Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

منتظرِ فردا؟ ھارون الرشید

اللہ کی آخری کتاب میں تاکید ہے کہ فیصلے باہم مشورے کے ساتھ صادر ہونے چاہئیں۔ اجتماعی حیات کو ایک کم از کم اتفاقِ رائے درکار ہوتا ہے۔ آزادانہ اور بھرپور بحث کے بغیر یہ کس طرح ممکن ہے؟ گروہوں میں بٹ جانے، بگڑ کر باہم متصادم رہنے میں کیا دانائی ہے؟
اقبالؔ نے کہا تھا:
تھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو

قومیں صدمات سے گزرتی ہیں۔ ہمیشہ سے گزرتی آئی ہیں۔ اللہ نے آدمی کو پیدا ہی اس لیے کیا کہ آزمایا جائے۔ تباہی ابتلا سے نہیں، ابتلا کے اسباب پر ٹھنڈے دل سے غور نہ کرنے اور موزوں نتائج اخذ نہ کرنے سے آتی ہے۔ ہر انحراف دراصل فکری اور علمی ہوتا ہے۔ عمل کی خرابی اسی میں سے پھوٹتی ہے۔ خوش فہمی آدمی کی سرشت میں ہے۔ اپنے فرض کو کم اور اپنے آپ کو وہ زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ خود ترسی اور اپنے آپ سے ہمدردی بدرجۂ اتم آدم زاد میں پائی جاتی ہے۔ پورا صبر آدمی میں خال ہی ہوتا ہے، النادر کالمعدوم۔ یہ پیغمبرانِ عظامؑ کا وصف ہے۔ حکمران اور سیاستدان میں تحمل ہو تو بھنور سے کشتی نکال لیتا ہے۔ ہمارے سامنے ڈنگ سیائو پنگ نے نکالی، سنگا پور کے لی کوانگ، ملائیشیا کے مہاتیر محمد نے۔ مسلم تاریخ میں درجنوں ایسے حکمران اور مدبر پیدا ہوئے۔ محمد علی جناحؒ شاید ان میں سے آخری تھے۔

رضا ربانی کے گرامی قدر والد عطا ربانی قائدِ اعظم کے اے ڈی سی تھے۔ طویل عمر پائی اور کئی کتابیں لکھیں۔ “I was Quaid’s ADC” جذبات سے پاک، پوری احتیاط، صحت اور سلیقہ مندی سے۔
لکھا ہے ‘برطانوی ہائی کمشنر ایک صبح قائدِ اعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ برطانوی بادشاہ کے بھائی کو کراچی پہنچنا تھا۔ سفیر نے درخواست کی کہ قائدِ اعظم ہوائی اڈے پر اس کا استقبال کریں۔ اس آدمی نے، جو ہمیشہ یکسو رہتا، جو ہمیشہ مخاطب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حتمی بات کرتا، یہ کہا: اگر میرا بھائی انگلستان جائے تو ہوائی اڈے پر کون اس کا خیر مقدم کرے گا۔ قائدِ اعظم کو سخت گیر سمجھا جاتا ہے۔ ڈسپلن کی حد تک یہ بات بالکل درست ہے۔ جذباتی توازن مگر ایسا کہ غور کرنے والا اش اش کر اٹھتا ہے۔ فوراً ہی حکم صادر کیا کہ گورنر جنرل ہائوس میں مہمان کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا جائے۔ سب جانتے ہیں کہ مہاجروں کی حالت بہت پتلی تھی۔ جھونپڑیوں میں پڑے تھے۔ بارشوں نے بستیوں کو ادھیڑ ڈالا تھا۔

مہاجروں کا ایک ہجوم گورنر جنرل ہائوس آ پہنچا اور نعرہ زن ہوا۔
صحت اچھی نہ تھی۔ کھانے کے چند لقمے ہی کھا سکتے لیکن وہ وہی محمد علی جناح تھے۔ بیماری ان کے جذباتی توازن کو برہم نہ کر سکی تھی۔ عشائیہ تمام ہوا تو تکان کا شکار تھے۔ لیاقت علی خاں کو طلب کیا اور کہا کہ وہ مہاجروں سے بات کریں۔ چند منٹ میں وزیرِ اعظم پلٹ آئے اور یہ کہا: “Quaid e Azam I think….” (قائدِ اعظم میں سمجھتا ہوں…) نابغہ کی تیز نگاہ نے انہیں دیکھا اور یہ کہا: “Leave it Layaqat, I don,t think, you can think” (چھوڑو لیاقت، میرا نہیں خیال کہ تم سمجھ سکتے ہو)۔ مہاجروں کے پاس تشریف لے گئے۔ کہا کہ تین آدمیوں کا ایک وفد ان کے پاس بھیجیں۔ بات سنی، مطالبات کی فہرست بنائی۔ بعض پر عمل درآمد کا وعدہ کیا۔ بعض پر غور و فکر کا… اور یہ فرمایا: تمہارا خیال کیا یہ ہے کہ مجھے تمہاری کوئی پروا نہیں۔ ایسا نہیں۔ حالات خراب ہیں، جوں جوں سدھرتے ہیں، تمہاری اذیت کم ہوتی جائے گی۔

