Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

سانحۂ ساہیوال کی جے آئی ٹی رپورٹ آج پیش کی جائے گی


سانحۂ ساہیوال کے اصل حقائق جاننے کے لیے بنائی جانے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) منگل کو اپنی رپورٹ وزیرِ اعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار  کو پیش کر رہی ہے۔

حکومتِ پنجاب نے سانحے کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی جے آئی ٹی کو تحقیقات مکمل کرنے کے لیے 72 گھنٹوں کا وقت دیا تھا جو منگل کی شام پانچ بجے ختم ہو جائے گا۔

وزیرِ اعلٰی پنجاب عثمان بزادار نے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ رپورٹ کی روشنی میں ہی ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔

وزیرِ قانون پنجاب راجہ بشارت نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وزیرِ اعلٰی پنجاب نے جے آئی ٹی کی رپورٹ ملنے کے فوری بعد اعلٰی سطح کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں ان کے بقول جے آئی ٹی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا۔

راجہ بشارت کا کہنا کہ تھا واقعے میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے اور متاثرین کو انصاف ملے گا۔

“یہ واقعہ دہشت گردی ہے یا نہیں، جے آئی ٹی رپورٹ آنے سے پہلے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اگر حکومت جے آئی ٹی رپورٹ سے مطمئن نہ ہوئی تو اُس کا فیصلہ وزیرِ اعلٰی کریں گے۔ ہو سکتا ہے کہ مطمئن نہ ہونے کی صورت میں وزیرِ اعلٰی پنجاب عثمان بزدار جوڈیشل کمیشن بنادیں کیوں کہ یہ ان کی صوابدید پر ہو گا۔”

سانحے کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی جے آئی ٹی کے ارکان نے پیر کو صوبۂ پنجاب کے ضلع ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر جائے وقوعہ کا دروہ کیا تھا۔

محکمۂ داخلہ پنجاب نے سانحۂ ساہیوال پر بننے والی جے آئی ٹی کی مدد کے لیے پیر کو پولیس افسران پر مشتمل ایک اور انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔

سانحے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

سانحۂ ساہیوال کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس سے جواب طلب کرلیا ہے۔

درخواست پیر کو دائر کی گئی تھی جس کی سماعت منگل کو لاہور ہائی کورٹ میں ہوئی۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل صفدر شاہین پیرزادہ نے مؤقف اختیار کیا کہ سانحہ کی اصل حقیقت جاننے کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

اس پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سردار شمیم نے ریمارکس دیے کہ یہ مفاد عامہ کا مسئلہ ضرور ہے لیکن بظاہر یہ اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے درخواست گزار کو وفاقی حکومت سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی جب کہ آئی جی پنجاب کو 24 جنوری کو طلب کرلیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے محکمۂ انسدادِ دہشت گردی پنجاب (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے پنجاب کے وسطی ضلع ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں خلیل، ان کی اہلیہ نبیلہ، ان کی 13 سالہ بیٹی اریبہ اور کار ڈرائیور ذیشان ہلاک ہوگئے تھے۔

فائرنگ سے کار میں سوار 10 سالہ عمر خلیل، سات سالہ بچی منیبہ اور پانچ سالہ ہادیہ کو بھی زخم آئے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق اس واقعے کے بعد بغیر نمبر پلیٹ کی ایلیٹ فورس کی  گاڑی زندہ بچ جانے والے بچوں کو پہلے ساتھ لے گئی تھی جنہیں بعد میں پولیس نے قریبی پیٹرول پمپ پر چھوڑ دیا تھا۔

پولیس نے ابتداً دعویٰ کیا تھا کہ مارے جانے والے افراد دہشت گرد تھے جنہیں مزاحمت پر گولیاں ماری گئیں۔ تاہم واقعے کی وقت کی ویڈیوز اور بچوں اور عینی شاہدین کے بیانات نے پولیس کے دعووں کی نفی کردی تھی۔

واقعے کی خبریں نشر ہونے کے بعد اس پر ملک بھر میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے حکومت سے واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی عام افراد واقعے کے ذمہ داران کو سخت سزا دینے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

News Source

سانحۂ ساہیوال کی جے آئی ٹی رپورٹ آج پیش کی جائے گی

تبصرہ کریں