انہیں کوئی تربیت نہیں دی جاتی کے مریضوں اور اُن کے لواحقین کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جانا چاہئے۔ ہسپتالوں میں عملے کے لوگوںکوپتہ ہی نہیں کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔ اختیارات مل گئے ہیں مگر شعور نہیں ہے۔ یہ ضروری ہے کہ اکانومی کو ٹھیک کر لیا جائے مگر دردمندی اور ٹریننگ بھی بہت ضروری ہے۔
ثروت بی بی کا تعلق تحریک انصاف سے بہت پرانا ہے مگر وہ اپنی تحریک انصاف کی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد سے مطمئن نہیں ہیں۔ وہ اچھی خاتون ہونگی مگر ہر کام کو سیاسی اندازمیں لیتی ہیں۔ جس میں عوام کے فائدہ کا تصور نہیں ہوتا۔
آدمی تھوڑی سی توجہ دے اور تکلیف کرے تو اس طرح اپنا بھی فائدہ ہو گا اور دوسروں کا بھی فائدہ ہو گا۔ مثلاً ایک بات بتائوں جو بظاہر میرے موضوع سے متعلق نہیں ہے۔ ایک مرغی ثروت نے خریدی۔ اس کا وزن وہ نہیں تھا جو بتایا گیا تھا۔ اُس نے پاس میں کہیں سے وزن کرایا تو وہ کم نکلا۔ اس بات کے بعد دکاندار اپنے آپ ایماندار ہو گیا۔ اُس نے خود بتایا کہ اس نے جب سے دیانتداری شروع کی ہے اُسے فائدہ ہونے لگا ہے۔ اب اُس نے آہستہ آہستہ ا پنا مکان بنا لیا ہے۔ وہ بہت خوش ہے اور خوش مزاج بھی ہو گیا ہے۔ کیا سب لوگ اس طرح نہیں سوچ سکتے۔

ثروت کہتی ہیں ہم لوگ اتنے اسلامی ہیں کہ ا پنے نظریات میں ذرا سی تبدیلی برداشت نہیں کرتے۔مگر وہ تبدیلی جو اپنے بس میں ہو اپنی ذات میں لانا چاہئے، اس کے لئے کوئی بات سُننے کے لئے تیار نہیں۔ تبدیلی کا ایک وعدہ اور نعرہ تحریک انصاف کا بھی ہے بلکہ عمران خان کا ہے۔ عمران خان نے اپنے اس نعرے کو نہیں چھوڑا۔ وہ اس پر قائم ہے۔ ہمیں بھی امید ہے کہ کچھ نہ کچھ تبدیلی آئے گی۔تبدیلی ضرور آئے گی۔ اس کے لئے ہمیں اپنے اندر بھی تبدیلی لانا ہو گی۔ ثروت بی سمجھتی ہے کہ عمران خان نے تبدیلی کے نام پر ایک پیغام لوگوں کو دیا ہے۔ لوگوں نے تبدیلی کیلئے سوچنا شروع کر دیا ہے۔ یہی تبدیلی ہے۔ آدمی جب تبدیلی کیلئے سوچنا شروع کر دیتا ہے تو وہ تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے اور تبدیلی یہی ہے جو نادانستہ طورپر نظر نہ آتے ہوئے شروع ہوتی ہے۔ آدمی کو پتہ نہ بھی چلے تو بھی تبدیلی ہورہی ہوتی ہے۔ پیدا ہونے کے بعد صرف ایک تبدیلی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اصل تبدیلی ہی وہ ہے جو بغیر کسی احساس کے ہوتی ہے اور ہوتی رہتی ہے مگرجناح ہسپتال محمد علی جناح ہسپتال کب بنے گا۔


Source

تبدیلی اور تبدیلی کا احساس- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

تبصرہ کریں