قائدِ اعظم کے تربیت یافتہ لیاقت علی خاں ایک دیانتدار اور سلیقہ مند حکمران اور منتظم تھے۔ ظاہر ہے کہ قائدِ اعظم کے بلند معیار سے کم مگر بعد میں آنے والوں سے بدرجہا بہتر۔ کوتاہیاں ان سے بھی سرزد ہوئیں مگر ایک سچّے اور کھرے محب وطن تھے۔ ڈاکٹر مصدق کی بغاوت کے ہنگام امریکیوں نے شہنشاہ رضا شاہ پہلوی کے حق میں مداخلت کی فرمائش کی۔ صاف صاف آپ نے انکار کر دیا؛ چنانچہ سی آئی اے نے قتل کر ڈالا۔ مرنا ہے، ہر آدمی کو مر جانا ہے۔ موت ایک لمحہ پہلے آ سکتی ہے اور نہ ایک ساعت ملتوی ہوتی ہے مگر تاریخ اور اللہ کی بارگاہ میں وہ سرخرو ہیں… اور یہی سب سے بڑا اثاثہ ہے۔

ادھر سے بات ادھر نکل جاتی ہے۔ پچھلے چند دنوں کے دوران کئی صاحب الرائے سیاسی کارکنوں اور دانشوروں سے ایک سوال پوچھا: کیا موجودہ پارلیمانی نظام، سیاسی جماعتوں کے کارفرما ڈھانچے، موجودہ سول سروس، پولیس اور عدالتی نظام کے ساتھ ملک دلدل سے نکل سکتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کا جواب نفی میں تھا۔ پوچھا گیا کہ کیا سیاسی پارٹیوں کے انتخاب سرکاری الیکشن کمیشن آف پاکستان کی نگرانی میں ہونے چاہئیں؟ ہاں، جواب دینے والے تقریباً سبھی نے اثبات میں جواب دیا۔ اس پر بھی اتفاق رائے کہ پولیس، عدالتی نظام اور سول سروس میں بنیادی تبدیلیوں کے بغیر ملک مستحکم نہیں ہو سکتا۔ کشکول سے چھٹکارا نہیں پا سکتا۔

معیشت کو دستاویزی کرنے، ٹیکس وصولی کے نظام کو پوری طرح موثر بنانے، سمندر پار سرمائے کی منتقلی روکنے، کالے دھن سے نجات پانے اور کاروبار کے لیے پوری طرح آزاد فضا مہیا کرنے کے بارے میں کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ مدتوں سے ان موضوعات پہ بحث جاری ہے۔ نتائج اخذ کیے جا چکے۔ اس لیے بھی اخذ کیے جا چکے کہ دنیا ہمارے سامنے کھلی پڑی ہے۔ تاریخی تجربہ سامنے ہے۔ سامنے کی بات یہ ہے کہ حکومت کا انحصار چند چیزوں پہ ہوتا ہے۔ ایسا مکمل امن، جرم جس میں سہولت سے سرزد نہ ہو۔ غیر ضروری تاخیر کے بغیر تنازعات نمٹانے والا عدالتی نظام، قابلِ اعتماد پولیس، ٹیکس کی مکمل وصولی، کاروبار کی آزادی مؤثر اور مثبت اندازِ فکر رکھنے والی سول سروس۔ ٹیکس وصولی کہ دفاع، نظم و نسق، تعلیم اور صحت کا انحصار اسی پر ہوتا ہے۔ وگرنہ بھیک‘ وگرنہ کشکول، وگرنہ بے بسی، مایوسی اور ذلت و نکبت۔

موجودہ پارلیمانی نظام میں یہ ممکن ہی نہیں۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ صدارتی نظام کی تجویز سامنے آئی تو اس بنا پر حقارت اور نفرت سے مسترد کر دی گئی کہ اس کی آرزو مند اسٹیبلشمنٹ ہے۔ سبحان اللہ، کوئی اگر یہ کہے کہ آدمی کو صبح اٹھنا چاہیے، ورزش کرنی چاہیے، ہر روز کچھ سیکھنا چاہیے اور عصرِ رواں کے تقاضوں کا ادراک کرنا چاہیے‘ تو کیا اس لیے نصیحت ہم مسترد کر دیں کہ نصیحت کرنے والا نا پسندیدہ واقع ہوا ہے۔ کیا بھڑک کر یہ جواب ہم دیں گے کہ دیر سے سو کر اٹھنا چاہیے۔ ورزش نہیں کرنی چاہیے۔ طالبِ علمانہ طرزِ عمل اختیار نہ کرنا چاہیے اور ماضی میں زندہ رہنا چاہیے۔

صدارتی نظام نہ سہی، متناسب نمائندگی۔ نامزدگیاں کیوں؟ سیاسی جماعتوں کے الیکشن جماعتِ اسلامی اور اے این پی کی طرح کیوں نہ ہوں۔ جیسا کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے فسادیوں کے بارے میں اپنے تازہ فیصلے میں لکھا ہے: الیکشن کمیشن کیوں نگراں نہ ہو۔ تمام ادارے سختی کے ساتھ اپنی حدود ہی میں کیوں سرگرمِ عمل نہ ہوں؟ اسٹیبلشمنٹ کو چھوڑیے، بحث تو ہونی ہی چاہیے اور کھل کر ہونی چاہیے کہ پارلیمانی نظام زیادہ موزوں ہے یا صدارتی۔ سول سروس، پولیس، عدالتی نظام، سیاسی پارٹیوں کی جدید تشکیل اور عام انتخابات میں سرمایے کے بے دریغ استعمال کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔

اللہ کی آخری کتاب میں تاکید ہے کہ فیصلے باہم مشورے کے ساتھ صادر ہونے چاہئیں۔ اجتماعی حیات کو ایک کم از کم اتفاقِ رائے درکار ہوتا ہے۔ آزادانہ اور بھرپور بحث کے بغیر یہ کس طرح ممکن ہے؟ گروہوں میں بٹ جانے، بگڑ کر باہم متصادم رہنے میں کیا دانائی ہے؟
اقبالؔ نے کہا تھا:
تھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو

The post منتظرِ فردا؟ ھارون الرشید appeared first on Daleel.Pk.


Source

منتظرِ فردا؟ ھارون الرشید