Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

جارج اورول کی اورنج مارملیڈ میں شکر اتنی زیادہ کیوں؟

جارج اورول

Image caption

اینیمل فارم کے لکھاری سنہ 1950 میں انتقال کر گئے تھے۔

لگتا ہے دنیا کے بہترین ادیبوں کو بھی اشاعتی اداروں سے انکار سننا پڑتا ہے، لیکن ایسے تمام ادیب اتنے خوش قسمت بھی نہیں ہوتے کہ ادارہ ستر برس بعد ان کا مضمون شائع نہ کرنے پر معذرت کر لے۔

لیکن برطانیہ میں ایک ایسا منفرد واقعہ ہوا ہے جس میں برٹش کونسل نے مشہورِ زمانہ ادیب جارج اورول سے ان کے انتقال کے سات عشروں بعد معذرت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

’بچے میٹھے مشروبات سے منہ موڑ رہے ہیں‘

شوگر ٹیسٹنگ کا آلہ جو زندگیاں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے

‘انیمل فارم’ اور ‘1984’ جیسے ادبی شہ پاروں کے مصنف نے یہ مضمون سنہ 1946 میں لکھا تھا اور اس کا عنوان تھا ‘انگریزی پکوانوں کا دفاع’، لیکن برٹش کونسل کے خیال میں اس مضمون کو دیگر ممالک کے قارئین کے لیے شائع کرنا کوئی ’عقل مندانہ’ کام نہیں تھا۔

یاد رہے کہ اس وقت برطانیہ کا نو آبادیاتی نظام اپنے عروج پر تھا اور برصغیر سمیت دنیا کے کئی ممالک برطانیہ میں برطانیہ کا راج تھا۔

گرم مشروبات

جارج اورول کے مضمون کے بارے میں برٹش کونسل کے اس وقت کے مدیر نے تسلیم کیا تھا کہ مضمون ‘بہترین’ ہے، لیکن مدیر نےاس پر ‘ایک دو معمولی اعتراض’ کیے تھے جن میں یہ تنقید بھی شامل تھی کہ جارج اورول نے سنگتروں سے مارملیڈ بنانے کی جو ترکیب لکھی اس میں ‘شکر اور پانی کی مقدار بہت زیادہ’ بتائی گئی تھی۔

اس مضمون میں برطانوی خوراک کے حوالے سے جارج اورول کا کہنا تھا کہ یہ’سادہ، لیکن معدے پر بھاری، اور شاید قدرے غیر مہذب’ ہوتی ہے اور برطانیہ میں ‘دن کے کسی بھی وقت گرم مشروبات کو قبول کیا جاتا ہے۔’

برٹش کونسل کے موجودہ سینئر تجزیہ کار ایلسڈئر ڈونلڈسن کہتے ہیں کہ ‘ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ان دنوں میں ہماری تنظیم مزاح سے قدرے عاری ہوتی تھی اور کسی قسم کا خطرہ مول نہیں لیتی تھی۔ (اسی لیے) برٹش کونسل نے پکوانوں کے بارے میں یہ مضمون شائع نہیں کیا حالانکہ مضمون میں جنگ عظیم میں خوراک کی راشننگ کے تباہ کن اثرات کا ذکر بھی کیا گیا تھا۔

ایلسڈئر ڈونلڈسن کے بقول ‘اب ستر برس گزر جانے کے بعد برٹش کونسل اس بات پر خوش ہے کہ اس نے بیسویں صدی کے سب سے بڑے ادیب کے ساتھ جو بے رخی برتی تھی اس پر معذرت کر لی ہے اور نہ صرف جورج ارورول کا مضمون اپنی اصلی حالت میں شائع کر دیا ہے بلکہ اس کے ساتھ وہ خط بھی شائع کر دیا ہے جس میں مضمون کو بدقسمتی سے متسرد کر دیا گیا تھا۔’

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

جارج اورول کی اورنج مارملیڈ بنانے کی ترکیب

سال کے یہ دن اورنج مارملیڈ بنانے کے لیے بہترین ہوتے ہیں کیونکہ چند ہفتوں کے مختصر وقت کے لیے آپ کو تازہ اور تُرش سنگترے دستیاب ہوتے ہیں۔

یہ نہایت تُرش قسم کے سنگترے میٹھے سنگتروں سے بہت مختلف ہوتے ہیں اور مارملیڈ کے مخصوص کھٹے میٹے ذائقے کا راز یہی ترش سنگترے ہوتے ہیں۔

آپ بھی جورج اورول کی اورنج مارملیڈ کی ترکیب پڑھیے، لیکن یاد رہے کہ برٹش کونسل کے مدیر نے کہا تھا کہ اس ترکیب میں ‘چینی اور پانی کی مقدار بہت زیادہ’ بتائی گئی ہے۔

اجزائے ترکیبی

ترش سنگترے دو عدد

میٹھے سنگترے دو عدد

لیموں دو عدد

شکر آٹھ پاؤنڈ (تین اعشارہ چھ کلوگرام)

پانی ساڑھے چار لیٹر

بنانے کا طریقہ

پھلوں کو دھو کر خشک کر لیں۔ ان کے دو دو ٹکڑے کر کے جُوس نچوڑ لیں۔ چھلکوں سے کچھ گُودا نکال دیں اور پھر چلھکوں کے باریک باریک ٹکڑے کر لیں اور انھہیں ململ کے کپڑے میں باندھ لیں۔

جوس، گودا اور سنگترے کے باریک ٹکڑے پانی میں ڈال کر 48 گھنٹوں کے لیے چھوڑ دیں۔ اس کے بعد ایک بڑا پتیلا لیکر پانی میں ملی ہوئی ان تمام چیزوں کو ڈیڑھ گھنٹے تک پکائیں، تاکہ چھلکے نرم ہو جائیں۔ رات بھر کے لیے اس کو چھوڑ دیں اور پھر اگلی صبح اس میں شکر ڈال کر اُبال لیں۔

اس کو اس وقت تک ابالتے رہیں جب تک آپ اس میں سے کچھ مقدار نکال کر ایک ٹھنڈی پلیٹ پر رکھیں اور وہ جیلی جیسی شکل نہ اختیار کر لے۔ جب یہ ہونے لگے تو اس تمام مواد کو شیشے کے ان مرتبانوں میں ڈال لیں جنھیں آپ نے پہلے گرم کیا ہو۔

لیجیے جارج اورول کا کھٹا میٹھا اورنج مارملیڈ تیار ہے۔


News Source

جارج اورول کی اورنج مارملیڈ میں شکر اتنی زیادہ کیوں؟