Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

جامعہ کراچی میں دہشت گردوں کا کوئی ونگ نہیں چل رہا: وائس چانسلر

ایک پریس کانفرنس کے دوران وی سی ڈاکٹر محمد اجمل نے واضح کیا کہ ایسا کوئی اقدام نہیں کرنا چاہتے جوطالب علموں اور والدین کی پریشانی میں اضافے کا سبب بنے جبکہ تاحال داخلے کے خواہشمند طلبہ کی جانب سے متعلقہ پولیس تھانوں سے حاصل کردہ ’کلیئرنس سرٹیفکیٹ‘ پیش کرنے کا بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

جامعہ کراچی کی سیکیورٹی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘سیکیورٹی دینا ہمارا کام نہیں ہے، یہ سیکیورٹی اداروں کا کام ہے اور مجھے یقین ہے وہ صورتحال کو مانیٹر کررہے ہیں’۔

ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کراتے ہوئے ڈاکٹر محمد اجمل نے سوال کیا کہ ‘سیکیورٹی ادارے بتائیں کہ ایسا کیا کیا جاسکتا ہے جس سے سیکیورٹی خدشات کم ہوسکیں؟’

یہ خبر بھی پڑھیں: طلبہ میں مبینہ انتہا پسندی: جامعہ کراچی کا سیکیورٹی اداروں سے مستقل رابطے کا فیصلہ

میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے وی سی جامعہ کراچی نے کہا کہ ’یونیورسٹی کوئی الگ جزیرہ نہیں، یہاں کوئی دہشت گردوں کا ونگ نہیں چل رہا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سارے طالب علم غلط کام نہیں کرتے، ہمیں اپنے طالب علموں پر فخر ہے اور ہم انتہائی بری حالت میں بھی اچھا کام کررہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ کراچی کے طالب علم کی گرفتاری کی معلومات انہیں کسی حساس ادارے یا ایجنسی نے فراہم نہیں کی، ان کی معلومات کا ذریعہ میڈیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردی کا مسئلہ پورے پاکستان میں ہے لیکن جامعہ کراچی میں کوئی چھوٹا سا واقعہ بھی ہو تو اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، صرف خامیوں کو سامنے لائیں گے تو جامعہ کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا‘۔

فنڈز کی کمی اور خسارے پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد اجمل نے کہا کہ ’اگر ہمیں ریسرچ کرنے کے پیسے نہیں دیئے جائیں گے اور سپورٹ نہیں ہوگی تو طالب علموں میں دوسرے رجحانات پیدا ہوں گے‘۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ ’20 سے 25 سال تک یونیورسٹی میں سرمایہ کاری کی جائے، پھر دیکھیں ہم کہاں پہنچتے ہیں اور ساری دنیا ہماری طرف دیکھے گی‘۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: کنیز فاطمہ سوسائٹی میں پولیس پر حملہ، 1 اہلکار جاں بحق دوسرا زخمی

جامعہ میں طلبہ یونین کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ ’میرا ذاتی خیال ہے کہ طلبہ یونین بحال ہونی چاہیے، میں نے چیئرمین سینیٹ کو بھی خط لکھ کر آگاہ کیا ہے کہ مجھے طلبہ یونین کی بحال پر کوئی اعتراض نہیں‘۔

یاد رہے کہ پولیس کی جانب سے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن پر حملے کے مبینہ ماسٹرمائنڈ عبدالکریم سروش صدیقی سے متعلق دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ جامعہ کراچی میں اپلائڈ فزکس کا طالب علم رہا تھا۔

عبدالکریم سروش صدیقی کراچی کے علاقے گلزار ہجری میں پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے سرچ آپریشن کے دوران زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

قاتلانہ حملے میں جامعہ کراچی کے طالب علموں کے ملوث ہونے کی اطلاعات کے بعد شہر کی بڑی یونیورسٹیوں کے منتطمین نے اجلاس طلب کیے تھے۔

مزید جانئیے: ایم کیو ایم پاکستان رہنما خواجہ اظہار قاتلانہ حملے میں محفوظ، دو افراد جاں بحق

کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد اجمل خان کی سربراہی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں جامعہ کے سینڈیکیٹ، اکیڈمک کونسل کے اراکین، تمام شعبہ جات کے ڈینز اور رجسٹرار نے شرکت کی تھی۔

اجلاس کے دوران کچھ شرکاء نے تجاویز دیں تھی کہ جامعہ میں داخلے کے وقت طالب علم متعلقہ تھانے سے کلیئرنس فارم کی تصدیق کرا کر اپنی دستاویزات کے ساتھ جمع کرائیں اور اگر کوئی طالب علم یہ دستاویزات جمع نہیں کراتا تو اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔

اس کے اگلے ہی روز چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کراچی یونیورسٹی کے طلبہ کا ڈیٹا حساس اداروں کو دینے اور داخلے کے لیے پولیس سے کیریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی تجویز کی مخالفت کردی۔

6 ستمبر کو وائس چانسلر کے نام لکھے گئے خط میں چیئرمین سینیٹ نے لکھا تھا کہ انہیں طلبہ کا ڈیٹا حساس اداروں کو دینے سے متعلق خبروں سے دھچکا پہنچا ہے جبکہ پولیس اسٹیشن سے کیریکٹر سرٹیفکیٹ جمع کرانے جیسے اقدامات سے طلبہ میں بے چینی اور خوف بڑھے گا۔

 


News Source

جامعہ کراچی میں دہشت گردوں کا کوئی ونگ نہیں چل رہا: وائس چانسلر