Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

بریگزٹ: اب کیا ہو سکتا ہے؟


بریگزٹتصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

بریگزٹ پر ریفرینڈم کے بعد منگل کو اس معاملے پر اہم ترین دن ہے

برطانوی دارالعوام میں ارکانِ پارلیمان نے وزیراعظم ٹریزا مے کے بریگزٹ معاہدے کو بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا ہے۔ لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن نے حکومت کی اس شکست کے بعد تحریکِ عدم اعتماد بھی پیش کر دی ہے۔ سو اب آگے کیا ہو گا؟

برطانیہ میں فکسڈ ٹرمپ پارلیمنٹس ایکٹ 2011 کے تحت عام انتخابات پانچ برس بعد ہی منعقد ہونا ہوتے ہیں اور شیڈول کے مطابق اگلے عام انتخابات کا سال 2022 ہے۔

تاہم اگر حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر 14 دن کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

بریگزٹ معاہدہ مسترد، وزیراعظم کےخلاف تحریکِ عدم اعتماد

بریگزٹ میں کیا ہو رہا ہے، کچھ تو سمجھاؤ!

بریگزٹ یا نیا وزیراعظم؟

اگر اس عرصے میں موجودہ حکومت جو کہ ’ممکنہ طور پر ایک مختلف وزیراعظم‘ کے ساتھ کنزرویٹو پارٹی ہی حکومت ہو سکتی ہے یا مختلف جماعتوں کے اتحاد پر مبنی کوئی متبادل حکومت دوبارہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی تو قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کر دیا جائے گا۔

یہ انتخابات اس اعلان کے 25 دن سے پہلے ممکن نہیں۔

اگر وزیراعظم مے کی حکومت تحریکِ عدم اعتماد کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو وہ اسی یا تبدیل شدہ معاہدے پر ایک مرتبہ پھر ووٹ کروا سکتی ہے۔ اس کے پاس کچھ دیگر آپشنز بھی ہیں۔

معاہدہ نہ ہو

اگر کچھ نہیں ہوتا تو اس صورتحال میں برطانیہ بغیر کسی معاہدے کے یورپی اتحاد سے نکل جائے گا۔

اس سلسلے میں قانون موجود ہے جس کے مطابق برطانیہ 29 مارچ کی رات 11 بجے کے بعد یورپی یونین کا رکن نہیں رہے گا۔

تاہم مبصرین کے نزدیک ایسی صورتحال پہاڑ سے نیچے گرنے کے مترادف ہو گی جس میں راتوں رات قانونی تارکین وطن پر شرائط نافذ ہوں گی جبکہ دونوں شراکت داروں کی تجارت عالمی تجارتی تنظیم ڈبلیو ٹی او کے تحت ہو گی۔

حکومت ممکنہ طور پر نو ڈیل بریگزٹ کے حوالے سے کچھ قانون سازی کر سکتی ہے لیکن یہ لازم نہیں ہے۔

نو ڈیل بریگزٹ کے امکان سے ناخوش ارکانِ پارلیمان کی وجہ سے آٹھ جنوری کو حکومت کو پارلیمان میں قانون سازی کی ایک کوشش کے دوران شکست بھی ہوئی تھی۔

معاہدے پر دوبارہ بات چیت

حکومت ایک نئے بریگزٹ معاہدے پر بات چیت کی پیشکش بھی کر سکتی ہے تاہم اس کا مطلب موجودہ معاہدے میں کچھ تبدیلیاں اور پھر اس پر ووٹنگ نہیں ہو گا۔

اس کے لیے حکومت کو تمام معاملات پر دوبارہ مذاکرات کرنا ہوں گے جن میں وقت لگے گا اور ممکنہ طور پر بریگزٹ کو ملتوی کرنے کے لیے آرٹیکل 50 میں توسیع بھی کرنا ہو گی۔

اس صورتحال میں دو کلیدی اقدامات ضروری ہوں گے۔ پہلا یہ کہ برطانیہ کو یورپی یونین سے ڈیڈ لائن میں توسیع کے لیے درخواست کرنا ہو گی جو کہ اسی صورت میں قبول کی جائے گی اگر یورپی یونین کونسل کے تمام رکن ممالک اس پر متفق ہوں۔

دوسرا یہ حکومت کو یورپی یونین سے انخلا کے قانون میں ’ایگزٹ ڈے‘ کی تعریف تبدیل کرنے کے لیے ترمیم کرنا ہو گی۔ ارکانِ پارلیمان کو اس معاملے پر ووٹنگ کا حق مل سکتا ہے۔

اگر یورپی یونین دوبارہ مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوتی تو حکومت کے پاس دیگر آپشنز کے استعمال کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو گا۔

مزید بات چیت

حکومت یہ تجویز دے سکتی ہے کہ اس معاملے پر مزید بات چیت کی جائے لیکن اس کے لیے مزید وقت درکار ہو گا تو اس اس صورتحال میں دو راستے ہو سکتے ہیں

