Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

جنہیں ٹائم پاس کرنا نہیں آتا! عطا ء الحق قاسمی

میں بیرونِ ملک جا رہا تھا، فلائٹ کی روانگی میں ابھی دو گھنٹے تھے، سمجھ نہیں آتی تھی کہ ٹائم کیسے پاس کیا جائے۔ اتنے میں ایک اڈھیر عمر شخص جس نےایک مہنگے برانڈ کا انتہائی مہنگا سوٹ پہنا ہوا تھا، میرے برابر کی سیٹ پر آکر بیٹھ گیا، گفتگو کا آغاز ہوا تو پتا چلا کہ موصوف ایک بہت بڑے بزنس مین ہیں اور اس وقت بھی بزنس ٹور پر بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔ ٹائم پاس کرنے کے لیے بہترین موضوع کرپشن ہے چنانچہ میں نے موقع غنیمت جانا اور کہا جناب ’’ملک میں کرپشن اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے‘‘ اس کے بعد میں خاموش ہو گیا کیونکہ مجھے یقین تھا باقی ایک گھنٹہ اس موضوع پر موصوف دل کا غبار نکالیں گے اور یوں فلائٹ کے انتظار کا ایک گھنٹہ کم ہو جائے گا مگر انہوں نے میرے سوال کے جواب میں خاموشی اختیار کرلی۔

مجھے گمان ہوا شاید وہ اونچا سنتے ہیں چنانچہ میں نے اپنی آواز کا والیم بڑھایا اور چیخنے کے انداز میں کہا ’’جناب ملک میں کرپشن بہت بڑھ گئی ہے پاکستان کا کیا بنے گا؟‘‘ مگر وہ اس پر بھی گم سم بیٹھے رہے۔ تب میں نے انہیں جھنجھوڑتے ہوئے کہا ’’جناب! آپ میرے سوال کا جواب کیوں نہیں دے رہے؟‘‘ اس پر ان کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ سی ابھری اور بولے ’’آپ سمجھ رہے ہوں گے شاید میں بہرا ہوں مگر میں بہرا نہیں ہوں، میں نے آپ کا سوال پہلی مرتبہ ہی سن لیا تھا‘‘۔ تب میں نے حیران ہو کر پوچھا ’’اگر ایسا ہے تو پھر آپ کرپشن پر زبان کیوں نہیں کھول رہے!‘‘ یہ سن کر انہوں نے آہستگی سے کہا ’’اس لئے کہ میں اور میرے طبقے کی اکثریت خود بہت کرپٹ ہے، میرا کروڑوں کا کاروبار ہے مگر میں سالانہ چند ہزار انکم ٹیکس ادا کرتا ہوں، لالہ موسیٰ میں میری ایک فیکٹری بھی ہے جس میں تمام مہنگے برانڈ کی جعلی کاسمیٹکس تیار ہوتی ہیں حال ہی میں مَیں نے تین لاکھ روپے کی ایک مشین خریدی ہے جو مدتِ میعاد گزر جانیوالی ادویات پر نئی ایکسپائری ڈیٹ کندہ کرتی ہے، اس کے علاوہ حکومتی کارندوں کے ساتھ مل کر جعلی ریبیٹ (REBATE) حاصل کرتا ہوں، خریداروں سے سیلز ٹیکس وصول کرکے حکومتی خزانے میں جمع نہیں کراتا، بیرونِ ملک خالی کنٹینر ایکسپورٹ کرکے جعلی ریفنڈ وصول کرتا ہوں، اندھا دھند منافع خوری کرتا ہوں‘‘۔ مجھے یہ شخص بہت فضول لگا اور مجھے سمجھ نہیں آئی کہ اگر وہ کرپٹ ہے تو ہوا کرے لیکن اسے کرپشن کیخلاف بولنا تو چاہئے، انسان نے آخر ٹائم بھی تو پاس کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ میں نے کہا ’’جناب! آپ جو کچھ فرما رہے ہیں بجا فرما رہے ہیں لیکن آپ کو دوسروں کی کرپشن کیخلاف کم از کم آدھ پون گھنٹہ تو بولنا چاہئے کیونکہ فلائٹ کی روانگی میں ابھی دو گھنٹے باقی ہیں‘‘۔ مگر موصوف نے معذرت کی اور کہا ’’میں پہلے خود ٹھیک ہو لوں، بعد میں دوسروں کے بارے میں بات کروں گا۔‘‘

