Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

’وزیر اعظم کی بہن کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالا جائے‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خانم کی بیرون ملک جائیداد کے انکشاف پر ان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا نام بھی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا مطالبہ کردیا۔

کراچی میں سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پر الزام تراشی کرنے والوں کا مقدر شرمندگی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا اور حکومت کو براہ راست نام بھیجے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا اصل مقصد صوبے سندھ کی حکومت ختم کرنا تھا کیونکہ پی ٹی آئی کے وزرا کے سندھ حکومت کے خلاف بیانات آرہے ہیں۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا علیمہ خانم کو 2 کروڑ 94 لاکھ روپے جمع کروانے کا حکم

انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبہ سندھ کی حکومت کارکردگی میں سب سے آگے ہے۔

پی پی پی رہنما نے وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خانم کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نہ کاروبار نہ محنت مزدوری آخر اتنی جائیداد کا ماجرا کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے قوم کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی، لوگ غریبوں کے علاج کے لیے پیسے دیتے تھے، صدقہ اور خیرات کی رقم غریبوں کی امانت تھی۔

صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ بیرون ملک جائیداد کے انکشاف پر علیمہ خانم کے خلاف جے آئی ٹی بنائی جائے جو عمران خان اور ان کی ہمشیرہ کے خلاف تحقیقات کرے۔

انہوں نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب کی تقرری پر سوال کرتے ہوئے بتایا کہ شہزاد اکبر عمران خان کے ذاتی ملازم ہیں اور ان کی تقرری پر نیب کو بھی عدم اعتماد ہے جبکہ یہ دوسرے سیف الرحمٰن بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم علیمہ خان کے اثاثوں کے ذرائع سامنے لائیں،حمزہ شہباز

خیال رہے کہ حکومت نے جے آئی ٹی کی سفارشات پر جعلی اکاؤنٹس کیس میں نامزد 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے دیا تھا۔

مذکورہ فہرست میں وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیرِاعلیٰ قائم علی شاہ اور معروف کاروباری شخصیت ملک ریاض کا نام تھا۔

بڑے نام ای سی ایل میں شامل ہونے کے بعد سیاسی منظر نامے میں ہلچل مچ گئی جس کے بعد چیف جسٹس نے بھی اس حکومتی اقدام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس پر نظر ثانی کا حکم دیا۔

بعدازاں معاملہ وفاقی کابینہ میں زیرِبحث لایا گیا اور کابینہ نے نام ای سی ایل میں شامل ناموں کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی بنادی۔


News Source

’وزیر اعظم کی بہن کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالا جائے‘