Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

آرتھر نے شکست پر طیش میں آنے کا اعتراف کرلیا

باتیں سخت مگر حقیقت پر مبنی تھیں،میڈیا رپورٹس میں سنسنی پھیلائی گئی
۔فوٹو؛فائل

باتیں سخت مگر حقیقت پر مبنی تھیں،میڈیا رپورٹس میں سنسنی پھیلائی گئی
۔فوٹو؛فائل

 کیپ ٹاﺅن: ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے جنوبی افریقہ سے پہلے ٹیسٹ میں شکست پر طیش میں آنے کا اعتراف کرلیا۔

مکی آرتھر نے کہاکہ سنچورین میں ہم میچ کا کنٹرول سنبھالنے سے صرف ایک گھنٹے کی دوری پر تھے مگر موقع گنوا دیا، میری باتیں سخت ضرور مگر حقیقت پر مبنی تھیں، کچھ میڈیا رپورٹس میں سنسنی پھیلائی گئی۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار ایک جنوبی افریقی ویب سائٹ کو انٹرویو میں کیا۔

جنوبی افریقہ سے پہلے سنچورین ٹیسٹ میں بیٹنگ لائن کی ناکامی پر مکی آرتھر کے ڈریسنگ روم میں کھلاڑیوں پر چیخنے چلانے اور چیزیں اٹھاکر پھینکنے کی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔ اس حوالے سے انھوں نے کہا کہ زیادہ تر رپورٹس میں سنسنی پھیلائی گئی، ہم نے ویسے ہی بات کی جیسے عام طور پر کرتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ میں غصے میں آگیا تھا، وہ بھی اس لیے کہ میں محسوس کرتا تھا کہ ہم اس ٹیسٹ میچ کا کنٹرول سنبھالنے سے صرف ایک گھنٹے کی دوری پر تھے۔

دوسرے روز چائے پر ہماری پوزیشن بہتر تھی مگر ہم نے یہ موقع گنوا دیا، ہیڈ کوچ ہونے کے ناطے میں تمام کھلاڑیوں پر ان کاکردارواضح کرچکا اور ایسا ماحول قائم کرنے کی کوشش کرتا ہوں جس میں وہ بہتر پرفارم کریں، اس میں اوسط درجے کے کھیل کی گنجائش نہیں ہے، انھوں نے کہا کہ میں اپنی ٹیم کا ہر میچ جیتنا چاہتا اور ہر چیز سے جذباتی حد تک منسلک ہوتا ہوں، پہلے ٹیسٹ کے دوران انہی جذبات نے مجھے مشتعل کیا، میرے خیال میں مجھے اپنے ان جذبات کو درست سمت میں رکھنے کی ضرورت ہے،میں کھیلنے کے دنوں میں بھی کافی جذباتی ہوتا تھا اور کوچنگ میں بھی ایسا ہی ہے لیکن میں اب خود کو بہتر کوچ سمجھتا ہوں، حقیقت یہ ہے کہ میں نے پلیئرز کے ساتھ سخت ضرور مگر صاف بات کی تھی۔

ٹیم کی کمانڈ سنبھالنے سے قبل کلچرکو سمجھنا زیادہ ضروری تھا، آرتھر

ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہا ہے کہ میں نے جنوبی افریقہ کے بعد آسٹریلیا کی کوچنگ سے ایک بات سیکھی کہ کسی بھی ٹیم کی کمانڈ سنبھالنے سے قبل اس کے کلچر کو سمجھنا زیادہ ضروری ہے، اس لیے جب میں نے پاکستان ٹیم کی کوچنگ سنبھالی تو فیصلے کرنے سے قبل اس کے ماحول کا اچھی طرح جائزہ لیا، میں کلچر سے ہم آہنگ ہونا ضروری سمجھتا ہوں۔

انھوں نے پاکستان ٹیم کے ساتھ گزرے وقت کو شاندار قرار دیا،کوچ نے کہا کہ ٹیم میں نئے باصلاحیت پلیئرز سامنے آرہے ہیں، شاہین آفریدی بہترین کرکٹر ثابت ہوگا، شاداب خان، فہیم اشرف، فخر زمان اور امام الحق جیسے کرکٹرز عام طور پر دیکھنے کو نہیں ملتے، یہ نوجوان کھلاڑی پاکستان کرکٹ کو آگے لے جائیں گے۔

ورلڈکپ:چیمپئنز ٹرافی والی حکمت عملی ہی اختیار کریں گے، مکی آرتھر

مکی آرتھر نے کہا ہے کہ پاکستانی ٹیم ورلڈکپ میں بھی چیمپئنز ٹرافی والی حکمت عملی ہی اختیار کرے گی، رواں برس انگلینڈ میں شیڈول میگا ایونٹ کے حوالے سے انھوں نے مزید کہا کہ شریک 10 میں سے 8 ٹیمیں ٹائٹل کی حقیقی امیدوار ہیں،یہی اس ٹورنامنٹ کی خوبصورتی بھی ہوگی، جنوبی افریقی ٹیم کافی اچھی ہے، خود ہم سفید بال کے ساتھ اچھا پرفارم کررہے ہیں، انھوں نے کہا کہ میرا کنٹریکٹ ورلڈکپ کے بعد ختم ہوجائے گا، اس کے بعد کیا ہوگا وہ میں نہیں جانتا۔ ٹیسٹ فارمیٹ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ہم اس وقت اس طرز کی رینکنگ میں ساتویں نمبر پر ہیں، سینئر کھلاڑی ریٹائر ہوچکے اور یہ زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل ٹیم ہے، جہاں ہمیں ہونا چاہیے اس پوزیشن پر پہنچنے میں1،2 برس لگیں گے۔


News Source

آرتھر نے شکست پر طیش میں آنے کا اعتراف کرلیا

شناختی عنوان:,