Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

’میں کرنی سینا اور اس کے کارکنان کو تباہ و برباد کردوں گی‘

بولی وڈ اداکارہ کنگنا رناوٹ اس وقت اپنی آنے والی فلم ’منی کارنیکا: دی کوئین آف جھانسی‘ کی تشہیر میں مصروف ہیں، تاہم فلم کی ریلیز سے قبل انہیں بھارتی انتہا پسند تنظیم کرنی سینا کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کنگنا رناوٹ اور انتہا پسند تنظیم کرنی سینا کے درمیان جھگڑے کا آغاز اداکارہ کی فلم اور نوازالدین صدیقی کی فلم ’ٹھاکرے‘ کے مدمقابل ریلیز ہونے کے باعث ہوا۔

دراصل یہ دونوں فلمیں رواں ماہ 25 جنوری کو سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جارہی ہیں۔

مزید پڑھیں: ’پدماوت‘ کے بعد کنگنا کی فلم ’منی کارنیکا‘ پر تنازع

اداکار نوازالدین صدیقی کی فلم’ٹھاکرے‘ کرنی سینا کے بانی بال ٹھاکرے کی زندگی پر مبنی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کرنی سینا اس فلم کے مدمقابل کسی دوسری فلم کو ریلیز ہونے نہیں دینا چاہتے۔

جبکہ ایسی بھی رپورٹس سامنے آئیں تھی کہ اداکاری کی فلم منی کارنیکا میں ایک سین کے دوران انہوں نے نامناسب لباس زیب تن کیا، جس سے رانی لکشمی بائی کی شخصیت کی غلط تصویر پیش کی جارہی ہے۔

خبریں ہیں کہ کرنی سینا کے کارکنان نے کنگنا رناوٹ کو کیریئر ختم کرنے اور ان کی فلم کے سیٹ جلانے کی دھمکیاں دی ہیں۔

جس کے بعد اب اداکارہ نے بھی انہیں منہ توڑ جواب دے دیا۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک ایونٹ کے دوران کنگنا رناوٹ سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ کرنی سینا سے معافی مانگنا چاہتی ہیں، جس پر اداکارہ نے غصے سے انکار کردیا۔

کنگنا رناوٹ کا کہنا تھا کہ ’میں کسی سے بھی معافی نہیں مانگوں گی، میں نے کبھی ان چیزوں کے لیے معافی نہیں مانگی جو میرے حساب سے غلط نہیں، میں ان کو یقین دلا چکی ہوں کہ میری فلم منی کارنیکا میں کچھ غلط نہیں دکھایا گیا، انہیں میرا اور میری فلم کا سپورٹ کرنا چاہیے، رانی لکشمی بائی بھارت کی بیٹی ہیں اور ہر کسی کو اس فلم کو پروموٹ کرنا چاہیے‘۔

اداکارہ نے مزید کہا کہ ’یہ بیکار کا مسئلہ میرے ساتھ کرنے کی ضرورت نہیں، میں یہاں کسی سے معافی مانگنے کے لیے نہیں آئی’۔

یہ بھی پڑھیں: ’ٹھاکرے‘ سے بچنے کیلئے عمران ہاشمی پیچھے ہٹ گئے

یاد رہے کہ کنگنا رناوٹ نے چند روز قبل ایک اور بیان بھی جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر تنظیم کے کارکنان انہیں مسلسل ہراساں کرتے رہے تو وہ کرنی سینا کو برباد کردیں گی، سنسر بورڈ نے ہماری فلم کو ریلیز کی اجازت دے دی ہے، اس کے باوجود یہ مجھے پریشان کررہے ہیں، میں بھی ایک راجپوت ہوں اور میں ایک ایک کو برباد کردوں گی‘۔

کنگنا کے اس بیان کے بعد مہاراشٹر کرنی سینا کے صدر اجے سنگھ سینگر کا کہنا تھا کہ ’اگر کنگنا نے مسلسل ہمارے کارکنان کو اس طرح ہراساں کیا تو ہم انہیں اس آزادی سے مہاراشٹر کی سڑکوں پر گھومنے نہیں دیں گے جبکہ ان کی فلم کے سیٹ کو بھی جلادیں گے‘۔

جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کنگنا کی فلم میں جھانسی کی رانی کی غلط تصویر پیش کی گئی تو ہندو معاشرہ انہیں معاف نہیں کرے گا‘۔

یاد رہے کہ کنگنا رناوٹ کی فلم ’منی کارنیکا: دی کوئین آف جھانسی‘ کی کہانی رانی لکشمی بائی کی زندگی اور جدوجہد پر مبنی ہے۔

دوسری جانب اداکار نوازالدین صدیقی کی فلم ’ٹھاکرے‘ کی کہانی باک ٹھاکرے کی زندگی پر بنائی ہے جنہوں نے کرنی سینا جماعت کی بنیاد رکھی۔

مزید پڑھیں: انتہاپسند ہندو رہنما بال ٹھاکرے کی نوازالدین صدیقی کے روپ میں واپسی

واضح رہے کہ 25 جنوری کو ان دونوں فلموں کے ساتھ عمران ہاشمی کی فلم ’وائے چیٹ انڈیا‘ بھی ریلیز ہونے جارہی تھی، تاہم عمران ہاشمی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی فلم اب 18 جنوری کو ریلیز کررہے ہیں۔

جبکہ اداکار نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ ایسا کرنے کے لیے انہیں کرنی سینا نے مجبور نہیں کیا۔

تاہم کنگنا رناوٹ نے اپنی فلم کی ریلیز تاریخ تبدیل کرنے سے انکار کردیا تھا۔


News Source

’میں کرنی سینا اور اس کے کارکنان کو تباہ و برباد کردوں گی‘

شناختی عنوان:,