Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

قطر: امریکا اور طالبان کے درمیان مذکرات بحال

اسلام آباد: امریکا اور طالبان کے درمیان افغانستان میں جاری تنازع کے سیاسی حل کے لیے ہونے والے مذاکرات افغان حکومت کی شمولیت کے معاملے پر تعطل کا شکار ہونے کے بعد قطر کے دارالحکومت دوحا میں دوبارہ بحال ہوگئے۔

اس سلسلے میں طالبان کے جاری کردہ بیان میں ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’امریکا کی جانب سے افغانستان میں جارحیت کے خاتمے اور افغانستان کو مستقبل میں دیگر ممالک کے خلاف استعمال نہ کرنے پر رضامندی کے اظہار کے بعد امریکی نمائندگان کے ساتھ آج دوحا میں مذاکرات ہوئے‘۔

مذاکرات کا یہ سلسلہ آج (منگل) کے روز بھی جاری رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا، افغان طالبان مذاکرات پر مایوسی کے بادل منڈلانے لگے

خیال رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان آخری مرتبہ مذاکرات دسمبر 2018 میں ابو ظہبی میں ہوئے تھے جس کا انعقاد پاکستان کی کوششوں سے ممکن ہوا تھا جبکہ سعودی اور متحدہ عرب امارات کے مبصرین شریک ہوئے تھے۔

گزشتہ اجلاس میں اتفاق کیا گیا تھا کہ مذکرات کا سلسلہ جاری رہے گا لیکن طالبان کی جانب سے افغان حکومت کو بات چیت میں شامل کرنے سے انکار پر مذاکرات موقوف ہوگئے تھے اس کے علاوہ طالبان امریکا سے فوج واپس بلانے اور طالبان رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ بھی کررہے تھے۔

خیال رہے کہ حالیہ ملاقات کے بعد طالبان نے دعویٰ کیا کہ امریکا فوجیوں کے انخلا کو حتمی شکل دینے کے لیے اس معاملے پر بات چیت کے لیے رضامند ہوگیا ہے لیکن ان کے اس دعوے پر امریکا کا کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

مزید پڑھیں: امریکا کی فوجی انخلا کی تردید، طالبان اور واشنگٹن مؤقف پر ڈٹ گئے

تاہم یہ بات مدنظر رہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے امریکا کے موقف میں لچک آنے کا اشارہ ضرور دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں واضح کردوں امریکا امن چاہتا ہے، اور امن کے حصول کے لیے ہم افغان فریقین کے تمام جائز خدشات کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہیں جس سے افغانستان کی آزادی و سلامتی کو یقینی بنایا جاسکے اور لڑائی کا خاتمہ کیا جاسکے۔

انہوں نے یہ تبصرہ اپنے اس بیان کی وضاحت میں کیا جس میں انہوں نے امن مذاکرات میں شمولیت کے ساتھ فوجی دباؤ برقرار رکھنے کے بارے میں گفتگو کی تھی جس سے تاثر یہ مل رہا تھا کہ امریکا مذاکرات کے ساتھ لڑائی جاری رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا افغانستان سے نکل جائے یا سوویت یونین کی طرح شکست کا سامنا کرے، طالبان

خیال رہے کہ زلمے خلیل زاد نے اپنے 5 روزہ دورے میں خصوصی طور پاکستان کا دورہ کیا تھا جس کے دوران حالیہ مذکرات میں آنے والے ڈیڈلاک کو دور کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں۔

امریکی نمائندہ خصوصی اسلام آباد سے واپسی پر خاصے پر امید نظر آئے اور ان کا کہنا تھا کہ ’ہم صحیح سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور پاکستان کی جانب سے ٹھوس نتائج کے لیے مزید اقدامات کی توقع ہے‘۔


یہ خبر 22 جنوری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔


News Source

قطر: امریکا اور طالبان کے درمیان مذکرات بحال

تبصرہ کریں