Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

ہزارہ برادری کا دھرنا جاری، وزیر اعظم سے براہ راست ملاقات پر اصرار

شیعہ ہزارہ برادری کے لوگوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہزارہ برادری کے لوگوں پر خودکش حملے روکنے کے لئے عملی اور ٹھوس اقدامات اُٹھائے جائیں۔

شیعہ ہزارہ برادری کے لوگوں پر گزشتہ جمعے کو کو ئٹہ کے نواحی علاقے ہزار گنجی میں سبزی و فروٹ منڈی میں خودکش حملہ کیا گیا جس میں بیس افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں ہزارہ برادری کے 8 لوگ بھی شامل تھے۔ اس حملے کے خلاف ہزارہ برادری کی سیکڑوں خواتین اور مرد کو ئٹہ شہر کے مغر بی علاقے میں دھرنا دئیے بیٹھے ہیں۔

پیر کو وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما سردار اختر مینگل اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے دھرنے کے شرکاء سے اظہار یکجہتی کیا۔

وفاقی وزیر شہریار آفرید ی نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ جو بھی اس دھماکے میں ملوث ہو گا ریاست اُس کے خلاف بھرپور کاروائی کرے گی۔ اُن کے بقول وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ریاست نے ہزارہ برادری پر حملے کر نے والوں میں سے کسی کو گرفتار نہیں کیا وہ غلط ہیں۔ 27 لوگوں کو فوجی عدالتوں سے سزائیں دی گئیں اور پورے ملک میں دہشتگردوں کے خلاف کاروائی کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ نو ماہ تک خاموشی رہی مگر بدقستمی سے دہشت گردوں کو ایک موقع مل گیا اور اُنہوں نے وار کیا۔

شیعہ ہزارہ برادری کے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم خود کو ئٹہ آ کر برادری کے مطالبات سُن لیں جس کے بعد دھرنا ختم کرنے پر غور کیا جائے گا۔ اس مطالبے پر سوشل میڈیا کے ذریعے سرکاری ذرائع نے یہ پیغام دیا ہے کہ عمران خان کی جمعرات 18 اپریل کو کو ئٹہ آمد متوقع ہے ۔

ہزارہ برادری کی طرف سے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کے کو ئٹہ کے دورے اور ہزارہ برادری کے لوگوں سے ملاقاتوں پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ بعض سخت موقف رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ہزارہ برادری کی نسل کشی کو روکنے کے لئے وفاقی حکومت، سیکورٹی کے ادارے، سیاسی جماعتیں اور سوشل سوسائٹی کے لوگ اُن کی زندگی کو محفوظ بنانے کے لئے پورے ملک کی سطح پر تحریک چلائیں اور لوگوں میں شیعہ ہزارہ برادری کے بارے میں غلط تصورات کو ختم کرنے میں مدد کی جائے ۔

شیعہ ہزارہ برادری پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری مشرق وسطیٰ میں بر سر پیکار داعش اور اُس کے اتحادی کالعدم لشکر جھنگوی کی طرف سے قبول کر لی گئی تھی۔ بعض سخت گیر موقف رکھنے والے مذہبی شدت پسند پہلے بھی شیعہ ہزارہ برادری کے لوگوں پر حملے کرتے رہے ہیں اور اُن کی ذمہ داری بھی قبول کرتے رہے ہیں۔


News Source

ہزارہ برادری کا دھرنا جاری، وزیر اعظم سے براہ راست ملاقات پر اصرار