مجھے یہ کیس ناقابلِ علاج لگا چنانچہ میں نے اپنا بریف کیس اٹھایا اور ایک بڑے گرانڈیل قسم کے مسافر کے پاس جاکر بیٹھ گیا، اس نے خوشدلی سے میرا استقبال کیا، رسمی قسم کی ابتدائی گفتگو کے بعد میں نے پوچھا ’’جناب ہمارے ہاں کرپشن کب ختم ہو گی؟‘‘ مگر اس نے سوال کے جواب میں خاموشی اختیار کرلی، میں نے دو تین مرتبہ اپنا سوال دہرایا تو اس نے کہا ’’جناب میں کرپشن کے خلاف کس منہ سے بات کروں۔ میں خود ایف آئی اے میں ہوں، ملک دشمنوں کے پاسپورٹ بنانا، انہیں اپنے ملک میں داخل ہونے دینا اور ملک سے باہر جانے دینا اور اس طرح کے دوسرے بے شمار کاموں کا میں بھاری معاوضہ وصول کرتا ہوں، اربوں روپے کے غبن کا کیس ہو تو کروڑوں اس میں سے بھی مل جاتے ہیں۔‘‘

میں نے دل میں لاحول ولا پڑھا اور ایک بار پھر اپنی سیٹ بدل لی مگر میرے دل کی مراد بر نہیں آئی کیونکہ میں رینجر کے ایک اہلکار کے پاس گیا، ایک پولیس آفیسر سے بات کی، ایل ڈی اے کے ایک افسر کے سامنے اپنا مدعا بیان کیا، ضلع کچہری کے ایک اہلکار سے میری بات ہوئی، ایک مسافر کا تعلق انٹی کرپشن کے محکمے سے تھا، اسے ٹٹول کر دیکھا، ٹی وی کا ایک معروف اینکر مجھے نظر آیا، اس سے پوچھا، ایف بی آر کے ایک اعلیٰ افسر سے بھی گفتگو ہوئی، ایک وزیر باتدبیر سے گپ شپ کی کوشش کی، ہیروئین کا ایک بہت بڑا اسمگلر اس فلائٹ سے بیرونِ ملک جا رہا تھا اس سے میری بہت امیدیں وابستہ تھیں مگر اس نے بھی پَلّا نہیں پکڑایا، دشمن ملکوں سے دہشت گردوں کیلئے اسلحہ پاکستان اسمگل کرنیوالا ایک شخص بھی میرے والی فلائٹ کے انتظار میں بیٹھا تھا، اس نے بھی میرے ٹائم پاس کرنے کی خواہش کا احترام نہیں کیا، زندگی کے تقریباً تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اس وقت فلائٹ کے انتظار میں لاؤنج میں موجود تھے لیکن میں نے جس کسی سے کرپشن کے پھیلاؤ اور اس کی تباہیوں کو موضوعِ گفتگو بنانے کی کوشش کی اس نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ہم خود سب سے زیادہ کرپٹ ہیں لہٰذا جب ہم خود ٹھیک ہوں گے تب بات کریں گے!

