Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

کراچی میں ماسٹر پلان کیخلاف بنی ہر عمارت گرادیں،سپریم کورٹ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی:سپریم کورٹ نےکراچی میں ماسٹر پلان کیخلاف بنی ہرعمارت گرادیں،بندوق اٹھائیں یا کچھ اور کریں،عدالتی فیصلے پر عمل کریں۔

منگل کو سپریم کورٹ میں شہر قائد میں غیر قانونی شادی ہال، شاپنگ مال، پلازوں کی تعمیرات کے معاملہ پر  بڑی عدالت کا بڑا فیصلہ آگیا۔

جسٹس گلزار احمد سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں غیر قانونی شادی ہال، شاپنگ مال، پلازوں کی تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت میں ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی افتخار قائمخانی پربرہم ہوگئے۔

جسٹس گلزار نے کہا کہ کام نہیں کر سکتے تو عہدے پر کیوں چمٹنے بیٹھے ہو،آپ کا چپڑاسی ارب پتی نہیں تو کروڑ پتی ضرورہے،  شہر کو لاوارث، جنگل اور گٹر بنا دیا ہے،اس شہر کا حال دیکھ کر کسی کو شرم آتی ہے ، جوعمارت اصل ماسٹر پلان سے متصادم ہے، جائیں اور گرائیں۔

 عدالت نے ریمارکس دیئے کہ شہر کو 40 سال پہلے والی پوزیشن میں بحال کریں،چاہیں کتنی عمارتیں ہوں سب گرائیں، پارک،کھیل کے میدان،اسپتالوں کی سب اراضی واگزار کرائیں،آپ لوگوں نے کیا چوڑیاں پہن رکھی ہیں۔

سب نے ملی بھگت سے مال بنایا،شہر تباہ کرڈالا،گلی گلی میں شادی ہال، شاپنگ سینٹر، پلازوں کی اجازت دے کون رہا ہے، کیا اس شہر کو وفاق کے حوالے کر دیں جس پرافتخار قائمخانی نے کہا کام ہو رہا ہے، فیصلے پر عمل کریں گے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کم سے کم بولیں، آپ کو فارغ کر دیتے ہیں،آنکھیں بند کر کے بیلنس بڑھا رہے ہیں،دبئی، امریکا میں مال جمع ہو رہا ہوگاجس پر افتخار قائمخانی نے کہا معافی چاہتا ہوں، آئندہ فیصلے پر عمل ہوگا۔

جسٹس گلزار نے کہا معافی کیسی، کیا نہیں معلوم اب بھی شادی ہالز کی اجازت دے رہے ہیں، قیوم آباد، فیڈرل بی ایریا، ناظم آباد ہر طرف شادی ہال بنا ڈالے ہیں،آپ اور آپ کے افسران آگ سے کھیل رہے ہیں، بس پیسہ چاہیے، کوئی خیال نہیں اس شہر کا، کبھی دیکھا آپ کے افسران کتنی عیاشیوں میں رہ رہے ہیں۔

 سپریم کورٹ نے 4ہفتوں میں جام صادق علی پارک،عبداللہ جیمخانہ اورکے ایم سی سے فوری تجاوزات کے خاتمے کا بھی حکم دیا۔

عدالت نے ایس بی سی اے کے مالی معاملات پر اکاؤنٹنٹ جنرل سے بھی  رپورٹ طلب کرلی۔

عدالت نے شہر میں رہائشی گھروں کے کمرشل مقاصد،شادی ہال، شاپنگ سینٹر،، پلازوں کی تعمیر پر بھی پابندی عائد لگادی۔

عدالت نے 30،40 سال کے دوران بننے والے شادی ہال،شاپنگ سینٹر اور پلازوں کی تمام تر تفصیلات طلب کر لیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ بندوق اٹھائیں، کچھ بھی کریں،عدالتی فیصلے پر ہر حال میں عمل کریں، عمل نہ ہوا تو ڈی جی ایس بی سی اے افتخار قائمخانی کو گھر بھیج دیں گے،عدالت نے چیف سیکرٹری کو ذاتی  حیثیت میں طلب کر لیا۔


News Source

کراچی میں ماسٹر پلان کیخلاف بنی ہر عمارت گرادیں،سپریم کورٹ