Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

ناشتے میں اس غذا کا استعمال ذیابیطس کے مریضوں کیلئے فائدہ مند

ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں کے لیے ناشتے میں انڈے کا انتخاب بلڈ شوگر کو دن بھر کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ناشتہ دن کی وہ غذا ہے جو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ناقص انتخاب کے نتیجے میں بلڈشوگر لیول دن کے آغاز پر ہی اوپر جانے کا امکان ہوتا ہے، تاہم زیادہ پروٹین اور کم کاربوہائیڈریٹ والا ناشتہ دن بھر شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ذیابیطس کے مریض اگر سیریل، ٹوسٹ یا کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا ناشتے میں جزو بدن بنائیں تو بلڈشوگر لیول بڑھتا ہے جس سے ذیابیطس کی پیچیدگیوں کا خطرہ بھی وقت کے ساتھ بڑھنے لگتا ہے۔

محققین کے مطابق ناشتے میں انڈوں کا استعمال شوگر لیول کو بڑھنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ دن بھر میں گلیسمک کنٹرول بہتر کرتا ہے جبکہ دیگر پیچیدگیوں کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ناشتہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انتہائی اہم غذا ہے کیونکہ ناقص انتخاب دن میں میٹھی غذاﺅں کی اشتہا بڑھاتا ہے جس سے شوگر لیول مزید اوپر جاتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل آف دی امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل گزشتہ سال آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ہر ہفتے 12 انڈے کھانے کا سلسلہ اگر ایک سال تک بھی جاری رکھا جائے تو اس سے ذیابیطس ٹائپ ٹو اور ذیابیطس سے قبل کی علامات کے شکار افراد میں امراض قلب کا خطرہ نہیں بڑھتا۔

اس تحقیق کے آغاز پر رضاکاروں کے وزن کا جائزہ لینے کے ساتھ جانا گیا کہ وہ ہر ہفتے کتنے انڈے کھاتے ہیں اور 3 ماہ بعد نتیجہ نکالا گیا کہ محض 2 انڈے یا 12 انڈے کھانے سے خون کی شریانوں سے جڑے مسائل کے خطرہ نہیں بڑھتا۔

بعد ازاں رضاکاروں کو مزید 3 ماہ تک جسمانی وزن میں کمی لانے والی غذا کا استعمال کرایا گیا جس کے دوران انڈے کھانے کی تعداد کو بھی دیکھا گیا جبکہ مزید 6 ماہ تک ان افراد کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہر مرحلے میں کم یا زیادہ انڈے کھانے والے گروپس میں امراض قلب کے خطرات کے عناصر میں کوئی منفی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ذیابیطس کے شکار افراد کو انڈوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے مگر نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے امراض قلب کا خطرہ نہیں بڑھتا بلکہ یہ صحت بخش غذا کا ایک حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : وہ حیرت انگیز غذائیں جو ذیابیطس کا شکار بنادیں

اسی طرح فن لینڈ کی ایسٹرن فن لینڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ انڈوں میں اگرچہ قدرتی طور پر کولیسٹرول کی مقدار کافی ہوتی ہے مگر ان کا استعمال جان لیوا ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ لگ بھگ 40 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انڈے دنیا بھر میں پھیلتی اس وباءکی روک تھام کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق انڈوں میں شامل غذائی اجزاءجسم میں چینی یا شوگر کو جذب ہونے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

محققین کے مطابق جو لوگ ہفتے میں 4 بار انڈوں کا استعمال کرتے ہیں ان میں اس جان لیوا مرض کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں 38 فیصد کم ہوتا ہے جو اسے کھانا پسند نہیں کرتے۔


News Source

ناشتے میں اس غذا کا استعمال ذیابیطس کے مریضوں کیلئے فائدہ مند