پیشتر اس کے کہ میں مایوس ہو کر نیند کی گولی منہ میں ڈالتا اور یوں فلائٹ کی روانگی تک ڈیڑھ گھنٹہ نیند کے مزے لیتا، اچانک میری نظر ایک کلرک نما شخص پر پڑی، پتا چلا وہ واقعی ایک دفتر میں کلرک ہے، میں نے سوچا یہ طبقہ کرپشن کے ہاتھوں اپنے حقوق سے محروم ہو رہا ہے چنانچہ یہ اس موضوع پر یقیناً گھنٹوں بات کرے گا مگر اس کا رویہ بھی سرد مہری کا تھا۔ جب میں نے اسے اس موضوع پر بولنے پر بہت زیادہ اکسایا تو وہ بولا ’’میں کلرک ہوں، میری تنخواہ 25ہزار روپے ماہوار ہے اور میں بیرونِ ملک چھٹیاں گزارنے جا رہا ہوں، میں ڈیفنس میں رہتا ہوں میرے پاس بی ایم ڈبلیو کار ہے، میرے گھر پر دس ملازم ہیں اور تم مجھ سے توقع رکھتے ہو کہ میں کرپشن کے خلاف بولوں، آخر ضمیر بھی کوئی چیز ہے‘‘ اور پھر اس نے مجھے بتایا کہ ایک چھوٹا دکاندار، ایک مزدور، ایک مکینک، ایک راج، ایک چپراسی، گھر کا ملازم یہ سب حسبِ توفیق کرپشن کرتے ہیں، اور پھر ہم سب کرپشن کرپشن کرتے رہتے ہیں، تم لوگ جو اخباروں کے صفحے کے صفحے اور ٹی وی چینلوں کے کئی گھنٹے اس موضوع کی نذر کر دیتے ہو، اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ، تم میں سے کتنوں کے ہاتھ صاف ہیں؟ بلکہ مجھے ایک بات اور بھی بتاؤ، اور وہ یہ کہ جو طبقے ایماندار کہلاتے ہیں وہ دل ہی دل میں دعائیں مانگتے ہیں کہ کاش کبھی انہیں بھی کرپشن کا موقع ملے۔ میں ایک کرپٹ انسان ہوں مگر میں خود کو بدلنے کی کوشش میں ہوں، جس دن میں اس کوشش میں کامیاب ہو گیا، اس دن تم سے زیادہ کرپشن کے خلاف بولوں گا!‘‘

صورتحال خاصی مایوس کن تھی، چنانچہ میں نے تھک ہار کر ہتھیار ڈال دیئے مگر اس وقت میری مایوسی اپنی انتہا کو پہنچ گئی جب سول ایوی ایشن والوں کی لڑکی کی اناؤنسمنٹ سنائی دی، جس میں اس نے یہ وعید سنائی کہ جہاز کی روانگی میں دو گھنٹے تاخیر ہے جس پر پی آئی اے ان سے معذرت خواہ ہے۔ تب میں نے سوچا کہ میرا کیا بنے گا؟ ہمارے لوگوں میں عجیب بے ہودہ تبدیلی آئی ہے کہ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے سے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانکنے لگے ہیں، لیکن میرا مسئلہ بہرحال ٹائم پاس کرنا تھا اور جہاز کی روانگی میں تاخیر کی وجہ سے مجھے اب مزید ٹائم پاس کرنا تھا، میں نے سوچا کوئی اور ایسا موضوع سوچتا ہوں جو ہماری قوم کا پسندیدہ ترین موضوع ہو چنانچہ میں نے ذہن پر زور دیا اور یہ موضوع مجھے سوجھ گیا، ’’پاکستان عالم اسلام کا قَلعہ ہے‘‘ کیا اچھا موضوع ہے۔ ہم لوگ یہ جملہ اپنی ہر گفتگو میں استعمال کرتے ہیں مگر میں نے فوراً ہی اپنا ارادہ ملتوی کر دیا کہ ایئر پورٹ کے لاؤنج میں خود احتسابی کے موڈ میں بیٹھے ہوئے لوگ کہیں اس موضوع پر بھی یہ کہہ کر گفتگو سے انکار نہ کر دیں کہ جس ملک کو ہم نے کرپشن کا قَلعہ بنا دیا ہے وہ اسلام کا قَلعہ کیسے ہو سکتا ہے؟


Source

جنہیں ٹائم پاس کرنا نہیں آتا! عطا ء الحق قاسمی