پہلا یہ کہ برطانوی حکومت یورپی اتحاد کو کہہ سکتی ہے کہ اتحاد سے نکلنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع کی جائے لیکن اس آپشن پر یورپی اتحاد میں شامل تمام ممالک کا اتفاق رائے ہونا ضروری ہے۔

دوسرا یہ کہ حکومت آرٹیکل 50 کو منسوخ کر سکتی ہے جو کہ یورپی اتحاد سے نکلنے کے عمل کو شروع کرنے کی قانونی شق ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ یورپی اتحاد آیا دوبارہ سے بات چیت میں شامل ہونا چاہتا ہے کہ نہیں اور اس کے علاوہ اس سے دیگر بہت سے سیاسی مسائل شروع ہو سکتے ہیں۔

ایک اور ریفرینڈم

حکومت اس کے بجائے ایک اور ریفرینڈم کا بھی انتخاب کر سکتی ہے لیکن بات دوبارہ وہی ہے کہ اس میں بھی وقت لگے گا کیونکہ اس کے لیے نئی قانون سازی کرنا پڑے گی اور انتخابی کمیشن کو سوچ و بچار اور فیصلہ کرنے کے لیے کچھ وقت دینا ہو گا۔

اور دیگر متبادل راستوں میں یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کے لیے آرٹیکل 50 میں ترمیم کرنا پڑے۔

اور یہ ریفرینڈم خود بخود ہو بھی نہیں سکتا۔ ریفرینڈم کے بارے میں شرائط ایک قانون میں وضع کی گئی ہیں جسے پولیٹکل پارٹیز، الیکشنز اور ریفرینڈمز ایکٹ 2000 کہا جاتا ہے۔

ریفرینڈم کے لیے نئی قانون سازی کرنا ہو گی اور اس کے قواعد و ضوابط بھی طے کرنا ہوں گے۔

یہ معاملہ جلدی سے نمٹایا نہیں جا سکتا کیونکہ الیکشن کمیشن اس پر غور کرے گا اور ریفرینڈم میں پوچھے جانے والے سوال پر اپنی رائے بھی دے گا اور پھر وہ سوال قانون کا حصہ بنے گا۔

جب یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو بھی ریفرینڈم فوراً نہیں ہو سکتا۔ یونیورسٹی کالج لندن کے آئینی یونٹ کے مطابق اس سارے عمل میں 22 ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے۔

اگر سب کچھ بہت تیزی سے بھی کیا جائے تب بھی بات مارچ سے آگے جانا لازمی ہے۔

عام انتخابات

ہو سکتا ہے کہ وزیراعظم ٹریزا مے یہ طے کریں کہ ڈیڈ لاک سے نکلنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وقت سے پہلے عام انتخابات کا انعقاد کرا دیا جائے تاکہ اپنے معاہدے کے لیے سیاسی مینڈیٹ حاصل کر سکیں۔

اس کے لیے دو تہائی ارکان پارلیمان کی حمایت درکار ہو گی اور اس کے لیے درکار وقت کی وجہ سے یورپی یونین کو اتحاد سے نکلنے کے لیے برطانیہ کو دی گئی حمتی مہلت میں توسیع کرنا ہو گی۔

عام انتخابات 25 دن سے پہلے ممکن نہیں لیکن اصل تاریخ کا تعین وزیراعظم ہی کریں گی۔

لیکن یہ واحد راستہ نہیں کہ عام انتخابات ہی ہوں

دیگر امکانات

یورپی عدالتِ انصاف کہہ چکی ہے کہ برطانیہ اپنے طور ہر بریگزٹ کا عمل منسوخ کر سکتا ہے اور اس کے لیے اسے یورپی یونین کے دیگر ارکان کی منظوری کی ضرورت نہیں۔

تاہم اس سلسلے میں موجودہ حکومت کا عزم دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسا ایک اور ریفرینڈم یا حکومت کی تبدیلی کے نتیجے میں ہی ممکن ہو سکے گا۔

جب ٹریزا مے نے کنزرویٹو پارٹی کی قیادت کے لیے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تھا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک برس تک ان کی قیادت کو چیلینج نہیں کیا سکتا لیکن اگر وہ اس معاہدے کو منظور نہیں کروا پاتیں اور اپنا راستہ تبدیل کرنے پر بھی تیار نہیں ہوتیں تو وہ خود مستعفی ہو سکتی ہیں۔

اس کا مطلب کنزرویٹو پارٹی میں قیادت کے لیے دوڑ کا آغاز ہو گا جس کا نتیجہ ایک نئے وزیراعظم کی شکل میں نکلے گا۔

تاہم برطانیہ میں زمامِ اقتدار جس کے بھی ہاتھ میں ہو بریگزٹ کے معاملے میں آس کے پاس وہی آپشن ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔


News Source

بریگزٹ: اب کیا ہو سکتا ہے؟