Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

’عدالت کہ رہی ہے ریپ کے 20 سال بعد بولنے کا مطلب جھوٹ ہی ہوگا‘

آلوک ناتھ پر سب سے پہلے ونتا نندا نے الزام عائد کیا تھا—فوٹو: دی ویک

بولی وڈ کے سنسکاری اداکار 62 سالہ آلوک ناتھ پر اکتوبر 2018 میں اداکارہ و لکھاری ونتا نندا نے ریپ کا الزام عائد کیا تھا۔

اگرچہ آلوک ناتھ نے فوری طور پر ونتا نندا کے الزام کو مسترد کردیا تھا، تاہم اداکار بعد ازاں دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا۔

پہلے آلوک ناتھ اور ان کی اہلیہ نے بھارتی عدالت سے رجوع کیا کہ ان پر جھوٹے الزامات لگائے جا رہے ہیں، جس کی تحقیقات کا حکم دی جائے۔

آلوک ناتھ اور ان کی اہلیہ کی جانب سے عدالت جانے کے بعد ونتا نندا نے بھی ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی اور سب سے پہلے آلوک ناتھ کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔

مقدمہ درج کروانے کے بعد ونتا نندا کا کہنا تھا کہ پولیس کہہ رہی ہے کہ ان کے 20 سال قبل ہونے والے ریپ کی تحقیقات کے لیے ان کا میڈیکل ٹیسٹ بھی ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: آلوک ناتھ کے خلاف ونتا نندا نے ریپ کا مقدمہ درج کروادیا

مقدمہ دائر کروانے کے بعد ونتا نندا کی جانب سے ممبئی کی مقامی عدالت سے بھی رجوع کیا گیا۔

آلوک ناتھ پر اداکارہ سندھیا مردل نے بھی الزام لگایا تھا—فوٹو: انڈین ایکسپریس

اپنے خلاف عدالت میں درخواست دائر ہونے کے بعد آلوک ناتھ نے ضمانت قبل از وقت گرفتاری کے لیے درخواست دی تھی، جسے عدالت نے گزشتہ ہفتے منظور کرلیا تھا۔

ممبئی کی دندوشی سیشن کورٹ نے رواں ماہ 5 جنوری کو پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض آلوک ناتھ کی قبل از وقت گرفتاری کی ضمانت منظور کی تھی۔

مزید پڑھیں: ’ریپ‘ ثابت کرنے کیلئے اداکارہ کا 20 سال بعد میڈیکل چیک اپ؟

تاہم اب اداکارہ ونتا نندا نے آلوک ناتھ کی ضمانت اور ان کی ضمانت کے وقت عدالت کی جانب سے کیس پر دیے گئے ریمارکس پر بات کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

دپیکا امین نے بھی اداکار پر الزامات لگائے تھے—فوٹو: آفٹر نون وائس

ٹائمز ناؤ کے مطابق ونتا نندا نے شوبز نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ان کی جانب سے آلوک ناتھ پر ریپ کے الزامات لگانے پر عدالت کہہ رہی ہے کہ ان کی خاموشی کا مطلب جھوٹ ہوسکتا ہے۔

ونتا نندا کے مطابق عدالت کا کہنا ہے کہ 20 سال تک ریپ کے معاملے پر خاموشی اختیار کیے جانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں جھوٹ بولا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آلوک ناتھ کی’ریپ‘ کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری منظور

اداکارہ و لکھاری نے عدالت کے ایسے ریمارکس پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر انہوں نے اپنی عزت و عظمت کے لیے کئی سالوں بعد بولا تو ان کے بولنے کو جھوٹ کہا جا رہا ہے اور جب وہ خاموشی تھی تو کہا جا رہا تھا کہ وہ اپنے فائدے کے لیے خاموش رہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ فلم انڈسٹری کے تمام افراد انہیں اور آلوک ناتھ کو اچھی طرح جانتے ہیں، انہیں یہ بھی پتا ہے کہ وہ کس طرح کی شخصیت ہیں اور آلوک ناتھ کا کردار کیا ہے۔

ونتا نندا نے یہ بھی کہا ہے کہ انہیں آلوک ناتھ پر الزامات لگانے والی دیگر خواتین کا پتہ نہیں، ہوسکتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہی ہوں، تاہم انہیں اپنا معلوم ہے کہ وہ سچ کہ رہی ہیں۔

آلوک ناتھ تمام الزامات کو مسترد کر چکے ہیں—فوٹو: انڈیا ٹائمز


News Source

’عدالت کہ رہی ہے ریپ کے 20 سال بعد بولنے کا مطلب جھوٹ ہی ہوگا‘

شناختی عنوان:,

تبصرہ کریں