Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

علی رضا عابدی کا قتل، گارڈ زیر حراست

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سابق رکن علی رضا عابدی کے قتل کا مقدمہ درج نہیں ہوسکا ہے تاہم ان کے گارڈ کو حراست میں لے لیا گیا۔

کراچی کے علاقے ڈفینس میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ایس پی جنوبی پیر محمد شاہ کا کہنا تھا کہ علی رضا عابدی کے قتل کا مقدمہ ان کے والد کے فیصلے کے بعد درج کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ علی رضا عابدی کا گارڈ تربیت یافتہ نہیں تھا، اور اسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ایس ایس پی پیر محمد شاہ نے یہ بھی کہا کہ سیکیورٹی گارڈ کا نام قدیر ہے اور اس کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے جسے علی رضا عابدی نے 2 سے 3 ماہ قبل ہی ملازمت پر رکھا تھا۔

مزید پڑھیں: کراچی: فائرنگ سے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی جاں بحق

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ علی رضاعابدی معمول سے قبل ہی کل گھر پہنچ گئے تھے کیونکہ انہوں نے اپنی بیٹی کو عشایے کے لیے لے کر جانا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی نوعت دیکھنے کے باوجود ان کے گھر والوں نے کسی کے بھی خلاف شک و شبے کا اظہار نہیں کیا۔

ایس ایس پی نے کہا کہ اس قتل کے پیچھے محرکات کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا، اس قتل کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ جائے وقوعہ سے تمام شواہد جمع کر لیے گئے ہیں جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیجز سے بھی مدد لی جارہی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ ان کےموبائل کا بھی فرانزک کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ 25 دسمبر کو کراچی کے علاقے ڈیفننس میں نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے علی رضا عابدی کو زخمی کردیا تھا جنہیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔

یہ بھی دیکھیں: علی رضا عابدی پر فائرنگ کی سی سی ٹی وی ویڈیو

ادھر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر علی رضا عابدی کے والد نے ایک پیغام میں کہا کہ ان کے بیٹے کو سفاکی سے قتل کردیا گیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس نے بھی ان کے قتل کا حکم دیا اس پر ساری زندگی ایک شریف آدمی کے قتل کی وجہ سے لعنت پڑتی رہے گی۔

ایک اور پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں امن و امان بحال کرنے کی کوششوں کی وجہ سے وہ کسی کے لیے تکلیف کا باعث بن رہے تھے، اور اس کے علاوہ ان کے قتل کی کوئی دوسری وجہ نہیں دکھائی دیتی۔


News Source

علی رضا عابدی کا قتل، گارڈ زیر حراست

تبصرہ کریں