Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

امیدوار کا پہلا تاثر ووٹر پر گہرا اثر چھوڑتا ہے

اس سال نومبر کے صدارتی انتخاب امریکی کانگریس کا کنٹرول تبدیل کر سکتےہیں۔ اب جب کہ امیدوار ووٹروں کا دل جیتنے کے مقصد سے اپنا پالیسی موقف پیش کر رہے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ ہماری فیصلہ سازی پر منطقی دلائل کے علاوہ اور بھی بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ایک نئی کتاب میں ماہر نفسیات الیکزینڈر ٹودوروف بتاتے ہیں کہ دنیا بھر کے مطالعاتی جائزے اولین تاثر کے حیران کن اثرات ظاہر کر رہے ہیں۔

پرنسٹن یونیورسٹی کے ماہر نفسیات پروفیسرالیکزینڈر ٹودوروف نے اپنی کتاب فیس ویلیو میں ایک تجربے کا ذکر کیا ہے، جس میں ریسرچرز نے اصل چہرے میں تبدیلی کر کے اسے زیادہ مقتدر یا زیادہ نسوانی بنا کر یش کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان تبدیلیوں نے تجرباتی گروپ کی رائے پر اثر ڈالا۔

پروفیسر کے مطابق دائیں بازو کے ووٹروں نے اس سیاستدان کے پیغام کو اس صورت میں زیادہ قبول کیا جب اسے ایک مقتدر چہرے کے ساتھ پیش کیا گیا اور لبرل ووٹرز اس پیغام سے زیادہ متاثر ہوئے جب اسی پیغام کو اس تصویر کے ساتھ پیش کیا جس میں لیڈر کے چہرے کو زیادہ نسوانی بنا کر پیش کیا گیا۔

ٹوڈوڑوف کی کتاب، فیس ویلیو میں یہ ایک مثال پیش کی گئی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لاشعوری طور پر جو بھی رائے قائم کرتے ہیں اس کا انحصار صرف اور صرف ظاہری شکل و صورت پر ہوتا ہے اور ان آراء کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر ٹوڈوروف کو معلوم ہوا کہ وہ صرف ایک ٹیسٹ سے بہت سی نسلوں کے لوگوں کے بارے میں یہ پیش گوئی کر سکتے ہیں کہ وہ کس امیدوار کو ووٹ دیں گے۔ انہوں نے اپنے تجربے میں شامل ایک گروپ کو ایک اصلی انتخابی مہم کے دو حریفوں کی فوٹوز دکھائیں اور ان سے پوچھا کہ ان میں سے کون زیادہ اہل امیدوار ہے تو جس امیدوار کے بارے میں یہ رائے سامنے آئی کہ وہ زیادہ اہل ہے، اس کے انتخاب جیتنے کی شرح ستر فیصد زیادہ رہی۔

وہ کہتے ہیں کہ میں واقعی بہت حیران ہوا کیوں کہ جن نسلوں کے لوگوں کو تجربے میں شامل کیا گیا تھا وہ درحقیقت بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ انتخابی مہم پر بہت پیسہ خرچ ہوتا ہے اور بہت سے دوسرے عوامل بھی ہوتے ہیں۔ پھر بھی ہم انتخابات کے نتائج کی ایک بڑی شرح فیصد کے ساتھ پیش گوئی کر سکتے تھے۔

ٹوڈوروف کہتے ہیں کہ یہ اثر ان ووٹروں پر سب سے زیادہ ہوتا ہے جو سیاسی أمور کے بارے میں بہت کم معلومات رکھتے ہیں۔

مثال کے طور پر بہت سے جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ اپنی شکل و صورت اور حلیے سے زیادہ قابل اعتماد دکھائی دیتے ہیں وہ زیادہ کم شرح سود پر قرض حاصل کرتے ہیں۔ مجرم اپنے ظاہری حلیوں کی بنیاد پر زیادہ یا کم سخت سزائیں پاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ جن مجرموں کو موت کی سزائیں دی گئیں وہ عام لوگوں کی رائے کے مطابق زیادہ نا قابل اعتماد دکھائی دیتے تھے۔ اور یہ وہ انتہائی مثال ہے جہاں ظاہری حلیہ یا پہلا تاثر ایک انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ٹوڈوروف کہتے ہیں کہ اگرچہ پہلا تاثر اکثر غلط ہوتا ہے تاہم وہ فوراً اور خود بخود بن جاتا ہے۔

ان کے بقول لوگوں کو نئے سرے سے یہ سکھانا بہت مشکل ہے کہ وہ کسی کے بارے میں پہلے تاثر کو حتمی نہ بنائیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ آپ زیادہ سے زیادہ انہیں اس بارے میں آگاہ کر سکتے ہیں اور مختلف قسم کی معلومات کا استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ کہنا تو آسان ہے لیکن کرنا بہت مشکل ہے۔

ووٹروں کو امیدواروں کے بارے میں جاننے کے لیے مزید کوشش درکار ہوتی ہے۔ لیکن باخبر ووٹرز کو اولین تاثر سے بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔


News Source

امیدوار کا پہلا تاثر ووٹر پر گہرا اثر چھوڑتا ہے

تبصرہ کریں