Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

ٹیکساس: مذہب کی بنا پر شاہد شفیع کو عہدے سے ہٹانے کی دھمکی، ناقدین کی نکتہ چینی

ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شاہد شفیع ٹورنٹ کاؤنٹی کے نائب صدر ہیں، جنھیں، ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق، ریپبلیکن پارٹی کا ایک دھڑا، جس کی قیادت ڈوری اوبرائن کرتی ہیں، مبینہ طور پر اس لیے ہٹانا چاہتا ہے کہ وہ ’’مسلمان ہیں‘‘۔

کاؤنٹی پرسینکٹ کی سربراہ، ڈوری اوبرائن نے ایک فیس بک پوسٹ میں کہا ہے کہ اُن کے پاس ووٹوں کی خاصی تعداد ہے، ’’اور کوئی شک نہیں کہ شفیع کو عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے‘‘۔

’یو ایس اے ٹوڈے‘ کی ایک خبر کے مطابق، ڈاکٹر شفیع کی پارٹی سے وفاداری پر شک کا اظہار کرتے ہوئے، اوبرائن نے کہا ہے کہ ’’یہ بات واضح نہیں آیا وہ ریپبلیکن یا ڈیموکریٹ پارٹی کی پالیسیوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں‘‘۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’چونکہ وہ اسلامی عقائد کے پابند ہیں، اس لیے میں نہیں سمجھتی کہ وہ نائب صدر رہنے اور ٹورنٹ کاؤنٹی کے ریپبلیکنز کے نمائندے کے طور پر کام کرنے کے اہل ہیں‘‘۔

روزنامہ ’ٹیکساس ٹربیوں‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر شفیع 1990ء میں پاکستان سے یہاں آکر آباد ہوئے، اور سال 2009 میں امریکہ کے شہری بنے۔

ادھر، ٹیکساس ریپبلیکن پارٹی کے کئی معروف لیڈروں نے شفیع کی حمایت میں بیان دیا ہے، جن میں سینیٹر ٹیڈ کروز، ٹیکساس لینڈ کمشنر جارج پی بش اور ایوان نمائندگان کے سابق اسپیکر جو اسٹروس شامل ہیں۔

ڈاکٹر شفیع کو چھ ماہ قبل چیرمین ڈیرل ایسٹن نے نائب صدر مقرر کیا تھا۔ اخبار ’اسٹار ٹیلی گراف‘ کی خبر کے مطابق، ایسٹن نے کہا ہے کہ ’’یہ ایک انتہائی شرمناک امر ہے کہ ایسا سوچا بھی جا سکتا ہے۔ یہ پریشان کُن بات ہے‘‘۔

کاؤنٹی پرسینکٹ چیر کو لکھے گئے ایک حالیہ مراسلے میں، ایسٹن نے کہا ہےکہ یہ بے انصافی ہے کہ ایک مسلمان جو آٹھ سال سے پارٹی رکنیت رکھتا ہو، اس کے عطیات اور رضاکارانہ کام کو تو تسلیم کیا جائے لیکن ’’اچانک اُن کے مذہب کو نا مناسب قرار دے کر یہ کہا جائے کہ وہ پارٹی میں کسی عہدے پر تقرری کے لیے غیر موزوں ہے‘‘۔

ادھر ایک کھلے خط میں، شفیع نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ’’مسلمانوں کے خلاف زیادہ تر نفرت دہشت گردی کے خوف کے نتیجے میں ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’حقائق یہ ہیں کہ میں کبھی بھی اخوان المسلمون یا کسی اور دہشت گرد تنظیم کے ساتھ منسلک رہا ہوں؛ ناہی میرا تعلق’ کونسل آن امریکن اسلامک رلیشنز‘ سے ہے‘‘۔

بقول اُن کے ’’میں اس خیال کا ہوں کہ ہمارے ملک کے قوانین اور ہمارا آئین اور ضابطے ہمارے منتخب قانون سازوں کے منظور کردہ ہیں، میں نے کبھی کسی طور پر شریعت کے قانون کی بات نہیں کی۔ میں امریکی عدالتوں میں امریکہ کےقوانین کی مکمل حمایت کرتا ہوں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں امریکی اور ریپبلیکن ہوں‘‘۔

شفیع نے ’واشنگٹن پوسٹ‘ کو بتایا کہ پہلی بار ایسا نہیں ہوا کہ بدقسمتی سے میرے سیاسی مخالفین نے میرے مذہب کو میرے خلاف استعمال کیا ہے۔‘‘

اخبار ’اسٹار ٹیلی گرام‘ کے مطابق، اوبرائن نے کہا ہے کہ ’’شفیع کو ہٹانے کی مہم کا اُن کے مذہب سے کوئی واسطہ نہیں۔ لیکن یہ کہ آیا وہ اسلام کے حامی ہیں یا پھر اُن کا تعلق کسی دہشت گرد گروپ سے ہے‘‘۔

ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے بش خاندان کے ایک فرد، جارج پی بش نے ٹورنٹ کاؤنٹی کے ریپبلیکنز پر زور دیا ہے کہ وہ ’’پارٹی کے ایک محنتی شخص کو مذہبی عقائد کی بنا پر ہٹانے کی کوششوں سے باز رہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم ریپبلیکن پارٹی کو وسعت نظری دیں، اور اگر ہمیں ٹیکساس میں اپنی پارٹی کے حامیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے تو ہمیں اپنے ہی لوگوں کو نکالنے سے باز رہنا ہوگا‘‘۔

شاہد شفیع پاکستانی نژاد امریکی ہیں۔ وہ ’ٹروما سرجن‘ اور ساؤتھ لیک سٹی کونسل کے رکن ہیں۔

ادھر، ہیوسٹن سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ پارٹی کے سرکردہ رہنما، طاہر جاوید نے کہا ہے کہ مذہب کو بنیاد بنا کر کسی کی پارٹی کے لیے وفاداری پر شک کرنا، غیر اخلاقی اور غیر امریکی رویہ ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے، طاہر جاوید نے کہا کہ ’پرسینکٹ چیئر‘ ایک سرگرم سیاسی عہدہ ہوتا ہے، جہاں مقامی سطح پر اکثر اس قسم کی شکایات پیدا ہوتی ہیں، ’’لیکن یہ کبھی کامیاب نہیں ہوتیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ مذہبی امتیاز غیر آئینی اقدام ہوتا ہے، جس کی کوئی سیاسی جماعت بھی حمایت نہیں کرتی۔

ساتھ ہی، بقول طاہر جاوید، ’’افریقی امریکن ہوں یا مسلمان، ان کی زیادہ تعداد ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھتی ہے‘‘۔

الی نوائے سے ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سرگرم رہنما، طلعت رشید نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’’وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مذہب کی بنیاد پر پارٹی کے کسی رکن کو ہٹایا جاسکتا ہے; جب کہ عین ممکن ہے کہ کسی ضابطے کی پابندی نہ کرنے کی وجہ ہوگی‘‘۔

ساتھ ہی، طلعت رشید کا کہنا تھا کہ ’’سیاست سے وابستہ پاکستانی نژاد حضرات کو چاہیئے کہ وہ کھل کر پارٹی کی حمایت کیا کریں، یہ نہیں ہو سکتا کہ ہوں ایک جماعت میں، لیکن میانہ روی کی بات یا دعویٰ کریں‘‘۔


News Source

ٹیکساس: مذہب کی بنا پر شاہد شفیع کو عہدے سے ہٹانے کی دھمکی، ناقدین کی نکتہ چینی