Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

پیپلزپارٹی نےبینظیرقتل کیس کا فیصلہ لاہورہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

راولپنڈی: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے سابق چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے قتل کیس کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں چیلنج کردیا۔

سابق صدر اور بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کی مدعیت میں پیپلز پارٹی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے رجسٹرار آفس میں تین اپیلیں دائر کیں۔

بینظیر قتل کیس کے فیصلے کے خلاف دائر ایک اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس فیصلے میں پولیس افسران کو محض 17، 17 سال کی سزا دی گئی جبکہ قتل کی دفعات میں صرف سزائے موت دی جاتی ہے۔

پیپلز پارٹی کی دوسری اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت نے جن ملزمان کو بری کیا ہے ان پر سزائے موت کی دفعات لگتی ہیں لہٰذا انہیں بھی سزا دی جائے جبکہ تیسری اپیل میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو اس کیس میں سزا دینے کی درخواست کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: بہتر سیکیورٹی ہوتی توبینظیر بھٹو کا قتل روکنا ممکن ہوتا، عدالت

بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما اور وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے ملزمان کو دی گئی سزا میں سزائے موت کا ذکر موجود نہیں ہے۔

لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے بینظیر بھٹو قتل کیس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے تحت ملزمان کی بریت اور سزا پانے والے ملزمان کی سزا میں نرمی کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کی ہیں۔

پیپلز پارٹی نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ بینظیر بھٹو کو پوائنٹ بلینک رینج سے نشانہ بنایا گیا اور انہیں گولی ماری گئی، لہذا جن ملزمان کو بری کیا گیا ہے انہیں بھی سزا دی جائے۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ اُس وقت کے صدرِ پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو کو قتل کی دھمکیاں دی تھیں اور ان کی سیکیورٹی ختم کردی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بے نظیر قتل کیس: پرویز مشرف پر فردِ جرم عائد

ان کا مزید کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو نے امریکی صحافی مارک سیگل کو کی گئی ایک ای میل میں اپنی سیکیورٹی خدشات کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار جنرل (ر) پرویز مشرف ہوں گے۔

یاد رہے کہ 27 دسمبر 2007 کو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کے بعد خود کش حملہ اور فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا، اس حملے میں 20 دیگر افراد بھی جاں بحق ہوئے تھے۔

رواں برس 31 اگست کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بینظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ سنایا تھا، جس کے مطابق 5 گرفتار ملزمان کو بری کردیا گیا جبکہ سابق سٹی پولیس افسر (سی پی او) سعود عزیز اور سابق سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) خرم شہزاد کو مجرم قرار دے کر 17، 17 سال قید کی سزا اور مرکزی ملزم سابق صدر پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دے دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اس کیس میں سزا پانے والے پولیس افسران نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

جبکہ پیپلز پارٹی اور مرحومہ بےنظیر بھٹو کے بچوں نے بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔


News Source

پیپلزپارٹی نےبینظیرقتل کیس کا فیصلہ لاہورہائیکورٹ میں چیلنج کردیا