Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

'پہلے میڈیا سینسر شپ اب یہ سلوک کون سا انصاف ہے'

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو اڈیالہ جیل سے بکتر بند گاڑی میں احتساب عدالت لانے کی مذمت کرتے ہوئے اس کو تضحیک آمیز سلوک قرار دے دیا۔

ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ آج اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے اور نواز شریف کے ساتھ تضحیک آمیز سلوک کی تمام ارکان نے مذمت کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نگران حکومت کی شدید مذمت کرے گی کیونکہ جس لیڈر سے عوام محبت کرتے ہیں ان سے یہ سلوک کیا جارہا ہے جبکہ جس نے آئین توڑا اس کے لیے کوئی قانون حرکت میں نہیں آتا۔

نگراں حکومت کے اس فیصلے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی پارٹی نے اس کے لیے احتجاج کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ رویہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے، انصاف کے عمل دار اس رویے کو ختم کروائیں۔

مریم اورنگ زیب نے کہا کہ پہلے میڈیا سینسر شپ اب یہ سلوک کون سا انصاف ہورہا ہے حالانکہ فیصلے میں جج نے خود لکھا ہے کہ نواز شریف پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ جو جرم ثابت نہیں ہوا اس پر قائد اور اس کی بیٹی کو سزا سنائی گئی۔

پارٹی کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ نتائج کے حصول پر ارکان پر ایف آئی آر درج ہوئی ہیں اور اس سے قبل نواز شریف کی لندن سے واپسی پر سینئر قیادت پر دہشت گردی کی آیف آئی آر کاٹی گئی ہیں ان سب کو ختم کر دیا جائے۔

سابق وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ میڈیا کو فری ٹرائل کی اجازت دی جائے۔

انھوں نے کہا کہ پارٹی صدر شہباز شریف نے دو دن بعد پارٹی کا اجلاس بلایا ہے۔

‘کئی آزاد ارکان نے ایسی باتیں کیں جو میں بیان نہیں کرسکتا’

مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں تاریخ کی بدترین دھاندلی ہوئی ہے لیکن آج ہم نے حلف اٹھایا ہے اور ہم والہانہ کردار ادا کریں گے جس کے لیے قوم نے ہمیں منتخب کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر اور وزیر اعظم کا انتخاب کے مراحل جب اختتام کو پہنچیں گے تو اس کے بعد مسلم لیگ (ن) اجلاس میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی اور اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ بھرپور اپوزیشن کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کروائیں گے، ہمیں بطور مضبوط سیاسی جماعت اپنا کردار ادا کرنا ہے،
قومی مسائل پر پوری قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے اور مسلم لیگ (ن) متحریک سیکریٹریٹ تیار کرے گی اور مکمل تیاری کے ساتھ پارلیمنٹ میں بحث میں حصہ لیا کریں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ اتحاد میں طے ہوا ہے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے تمام ارکان اپنے امیدوار کی حمایت کریں اور خفیہ رائے شماری سے اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہونا ہے جس کے لیے درخواست ہے کہ جو ہمارا متفقہ امیدوار ہوگا اس کو اپنا ووٹ امانت سمجھ کر دینا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم پارٹی ڈسپلن کو بھی دیکھیں گے، ناراض ارکان کو منائیں اور اپنے امیدوار کو راضی کرنا ہے، وزیر اعظم کے لیے خفیہ رائے شماری نہیں ہوگی پوری دنیا وہ دیکھے گی۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ہم نے جس آزاد رکن سے رابطہ کیا تو اس نے آنکھیں دکھائیں اور کئی آزاد ارکان نے ایسی باتیں کیں جو میں یہاں بیان نہیں کرسکتا۔

ذرائع کے مطابق پارٹی اجلاس میں اراکین نے دھاندلی کے خلاف بھرپور احتجاج نہ کرنے پر شکایت کی اور کہا کہ حلف برادری کے دوران پیپلز پارٹی کے ارکان نے بلاول کے آنے پر نعرے لگائے اور ہم چپ بیٹھے رہے۔

اجلاس میں خاتون رکن نے کہا کہ شرمندگی کی بات ہے کہ نواز شریف آتے ہیں تو ہم بابر نہیں نکلے، نواز شریف جیل چلے گئے، ہسپتال گئے پھر عدالت آئے اور ہم یہاں بیٹھے ہیں۔

‘کالی پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شریک ہوں گے’

ذرائع کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے 15 اگست کو احتساب جانے کا اعلان کرتے ہوئے ارکان کو ہدایت کی کہ 15 اگست کو میاں نواز شریف کو احتساب عدالت لایا جائے اس وقت سب ارکان احتساب عدالت پہنچ جائیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ پہلے احتساب عدالت جائیں گے اور پھر اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ 15 اگست کو کالی پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شریک ہوں گے۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران مریم اورنگ زیب کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں اسپیکر کے انتخاب پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان الائنس فار فری اینڈفئیر الیکشن کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اسپیکر کے امیدوار خورشید شاہ ہیں اور اتحاد کی کمیٹی وائٹ پیپر بھی جاری کرے گی۔

انتخابات میں دھاندلی کے خلاف احتجاج کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ہم کنٹینر پر نہیں چڑھے اس لیے ہمارا پارلیمان میں جانے کا مقصد کچھ اور اس حوالے سے آئندہ کا مشترکہ لائحہ عمل بنائیں گے۔

قبل ازیں سینیٹر ڈاکٹر آصف کرمانی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ آج نواز شریف کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا، وہ شخص جو 3 بار وزیر اعظم رہا جس نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا اس کے ساتھ ناروا سلوک اپنایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ نگران حکومت کے لیے باعث شرم ہے کہ آج دہشت گرد کی طرح نواز شریف کو نیب عدالت میں لایا گیا۔

آصف کرمانی نے کہا کہ نگران حکومت اپنے طور طریقے بدلے، سب جانتے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوئی تو پھر کیا وجہ ہوئی کہ انہیں بکتر بند گاڑی میں لایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نگران حکومت نواز شریف کو کم از کم سابق وزیر اعظم کا پروٹوکول تو دیں۔


News Source

'پہلے میڈیا سینسر شپ اب یہ سلوک کون سا انصاف ہے'