Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں نے چکن بریانی کی سیکڑوں دکانیں بند کرادیں

جو دکان بند نہیں کرے گا اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا، شیوسینا۔ فوٹو: انٹرنیٹ

جو دکان بند نہیں کرے گا اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا، شیوسینا۔ فوٹو: انٹرنیٹ

نئی دہلی: بھارتی شہر گڑگاؤں میں انتہا پسند ہندوؤں نے چکن سمیت گوشت کی سیکڑوں دکانیں بند کرادیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست ہریانہ کے شہر گڑگاؤں (گروگرام) میں انتہا پسند ہندو تنظیم شیوسینا نے اپنے مذہبی تہوار کے موقع پر دھمکیاں دے کر شہر بھر کی گوشت کی پانچ سو سے زائد دکانیں بند کرادیں یہاں تک کہ مرغی بیچنے والوں کو بھی نہیں بخشا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کے تشدد سے تنگ ہزاروں دلت ہندوؤں نے مذہب چھوڑدیا

شیوسینا گڑگاؤں کے جنرل سیکرٹری ریتو راج نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے نوراتری تہوار کے موقع تمام چکن اور گوشت کی دکانوں کو 9 روز کے لیے بند کرنے کا نوٹس دے دیا ہے جس کے نتیجے میں انہوں نے خود ہی دکانیں بند کردی ہیں اور جو دکان بند نہیں کرے گا اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہندو انتہا پسندوں نے گوشت سے بنے کھانے فروخت کرنے والے ریسٹورینٹس اور ہوٹلز بھی بند کرادیے ہیں ۔ گڑگاؤں میں زعفرانی رنگ کے لباس میں ملبوس ہندوؤں کے مسلح جتھے گشت کررہے ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں کو اپنی جان کا خطرہ بھی لاحق ہوگیا اور انہوں نے تہوار کے دوران اپنی نقل و حرکت کو محدود کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں گائے کے پجاریوں کے ہاتھوں ایک اور مسلم نوجوان قتل

چکن بریانی فروخت کرنے والے تاسیم نے کہا کہ ہمیں اپنی دو دکانیں بند کرنی پڑیں کیونکہ ہمیں توڑپھوڑ اور مارپیٹ کا خطرہ ہے۔ ایک اور دکاندار نے کہا کہ مذہبی جذبات کا احترام اپنی جگہ لیکن یہ ہمارا ذریعہ معاش ہے، انہوں نے 10 روز کے لیے ہمیں کام کاج بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔


News Source

بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں نے چکن بریانی کی سیکڑوں دکانیں بند کرادیں